سول سروس امتحان کے نتائج کا اعلان

0

وطن عزیز ہندوستان میں آج بھی سول سروس میں جانے کا خواب کروڑوں نوجوان دیکھتے ہیں، اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ تیاری کرتے وقت دن اور رات کا فرق نہیں دیکھتے، ان کا خواب انہیں سونے نہیں دیتا، رات میں بھی دیر تک تیاری کرتے رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ اتنی تیاری کے بعد نتائج کا انتظار فطری طور پر انہیں بھی رہتا ہے، ان کے گھر والوں اور دوست و احباب کوبھی۔ کامیاب امیدواروں میں اپنا نام دیکھنے کے منتظر طلبا و طالبات کے انتظار کی گھڑیاں آج ختم ہوگئیں، یوپی ایس سی نے سول سروس کے فائنل ریزلٹ 2021 کا اعلان کر دیا ہے۔ اس بار کے نتائج کی خاص بات یہ ہے کہ اول،دوم اور سوم پوزیشن پر خواتین کامیاب رہی ہیں۔ پہلی پوزیشن شروتی شرما نے حاصل کی ہے، دوسری پوزیشن انکتا اگروال اور تیسری پوزیشن گامنی سنگلا کوملی ہے۔ ان خواتین کی کامیابی یہ اشارہ ہے کہ سماج میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے، لڑکیاں لڑکوں سے پیچھے نہیں ہیں، وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر رہی ہیں۔ سول سروس کے فائنل کے نتائج سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کو کیوں اتنی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ شروتی نے سینٹ اسٹیفنس کالج سے گریجویشن کے بعد پوسٹ گریجویشن جے این یو سے کیا جہاں کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ سول سروس کی تیاری کے لیے اچھا ماحول ہے، البتہ شروتی شرما نے سول سروس کی باضابطہ تیاری جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ریسیڈنشیل کوچنگ اکیڈمی میں کی۔ اس سال جامعہ ریسیڈنشیل کوچنگ اکیڈمی سے شروتی شرما سمیت 23 امیدواروں نے سول سروس میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس سے اس کوچنگ کی اہمیت بڑھے گی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وہ ساکھ اور مضبوط ہوگی جس کے لیے وہ جانا جاتا ہے۔
بات اگر مسلم امیدواروں کی کامیابی کی کی جائے تو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اس بار ان کی کامیابی کا فیصد کچھ کم رہا ہے۔ یوپی ایس سی کے سول سروس کے کل 685 کامیاب امیدواروں میں 23 مسلم امیدوار ہی کامیاب ہوئے ہیں۔ مطلب یہ کہ 4 فیصد سے بھی کم مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے، یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے تاکہ اس بات کا پتہ کیا جاسکے کہ زیادہ مسلم امیدواروں کے کامیاب نہ ہونے کی وجہ کیا حالات رہے یا وجہ یہ تھی کہ ان کی تیاری ہی شاندار نہیں تھی۔ گزشتہ برسوں کے نتائج پر اگر غور کریں تو2020 کے سول سروس امتحان میں 761 امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ ان میں کامیاب مسلم امیدواروں کی تعداد 31 تھی یعنی مسلم امیدواروں کی کامیابی کا اوسط 4.07 تھا۔ یہ اوسط اس سال کے کامیاب مسلم امیدواروں کے اوسط سے بہتر تھا۔ اس کے علاوہ 2020 کے سول سروس امتحان میں 3 مسلم امیدوار 100 رینک کے اندر تھے۔ ان میں سب سے اچھی پوزیشن صدف چودھری نے حاصل کی تھی۔ وہ 23 ویں نمبر پر رہی تھیں، ان کے بعدفیضان احمد 58 ویں اور دیناہ دستگیر 63 ویں نمبر پر تھے مگر اس بار 100 رینک کے اندر ایک بھی مسلم امیدوار نہیں۔ مسلم امیدواروں میں اس بار سب سے اچھی رینک اریبہ نعمان نے حاصل کی ہے۔ وہ 109 نمبر پر رہیں۔ ان کے علاوہ دو امیدوار اور 100 سے 200 رینک کے درمیان رہے۔ 125 ویں پوزیشن محمد صبور خان نے اور 162 ویں پوزیشن سید مصطفی ہاشمی نے حاصل کی۔ 200 سے 300 رینک کے درمیان 4، 300 سے 400 رینک کے درمیان 5، 400 سے 500 کے درمیان 8 اور 500 سے 600 تک 3 مسلم امیدوار کامیاب رہے۔ مسلم امیدواروں میں آخری پوزیشن انور حسین کی رہی۔ ان کی 600 ویں پوزیشن تھی۔ اگر گزشتہ 3 سال کے یو پی ایس سی سول سروس نتائج پر غور کیا جائے تو مسلم امیدواروں کی کامیابی مسلسل کم ہوئی ہے۔ 2019 کے سول سروس امتحان میں 829 امیدوار کامیاب ہوئے تھے، ان میں 44 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے، ان کی کامیابی کا اوسط 5.3 فیصد تھا۔ اس کامیابی نے شرپسند عناصر کوبوکھلا دیا تھا۔ اس کے بعد سے کامیاب مسلم امیدواروں کی فہرست کم ہو رہی ہے مگر مسلمان جانتے ہیں کہ خواہ مخواہ کسی ادارے کو بدنام کرنا ٹھیک نہیں۔ جو امیدوار محنت کرے گا، وہ کامیاب ہوگا چاہے وہ کسی بھی مذہب و ذات کا ہو مگر یہی بات زیادہ تعداد میں مسلم امیدواروں کے کامیاب ہونے پر بھی سوچی جانی چاہیے، کیونکہ ’یوپی ایس سی جہاد‘ جیسی باتیں کرنے سے ہمارے ادارے ہی بدنام ہوتے ہیں۔
[email protected]