شرمناک انتہائی شرمناک

0

شاہد زبیری

گجرات کی بلقیس بانو کے اہل خانہ کے قتل اور اس کی عصمت دری کے 11 خطرناک مجرموں کی رہائی اور ان کی گل پوشی اور مٹھائی کھلائے جا نے کی شرمناک حرکت نے ایک مرتبہ پھر ہندوستانی سماج کو شرمسارکردیا ہے اور 2018کے ماہ جنوری میں 7 سالہ آصفہ بانو کے شرمناک کیس کی یاد تازہ کردی ہے ۔ 7سال کی آصفہ بانو کے ساتھ جموں وکشمیرکے مندر میںجہاں انسان خود کو بھگوان کی شرن میں محسوس کرتا ہے اس جگہ بھگوان کے گھر میں شیطانوں نے آصفہ بانو کی نہ صرف اجتماعی عصمت دری کی تھی بلکہ اس کو موت کے گھاٹ بھی اتاردیا تھا ۔مندر کے پجا ری اور اس کے بیٹے کے علاوہ ایک پولیس افسر سمیت نصف درجن سے زائد دھرم کے ٹھیکیداروں اور انصاف کے محافظوںکے چہرے بے نقاب ہو ئے تھے اس وقت بھی بی جے پی کے ممبر اسمبلی اوردو وزرا سمیت بی جے پی و ہندوتوا کی علمبردار دوسری ہندو تنظیمیں ملزمان کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئی تھیں افسوس کی بات یہ تھی کہ اس میں خواتین بھی شامل تھیں ۔ یوپی کے بی جے پی کے ایک وزیر کے ہاتھوں ایک خاتون کی عصمت دری کے معاملہ میں بھی بی جے پی اور دگر ہندو تنظیمیں سڑکوں پر اتر آئی تھیں۔ شرم اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بلقیس بانو کے اہل خانہ کے قتل اور اجتماعی عصمت دری کے سزا یافتہ 11 مجرموں کوگجرات کی بی جے پی سرکار نے آزاد کردیا اور دلیل یہ دی کہ ان کو ’ اچھے چال چلن ‘ کی بنیاد پر چھوڑا ہے ، بے شرمی کی حد تو یہ ہے کہ سنگھ پریوار کی کوکھ سے جنم لینے والی اوربی جے پی کی حلیف وشو ہندو پریشد نے ان مجرموں کی گل پوشی کی اور ان کو مٹھائی بھی کھلائی اور اس کے لیڈروں نے ان کے ساتھ فوٹو بھی کھنچوائی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح وشو ہندو پریشد نے سنگین جرائم پر اپنی پسندیدگی کی مہر لگا کرانصاف کو شرمندہ کیا ہے۔
ذرا تصور کیجئے ایک 5ماہ کی حاملہ خاتون اپنی 3سال کی بچی اور اہل خانہ کے ساتھ اپنے گائوں سے جان بچا کر بھاگ رہی ہے گائوں کے کچھ بھیڑئے اس پر اور اس کے گھر والوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں اس کی 3سال کی بچی کو پٹخ کر موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا ہے وہ اسی پر بس نہیں کرتے وہ بلقیس بانو کی عصمت کو تار تار کرتے ہیں وہ چیختی چلّا تی ہے لیکن کوئی اس کی مدد کو نہیں آتا اس ہولناک واردات کے تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔ بلقیس بانو ہمت دکھاتی ہے انصاف کو آواز دیتی ہے اور انصاف کیلئے در بدر بھٹکتی ہے سی بی آئی جانچ پڑتال کے بعد مہاراشٹر کی عدالت مجرموںکو عمر قید کا فیصلہ سناتی ہے ۔ اس فیصلہ سے بلقیس بانو ہی نہیں ہر خاتون کا ہندوستان کی عدلیہ پر جو اعتماد بڑھا تھا وہ ان 11سنگین مجرموں کو آزاد کردئیے جانے سے متزلزل ہوا ہے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ جب پورا ملک آزادی کا جشن منارہا ہوتاہے ہمارے وزیراعظم لال قلعہ کی فصیل سے خواتین کی شان میں قصیدے پڑھتے ہیںاسی دوران سنگین مجرموں کا پنجرہ گجرات سرکار کھول دیتی ہے دلیل دی جاتی ہے کہ ان کو ان کے ’ اچھے چال چلن ‘ کی بنیاد پر چھوڑا گیا ہے سوال یہ ہے کہ آخر سرکار ان مجرموں پر ہی مہر بان کیوں ہوئی ہے کیا گجرات کی جیلوں میں ان 11خطرناک مجرموں کا ہی چال چلن اچھا تھا اور مجرموں کا نہیں تھا۔ صرف ایک سزا یافتہ مجرم گھنشیام نے سپریم کورٹ میں اپنی رہا ئی کی درخواست گزاری تھی جس کو صرف کنسیڈر کرنے کا اختیار سپر یم کورٹ نے گجرات سرکار کو دیاتھا فیصلہ کا اختیار نہیں لیکن گجرات سرکار نے ایک نہیںسارے خطرناک مجرم رہا کردیے ، ان خطر ناک مجرموں کو بھیڑیا کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا آزاد رہ کر یہ بھیڑئے سماج کیلئے خطرہ ہی بنیں گے سرکار 2014کے آرڈر کو کیوں بھول گئی جس میں کہا گیا ہے کہ ’ اچھے چال چلن ‘کی بنیاد پر رہائی کا پروانہ ان کیلئے نہیں ہے جو قاتل ہیں اور عصمتوں کے لٹیرے ہیں۔
ہمارے وزیراعظم نریندر مودی جو ناری کے سمّان میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں حسبِ عادت وہ ا س سانحہ پر بھی چپی سادھے ہوئے ہیںاور پاور فل سمجھے جانے والے ہمارے وزیرداخلہ امت شاہ بھی اس شرمنا ک حرکت پر خاموش ہیں، سنگھ پریوار کے سربراہ موہن بھاگوت کے ہونٹ کس نے سی دئے ہیں اور بی جی پی کا خواتین کا وہ سیل مہر بہ لب ہے جو انتخابات کی مہم کے دوران یہ نعرے لگاتا تھا کہ ناری کے سمان میں بی جے پی میدان کیا ناری کا یہی سمان ہے ۔ کیا اس الزام کو صحیح مان لیا جائے کہ گجرات سرکار نے جو کچھ کیا وہ ہائی کمان کے اشارہ پرگجرات کے ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کیا ہے۔ حیرت ہے کہ قومی خواتین کمیشن نے بھی آنکھ کان بند کر رکھے ہیں اور تمام غیر بی جے پی جماعتوں کو بھی سانپ سونگھ گیاہے سوائے کانگریس کے راہل گاندھی کے جنہوں اس انسانیت سوز اور شرمناک حرکت پر اپنا احتجا ج فیس بک پر درج کرا یا ہے ۔ ترنمول کانگریس کی ممتا بنرجی ہوں یا بی ایس پی سپریمو مایا وتی،سماجوادی پارٹی کے اکھلیش یادو ہوں یا عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال سب کے لبوں پر تالہ ہے آخر ان کو کس کا ڈر کھا رہا ہے۔ خواتین کے حقوق کی لڑائی کا دعویٰ کرنے والی سماجی تنظیمیں کہاں ہیں وہ ہندوستان کی بیٹی بلقیس بانو کیساتھ ہورہی نا انصافی پر گونگی بہری کیوں ہو گئی ہیں ان کی شمعیں کب روشن ہوں گی،راجیو گاندھی کیبنٹ کے قدآور وزیر عارف محمد خان نے شاہ بانو کی ہمدردی میںوزارت کو ٹھوکر ماردی تھی ان دنوں وہ کیرالہ کے عزت مآب گورنر ہیں ان کا دل بھی اس بات پر نہیں پسیجا کہ ہندوستان کی ایک بیٹی بلقیس بانو کیس کے سنگین مجرموں کو گجرات کی بی جے پی سرکار نے پنجرے سے آزاد کردیا ہے لیکن وہ پھر بھی گورنر کی کرسی پر چپکے بیٹھے ہیں، وزارت کی طرح گورنر کی کرسی بھی ان کو چھوڑ دینی چا ہئے تھی ۔
ملّی حلقوں میں عام طور پرسنّا ٹا پسرا ہے۔ ان میں ملّی تنظیموں کے لیڈران کی طرف سے اس شرمناک حرکت کی شدید مذمت کی گئی ہے اور ان کے بیانات سامنے آئے ہیں۔پرو فیسر انجینئر سلیم کی یہ بات عین انصاف کے مطابق ہے کہ اگر ہم جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو بچا نا چاہتے ہیںتو اس فیصلہ کو بدلنا ہوگا۔ ملّی کونسل کے قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم کہتے ہیں کہ گجرات سرکار کو فیصلہ پر نظر ثانی کرنی چا ہئے اور ریپ کے مجرموں کو دوبارہ جیل بھیجاجانا چا ہئے تاکہ عدلیہ کا وقار بحال رہے اور انصاف کے ساتھ نا انصافی ختم ہوسکے۔ ہندوستان جیسے جمہوری اور سیکولر کہے جا نے والے ملک میں جہاں انصاف کی حکمرانی ہے، انصاف کے ساتھ نا انصافی کا یہ شرمناک کھیل بند ہونا چاہئے ا س سے ہمارے ملک کی شبیہ دنیا بھر میں مجروح ہو رہی ہے ۔ امریکی حکومت کے کمیشن نے بھی بلقیس بانو پر جنسی حملہ کرنے والے اور کے خاندان کے افراد کی جان لینے والے مجرموں کی رہائی کے فیصلہ کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ آخر ہندوستان کی بیٹی بلقیس بانویا اس جیسی خواتین ان بھیڑیوں کی ہوس کا کب تک شکار بنتی رہیں گی، آخر مرکزی حکومت ، سیاسی جماعتیں ، خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیمیں اور ادارے اورسول سوسائٹی اس المیہ پر کیوں خاموش ہیں سوال یہ ہے۔
[email protected]