جمہوریت کی بقا کیلئے انتخابی اصلاحات ضروری

0

پنکج چترویدی

اندنوں ملک کی پانچ ریاستوں میں سب سے بڑی طاقت، جمہوریت ہی داؤ پر لگی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے انتخابی وعدے مفت تحائف پر مرکوز ہیں۔ ایم ایل اے-امیدوار وعدہ کر رہا ہے کہ وہ محلے میں نالی بنوائے گا لیکن ضروری یہ ہے کہ عام ووٹر کو بھی بتایا جائے کہ وہ کس امیدوار کو، کس الیکشن میں، کس کام کے لیے ووٹ دے رہا ہے۔ الیکشن تو ریاستی حکومت کو منتخب کرنے کا ہوتا ہے لیکن مسئلہ کبھی مندر تو کبھی ریزرویشن، کبھی گائے اور اس سے آگے ذاتی الزامات-گالی گلوچ۔ اس مرتبہ تو کووڈ ضابطے کی وجہ سے کچھ نئے طریقے سے انتخابات ہو سکتے ہیں لیکن ابھی تک انتخابی تشہیر کی مہم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ لاکھ پابندیوں کے باوجود الیکشن نہ صرف مہنگے ہو رہے ہیں بلکہ سیاسی پارٹیاں جس طرح خود کو پاک صاف اور دوسرے کو چور ثابت کرتی رہی ہیں، اس سے لگتا ہے کہ اصل میں پورے کنویں میں ہی بھانگ گھلی ہوئی ہے۔ جمہوریت کی اصل بنیاد الیکشن کا مکمل نظام ہی معنی خیز ہو گیا ہے اور المیہ یہ ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیاں انتخابی اصلاحات کے کسی بھی قدم سے بچتی رہی ہیں۔
ای وی ایم پر سوال اٹھانا، حقیقت میں جمہوریت کے سامنے نئے چیلنجز کا محض اشارہ ہے، یہ وہ وقت ہے جب انتخابی اصلاحات کی بات کو معاشی اصلاحات کی بہ نسبت زیادہ ترجیح دینا ضروری ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی پارٹی ایمانداری سے انتخابی اصلاحات کی سمت میں کام نہیں کرنا چاہتی ہے۔ افسوسناک تو یہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر ووٹر ابھی اپنے ووٹ کی قیمت اور مختلف منتخب اداروں کے حقوق و فرائض ہی نہیں جانتے ہیں۔ لوک سبھا انتخابات میں محلے کی نالی اور میونسپل الیکشن میں پاکستان کے ایشوز اٹھائے جاتے ہیں۔ آج سب سے بڑی ضرورت تو یہ ہے کہ عام لوگ جانیں کہ ہم ایم ایل اے ریاستی سطح کی پالیسی بنانے کے لیے منتخب کرتے ہیں۔ جیسا کہ امیدوار وعدہ کر رہا ہے کہ فلاں سڑکیں پکی ہوں گی، جبکہ اس سے امید ہے کہ وہ جیتنے کے بعد اسمبلی میں ایسا قانون پاس کروائے جس سے اکیلے ایک خاص علاقے کی ہی نہیں پوری ریاست کی سڑکیں پکی ہو جائیں۔ بہت سے لیڈران ایسے بھی وعدے کر لیتے ہیں جو ان کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہوتے۔ آدھی ادھوری ووٹرلسٹ،کم ووٹنگ، خواندہ متوسط طبقے کی ووٹنگ میں کم دلچسپی، مہنگا انتخابی عمل، طاقتور اور مالداروں کی پکڑ، امیدواروں کی بڑھتی تعداد، ذات-مذہب کی سیاست، الیکشن کروانے کے بڑھتے خرچ، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی- یہ سب ایسی برائیاں ہیں جو صحت مند جمہوریت کے لیے جان لیوا وائرس ہیں اور اس مرتبہ یہ سبھی طاقتور ہوکر ابھری ہیں۔
آج الیکشن سے بہت پہلے بڑے بڑے حکمت عملی بنانے والے ووٹرلسٹ کا تجزیہ کر کے طے کرلیتے ہیں کہ ہمیں فلاں ذات یا سماج کے ووٹ چاہیے ہی نہیں یعنی جیتنے والا علاقے کا نہیں، کسی ذات یا مذہب کا نمائندہ ہوتا ہے۔ یہ الیکشن لوٹنے کے ہتھکنڈے اس لیے کارگر ہیں، کیونکہ ہمارے یہاں چاہے ایک ووٹ سے جیتو یا پانچ لاکھ ووٹ سے، دونوں کے ہی ایوان میں حقوق برابر ہوتے ہیں۔ اگر صدارتی انتخابات کی طرح کسی پارلیمانی حلقے کا کل ووٹ اور اس میں سے حاصل ووٹوں کی بنیاد پر ممبران پارلیمنٹ کی حیثیت، سہولتیں وغیرہ طے کر دی جائیں تو لیڈر پورے علاقے کا ووٹ پانے کے لیے پرعزم ہوگا، نہ کہ صرف گوجر، مسلمان یا برہمن ووٹ پانے کا۔ کابینی وزیر بننے کیلئے یا پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے یا پھر سہولتوں کے تعلق سے منتخب امیدواروں کا ان کو ملے کچھ ووٹوں کی درجہ بندی محترم لوگوں کو نہ صرف سنجیدہ بنائے گا بلکہ انہیں زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے پر مجبور کرے گا۔
اس مرتبہ ہر ریاست میں تھوک میں دل بدلنے والے لیڈروں کی جماعت سامنے آ رہی ہے اور وہ دوسری پارٹی میں جاتے ہی ٹکٹ بھی پا رہے ہیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ کئی سیاسی کارکنان زندگی بھر محنت کرتے ہیں اور الیکشن کے وقت ان کے علاقے میں کہیں دور کا یا تازہ تازہ کسی دیگر پارٹی سے آنے والا امیدوار الیکشن لڑتا ہے اور گلیمر یا پیسے یا پھر ذات کی وجہ سے جیت بھی جاتا ہے۔ ایسے میں سیاست کو دلالی یا دھندہ سمجھنے والوں کی نسل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کا الیکشن لڑنے کے لیے انتخابی حلقے میں کم سے کم پانچ سال تک سماجی کام کرنے کا ثبوت پیش کرنا، اس علاقے یا ریاست میں تنظیم میں منتخب عہدیداروں کی لازمیت ’زمین سے جڑے‘ کارکنان کو ایوان تک پہنچانے میں کارگر قدم ہو سکتا ہے۔ اس سے ’تھیلی شاہوں‘ اور نئے جاگیردارانہ طبقے کی سیاست میں بڑھ رہے دخل کو کچھ حد تک محدود کیا جا سکے گا۔ اس قدم سے ایوان میں کارپوریٹ دنیا کی بہ نسبت عام آدمی کے سوالات کو زیادہ جگہ ملے گی، لہٰذا عام آدمی الیکشن کے حوالے سے اپنے معاملات کو سمجھے گا اور ’کوئی بھی منتخب ہو ہمیں کیا نقصان‘ سوچ کر ووٹ نہ دینے والے متوسط طبقے کی ذہنیت بھی بدلے گی۔
ووٹر لسٹ کی کمیاں ہر ایک الیکشن کے دوران سامنے آتی ہیں۔ گھر گھر جاکر ووٹر لسٹ کی نظرثانی ایک ناکام تجربہ رہا ہے۔ دہلی جیسے بڑے شہروں میں کئی کالونیاں ایسی ہیں جہاں گزشتہ دو دہائیوں سے کوئی ووٹر لسٹ بنانے نہیں پہنچا ہے۔ ملک کے ہر ایک قانونی باشندے کا ووٹر لسٹ میں نام ہو اور وہ ووٹ ڈالنے میں آسانی محسوس کرے، اس کے لیے ایک نظام ڈیولپ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ وہیں پڑوسی ریاستوں کے لاکھوں لوگوں کو اس غرض سے ووٹرلسٹ میں شامل کروایا گیا تاکہ ان کے ووٹوں کی طاقت پر الیکشن جیتا جا سکے۔ اس مرتبہ تو الیکشن کمیشن نے صرف متصل اضلاع سے ووٹرلسٹ ملائی لیکن 40 فیصد بے گھر مزدوروں سے بسی دہلی میں اترپردیش، مدھیہ پردیش، بنگال یا بہار اور دہلی دونوں جگہ ووٹر لسٹ میں نام ہونے کی لاکھوں لاکھ مثالیں ملیں گی۔
انتخابی خرچ کی بابت قانون کی ڈھیروں خامیوں کو حکومت اور سبھی سیاسی پارٹیاں قبول کرتی ہیں لیکن ان کے حل کے سوال کو ہمیشہ کھٹائی میں ڈالا جاتا رہا ہے۔ قومی محاذ کی حکومت میں وزیر قانون دنیش گوسوامی کی سربراہی میں تشکیل کی گئی انتخابی اصلاحات کی کمیٹی کا مشورہ تھا کہ منظور شدہ نیشنل پارٹیوں کو حکومت کی جانب سے گاڑی، ایندھن، ووٹرلسٹ، لاؤڈ اسپیکر وغیرہ مہیا کروائے جانے چاہئیں۔ 1984 میں بھی انتخابی اخراجات پر نظرثانی کے لیے ایک غیرسرکاری بل لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا لیکن نتیجہ وہی ’ڈھاک کے تین پات‘ رہا۔ 1964 میں سنتھانم کمیٹی نے کہا تھا کہ سیاسی پارٹیوں کا چندہ جمع کرنے کا طریقہ الیکشن کے دوران اور بعد میں بدعنوانی کو بے حساب بڑھاوا دیتا ہے۔ 1971 میں وانچو کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ انتخابات میں اندھادھند خرچ کرنا بلیک منی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس رپورٹ میں ہر ایک پارٹی کو الیکشن لڑنے کے لیے سرکاری گرانٹ دینے اور ہر ایک پارٹی کے اکاؤنٹ کا مستقل آڈٹ کروانے کے مشورے دیے گئے تھے۔ 1980 میں راجاچلیا سمیتی کی بھی تقریباً یہی سفارشات تھیں۔ یہ سبھی دستاویز اب بھولی ہوئی کہانی بن چکے ہیں۔
اگست 1998 میں ایک مفادعامہ کی عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے احکامات دیے تھے کہ امیدواروں کے خرچ میں اس کی پارٹی کے خرچ کو بھی شامل کیا جائے۔ احکام میں اس بات پر اظہار افسوس کیا گیا تھا کہ سیاسی پارٹیاں اپنے ٹرانزیکشن اکاؤنٹس کا مستقل آڈٹ نہیں کراتی ہیں۔ عدالت نے ایسی پارٹیوں کے خلاف قانونی کارروائی کے بھی احکامات دیے تھے۔ الیکشن کمیشن جب سخت رخ اپناتا ہے تب سبھی پارٹیاں جلدی جلدی گول مول رپورٹیں جمع کرتی ہیں۔ آج بھی اس پر کہیں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی ہے۔
[email protected]