انتخابات: کسان تنظیموں میں انتشار

0
RRS Urdu

تینوں زرعی قوانین کے خلاف جدوجہد کرنے والی نمائندہ کسان تنظیم سنیکت کسان مورچہ نے اپنی تحریک کسی بھی سیاسی پارٹی سے وابستہ نہ کرنے کا تہیہ کررکھا تھامگر دو کسان تنظیموں نے سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ گرنام سنگھ چدونی نے پنجاب میں الیکشن لڑنے کی منشا بہت پہلے ہی ظاہر کردی تھی اور الیکشن کا اعلان ہوتے ہی انہوں نے نئی سیاسی پارٹی سنیکت سنگھرش پارٹی ایس ایس پی بنانے کا اعلان کردیا تھا مگر کئی کسان تنظیموں نے ان کی اس حرکت کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ ان کی دیکھا دیکھی ایک اور کسان تنظیم سنیکت سماج مورچہ جس کی قیادت بلبیر سنگھ راجیوال کررہے ہیں نے بھی پنجاب میں اپنے امیدوار اتارنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ 30سے زیادہ کسان تنظیموں کی نمائندہ جماعت سنیکت کسان مورچہ نے ان دونوں لیڈروں کو اپنے مورچے سے باہر کرنے کا فیصلہ صادر کیا ہے اور یہی نہیں ان دونوں کی تنظیموں کو بھی اپنی چھتری سے باہر کردیا ہے۔ راجیوال اور گرنام چدونی دونوں مل کر الیکشن لڑنے کی کوشش کررہے تھے مگر دونوں پارٹیوں میں سیٹوں پر مفاہمت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی معاملہ بن نہیں پایا اور اب ان دونوں نے الگ الگ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ دنوں پارٹیاں پنجاب میں ہی برسرپیکار رہیںگی۔ گرنام سندھ چدونی شروع سے ہی انتہائی جارحانہ انداز سے کام کررہے تھے اور انہوں نے کئی مرتبہ ہریانہ کے وزیراعلیٰ سمیت اعلیٰ ترین قیادت کو ناکو چنے چبوا دیے تھے۔ چدونی نے انبالہ میں نہ صرف یہ کہ فوجی قافلوں کو راستہ دینے میں تامل کیا بلکہ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کے قافلے کو بھی راستہ نہیں دیا اور کئی مرتبہ اس معاملے میں پولیس اور کسانوں کے درمیان خوب جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے کئی مرتبہ بڑے بڑے لیڈروں کے خلاف قانونی کارروائی کی مگر چدونی کے تیوروں میں کوئی مفاہمت دکھائی نہیں دی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہریانہ میں کسانوں کی تحریک انتہائی سرگرم اور جارحانہ بن گئی تھی۔ چدونی کے ویڈیو براہ راست ریاستی سرکار اور مرکزی سرکار کے خلاف زہر اگلتے ہوئے وائرل ہوئے۔ ان کے خلاف بڑی تعداد میں مقدمے بھی قائم کیے گئے ہیں۔ 31جنوری کو کسان تنظیمیں اپنی مطالبات پر زور ڈالنے کے لیے احتجاج کا اعلان کرچکی ہیں۔ خیال رہے کہ کسان تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ گزشتہ ایک سال کے اندر تحریک کے دوران کسانوں، کارکنوں اور کسانوں کی تنظیموں کے سربراہوں کے خلاف جو مقدمات درج کیے گئے ہیں ان کو واپس لیا جائے۔ پولیس کارروائی کے دوران جو نقصان ہوا ہے اس کا ہرجانہ دیا جائے اور تحریک کے دوران مرنے والے افراد کے ورثا کو معاوضہ دیا جائے۔ سب سے اہم مسئلہ مقدمات کی واپسی کا ہے۔ کسانوں کو اندیشہ ہے کہ ریاستی سرکاریں خاص طور پر کھٹر سرکار ان کے خلاف مقدمات چلا کر ان کو حیران و پریشان کریںگی۔
بہرحال ایس کے ایم کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کوئی سیاسی تنظیم نہیں ہے اور انہوں نے گزشتہ 12ماہ کے اندر کسانوں کی تحریک کو کسی بھی سیاسی پارٹی کے زیر اثر آنے نہیںدیا۔ لہٰذا پارٹی بناکر الیکشن لڑنا یا کسی پارٹی کے حمایت کا اعلان کرنا ایس کے ایم کے اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ خیال رہے کہ کچھ تنظیمیں یوپی میں بھی بی جے پی کی مورچہ بندی کا اعلان کرچکی ہیں اور اس کو مشن یوپی کا نام دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ ایس کے ایم نے ملک بھر کی 32کسان تنظیموں کی نمائندگی ہے۔