امریکی فوجیو ںکا انخلا

0

  افغانجنگ کی وجہ 9/11کا واقعہ بنا تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے بڑے طمطراق سے یہ اعلان کیا تھا کہ امریکہ دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی شروعات امریکہ نے افغانستان سے کی، کیوں کہ اسے لگتا تھا کہ القاعدہ کے دہشت گردوں نے وہاں پناہ لے رکھی ہے۔ امریکی فوجی افغانستان میں القاعدہ کے لوگوں کو تلاش کرتے رہے مگر اُسامہ کی کہانی ختم کرنے کے لیے انہیں آپریشن ایبٹ آباد میں کرنا پڑا۔ یہ پاکستان کا شہر ہے۔ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہ گیا کہ امریکہ کی افغان جنگ کی سمت کیا ہے اور اس میں اس کی کامیابی کے امکانات کتنے ہیں، کیوں کہ اس جنگ میں اس نے پاکستان کو اپنا ساتھی بنا رکھا تھا اور دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بنانے کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے۔ ممبئی پر ہوئے حملوں اور دیگر دہشت گردانہ حملوںمیں ہندوستان کے پاکستان کو ثبوت پیش کرنے کے باوجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ پہلے حامد کرزئی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی شکایت کیا کرتے تھے، اس کے بعد اشرف غنی کی بھی یہ کوشش رہی کہ پاکستان، افغانستان میں صورت حال خراب کرنے کے لیے اپنی سرزمین کا استعمال نہ کرنے دے مگر پاک حکومت نے کرزئی اور غنی کی بات پر کبھی سنجیدہ توجہ نہیں دی۔ ایسی صورت میں یہ سوال فطری طور پر اٹھتا ہے کہ امریکہ کے فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں حالات کیا ہوں گے؟ کیا عام افغانوں کو ایک بار پھر اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا جیسے حالات کا سامنا انہیں روسی فوجیوں کے جانے کے بعد کرنا پڑا تھا۔
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 15جنوری 2021تک 2000امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلانے کا فیصلہ اپنے ملک کے مفاد میں لیا ہے۔ اس فیصلے کو طالبان نے ایک ’اچھا قدم‘ بتایا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک اچھا قدم ہے اور دونوں ممالک کے شہریوں کے مفاد میں ہے۔‘ ان کے مطابق، ’جتنی جلدی بیرونی فورسز واپس چلی جائیں گی اتنی ہی جلدی جنگ کا خاتمہ ہوگا۔‘ یہ ٹھیک ہے کہ جنگ ختم ہوجائے گی مگر امریکی فوجیوں کے واپس چلے جانے کے بعد افغانستان میں امن بحال ہوجائے گا، اس کی کوئی گارنٹی نہیں، البتہ روس، چین اور پاکستان جیسے ملکوں کے افغانستان پر اثرات بڑھانے کا اندیشہ ضرور رہے گا۔ ایسا ہونے پر حالات بگڑیں گے اور تب یہ احساس ہوگا کہ بہتر تھا کہ امریکہ کے فوجی کچھ اور برس افغانستان میں رہتے، اس وقت تک رہتے جب تک کہ افغانستان کی اپنی ایک مضبوط فوج نہیں تیار ہوجاتی، کیوں کہ افغانستان کے پاس جب تک ایک طاقتور فوج نہیں ہوگی، یہاں دہشت گرد اپنا کھیل جاری رکھیں گے اور وہ ممالک بھی اس کی تباہی میں اہم رول ادا کرتے رہیں گے جو افغانستان کی جغرافیائی پوزیشن کی اہمیت سے اچھی طرح واقف ہیں، جرمنی نے بجا طور پر امریکہ کے فوجیوں کے انخلا کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کی یہ بات ناقابل فہم نہیں ہے کہ اس انخلا سے امن کی کوششوں کو خطرہ پیدا ہوجائے گا مگر ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کے صدر کی توجہ اپنے مفاد کے علاوہ کسی اوربات پر نہیں ہے۔ ان کے لیے افغانستان سے اپنے فوجیوں کو واپس بلاکر افغان جنگ ختم کرنے کا اعلان کردینا ہی بڑی بات ہے۔ امریکہ نے ایسا ہی عراق کے معاملے میں کیا۔ اوباما نے عراقی جنگ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ اپنے فوجیوں کو واپس بلالیا مگر اس بات پر توجہ نہیں دی کہ امریکی فوجیوں کے واپس آجانے پر عراق کی صورت حال کیا ہوگی؟ خانوں میں بٹے عراقی لڑیں گے، عراق میں تشدد کے ایک نئے دور کی شروعات ہوگی تو اس وقت عراق میں امن قائم رکھنے کی ذمہ داری کون ادا کرے گا؟ اس لیے امریکہ کو اگر واقعی عام افغانوں کا خیال ہے، افغانستان کا امن اسے عزیز ہے تو اسے افغانستان سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ افغانستان کی نئی صورت حال کس طرح کی ہوگی۔
وطن عزیز ہندوستان نے افغانوں کا بہت ساتھ دیا ہے۔ ان کی بہت مدد کی ہے۔ ان کے لیے متعدد اہم عمارتوں، سڑکوں کی تعمیر کی ہے۔ افغانستان میں ہندوستان کے پرامن رول کی اہمیت کا احساس افغانوں کو ہے، اس لیے نئے حالات کے لیے حکومت ہند کو تیاری ابھی سے شروع کردینی چاہیے۔ یہ تیاری چین کے بڑھتے دائرئہ اثر کے مدنظر بھی ضروری ہے اور پاکستان کے افغانستان میں مذموم رول کے مدنظر بھی۔
[email protected]
 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS