خیالات پر پہرے

0

کہتے ہیں کہ حکمرانی اپنے ساتھ تنگ نظری بھی لاتی ہے۔ صاحب حکومت اپنے ہر عمل و فعل کو تاریخ کا دھارا موڑدینے والا قدم اور اپنے افکا ر و خیالات کو ہر نقص سے پاک ایک عظیم انقلاب کا خشت اول قرار دیتاہے۔ ان پر کسی طرح کی گرفت اور انگشت نمائی اسے برداشت نہیں ہوتی۔ ’آزادی اظہار رائے‘ اس کی لغت سے یکسر خارج اور تحمل، برداشت و رواداری جیسے الفاظ اجنبی محسوس ہوتے ہیں۔ اپنی پالیسیوں کے نفاذ میں مزاحم قوتوں کو و ہ ملک و قوم کا غدار اور قومی مفادات کا دشمن خیال کرتا ہے۔اپنے معترضین کو پس دیوار زنداں پہنچانا ایک مشغلہ بن جاتا ہے۔ ہندوستان جیسے دنیا کے عظیم ترین جمہوری ملک میں بھی حکمرانی کا یہی چلن سکہ رائج الوقت ہوگیا ہے۔ تنقید و تنقیص ، اختلاف رائے اور اصلاح کی ہر کوشش ملک دشمنی اور قوم سے غداری کہلائی جانے لگی ہے۔ حکمراں طبقہ سے اختلاف رائے ، ان کی غلط کاریوں کی نشاندہی اور اپنی رائے کا بے لاگ اظہار حکومت کے خلاف سازش قرار پارہاہے۔ 21سالہ ماحولیاتی کارکن دشا روی کی گرفتاری سے لے کر آج ایڈووکیٹ نیکیتا جیکب کو ممبئی ہائی کورٹ سے ملنے والی عبوری ضمانت کے درمیان جتنے واقعات سامنے آئے ہیں، وہ سب یہی نشاندہی کررہے ہیں کہ ہندوستان میں اظہار رائے کی آزادی کو شدید اور سنگین خطرہ لاحق ہے۔ آئین کی دفعہ 19(1)میں دی گئی ضمانت اور حق کے باوجود حکمراں طبقہ اسے تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے۔
کسانوں کے مظاہرے سے جڑے ٹول کٹ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں بنگلور کی ماحولیاتی کارکن دشا روی کی گرفتاری کے بعدا ن کی وکیل کے خلاف بھی غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا گیا۔ بنگلور کی 21سالہ دشاروی ماحولیات کی بہتری کیلئے کام کرتی ہیں اور ’ فرائی ڈے فار فیوچر‘ کے نام سے ٹوئٹر ہینڈل چلاتی ہیں۔ دشا روی پرا لزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے کسان تحریک کی حمایت میں بنائی گئی ٹول کٹ کو ایڈٹ کیا اوراسے سوشل میڈیا پرشیئر کیا ہے۔ 4فروری کو بنائے گئے اس ٹول کا تعلق خالصتانی تنظیم سے ہے۔ یہ وہی ٹول کٹ تھا جسے سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھن برگ نے وائرل کیا تھا۔ دہلی پولیس کو سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والے گوگل کے اس چھوٹے سے ٹول کٹ میں ملک سے غداری ، حکومت کے خلاف عدم اطمینان پھیلانے ، بغاوت بھڑکانے ، مذہبی ، معاشرتی اور ثقافتی بنیاد پر مختلف گروہوں کے مابین دشمنی کو فروغ دینے اور پوری انسانیت کے خلاف تعصب کے ساتھ کام کرنے جیسے جرائم کی منظم منصوبہ بندی نظرآئی ہے۔ پولیس کے مطابق دشاروی اس ٹول کٹ کی ایڈیٹر ہیں اوراس دستاویز کو تیار کرنے سے لے کر اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے سازشی ٹولے کی اہم فرد ہیں۔اس ٹول کٹ میں بتایاگیاتھا کہ کسان تحریک میں سوشل میڈیاپرحمایت کیسے جٹائی جائے۔ ہیش ٹیگ کا استعمال کس طرح سے کیاجائے اور مظاہرہ کے دوران کیا کیاجائے اور کیا نہ کیاجائے۔
اس معاملے میں نہ صرف دشا روی کو پس زنداں ڈالا گیا بلکہ ان کے ساتھ ان کی خاتون وکیل نیکیتا جیکب اور کئی دوسروں پربھی ریاستی جبر کے آزمودہ حربے آزمائے جانے لگے۔اس واقعہ سے پورے ملک میں ایک سیاسی طوفان سا آگیا ہے۔ حکومت اوراس کے وزرا دشاروی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی کو حق بجانب ٹھہرا رہے ہیں تو دوسری طرف حزب اختلاف کا الزام ہے کہ حکومت اظہار رائے کی آزادی کو کچلنے میں لگی ہوئی ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی ، پرینکا گاندھی سمیت کئی دوسرے سیاسی رہنمائوں، سماجی کارکنوں، شاعروں، صحافیوں اور لکھاریوں نے اس معاملے میں سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ اصل مسئلہ سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے حکومت عوام کی آوازدبانے کی کوشش کررہی ہے۔حکومت ایک نہتی لڑکی سے ڈر گئی ہے اوراس کی آوازختم کرنا چاہتی ہے۔
کسان تحریک کے سلسلے میں حکومتی موقف سے اب تک یہی پیغام ملتا رہاہے کہ وہ ہرحال میں اسے ختم کرناچاہتی ہے۔ کسانوں کے حامی بھی حکومت دشمن کی صف میں ہی شمار کیے جارہے ہیں۔ اگراس پہلو سے دیکھا جائے تو دہلی پولیس کے اس اقدام کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلینا مشکل ہے۔لیکن جیسا کہ دہلی پولیس بتارہی ہے سوئیڈن کی گریٹا تھن برگ، دشاروی، نیکیتا جیکب اور شانتانوہندوستان دشمنی میں ملوث ہیں تو اس کیلئے اسے یہ ثابت کرنا لازم ہے کہ ان کے اقدام سے ملک کو کیا نقصانات ہوئے ہیں یا کن نقصانات کے خدشات ہیں۔ یہ درست ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی کو بے لگام نہیں ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا کااستعمال بھی ایک حدا ور دائرہ کے اندر ہوناچاہیے۔ کسی کو بھی یہ حق نہیں دیاجانا چاہیے کہ وہ ملک کی سالمیت اور استحکام کیلئے خطرہ بن جائے، آئینی اداروں کو چیلنج کرے اور انتظامی ڈھانچوں کو نقصان پہنچائے لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ اختلاف کی ہر آواز کو ملک دشمنی ہی سمجھا جائے۔ اس معاملے میں حکومت انا اور تنگ نظری کی بلند فصیل پر کھڑی ہے جہاں سے ہر مخالف آواز اسے ملک دشمنی کانقارہ بن کر سنائی دیتی ہے۔ ضرورت ہے کہ صبر وتحمل اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخالفین کو غو ر سے سناجائے اور غلطیوں کی اصلاح کی جائے نہ کہ خیالات پر پہرے بٹھائے جائیں۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS