’کھیلاہو بے‘

0

جمہوری نظام میں انتخاب ایک ایسا عمل ہے جس کے نتیجہ میں کسی خون خرابہ کے بغیر اقتدار کی منتقلی عمل میں آتی ہے۔ یہ انتخاب نظریات، پسند اور ضروریات کو مدنظر رکھ کر عام ووٹر کرتے ہیں۔ ان ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے سیاسی جماعتیں طرح طرح کے حربے استعمال کرتی ہیں۔ان میںبہتر مستقبل کے منصوبے، انہیں یقینی بنانے کیلئے لائحہ عمل، مختلف طرح کے دعوے اور وعدے کیے جاتے ہیں۔ان ترغیبات کو عوام کے ذہن میں اتارنے کیلئے تشہیری مہم، جلسے جلوس، نعرے اور سیاسی بیانات کا سہارا لیاجاتا ہے۔ یہ جمہوری طریقہ انتخاب کا دنیا بھر میں مسلمہ طریقہ ہے لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ ہندوستان بالخصوص مغربی بنگال میں خون خرا بہ اور انسانی لہوکی بھینٹ لیے بغیر آج تک کوئی انتخاب مکمل نہیں ہوپایا ہے۔ بنگال میں اسمبلی انتخاب کی تاریخوں کا اعلان ہونے کے بعد سے تو کوئی دن ایسا نہیں گزررہا ہے کہ کہیں نہ کہیں سے تشدد کی خبر نہ آرہی ہو۔بنگال میں ایک طرف ترنمول کانگریس کو اپنی حکومت بچانے کا چیلنج ہے تو بی جے پی خود کو بنگال کے اقتدار سے چند قدم کے فاصلے پر محسوس کررہی ہے اوراس فاصلہ کو طے کرنے کیلئے اس نے اپنابہت کچھ دائو پر لگادیاہے۔ اس کے ساتھ ہی بایاں محاذ-کانگریس اور نوزائیدہ انڈین سیکولر فرنٹ کا اتحاد بھی انتخابی میدان میں کودکر سیاسی مساوات کو غیر متوازن کرنے کی کوشش میں ہے۔تیسرے فریق کی اہمیت کے باوجود بنگال کے انتخابی میدان میں اصل مقابلہ حکمراں ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتاپارٹی کے درمیان ہے۔ان دونوں پارٹیوں نے انتخاب میں جیت کو اپنے وقارکا مسئلہ بنالیاہے اور ایک دوسر ے کو نیچا دکھانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں۔ سیاسی اخلاقیات کو پائوں تلے روندتے ہوئے ایک دوسرے پر نہ صرف رکیک حملے کررہی ہیں بلکہ ان کے حامی بھی آپس میں دست بہ گریباں ہیں۔بڑے لیڈران بھی ایک دوسرے کو ذلیل کرنے کا کوئی موقع نہیں گنوا رہے ہیں۔انتخابی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ نئے نئے انتخابی نعرے اور جملے بھی وضع کرنے میں دماغ سوزی کی جارہی ہے ا ور ان نعروں کے ذریعہ مخالفین پر حملہ کیاجارہاہے۔
بنگال کی اس سیاسی جنگ میں ان دنوں ایک نیانعرہ ’ کھیلا ہوبے‘بڑی تیزی سے گردش کررہاہے۔ہر جلسہ، جلوس اور انتخابی گانوں میں اس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔یہ نعرہ حکمراں ترنمول کانگریس نے دیا ہے۔ پہلے اس کا استعمال ترنمول کے وزرا اور ارکان اسمبلی ہی کررہے تھے لیکن اب یہ نعرہ وزیراعلیٰ ممتابنرجی کی زبان سے بھی سنائی دے رہاہے۔ ایک جلوس کے دوران وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے بھی کہا کہ ’ کھیلا ہوبے‘ اور ہم کھیلنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آپ تاریخ اور وقت طے کرلیجیے میں چیلنج کرتی ہوں کہ ’ کھیلا ہوبے ‘ کہئے آپ کھیلنا چاہتے ہیں؟ممتابنرجی کے چیلنج اور استفسار کا جواب دینے میں وزیراعظم مودی بھی نہیں چوکے اورا نہوں نے کولکاتا کے بریگیڈ پریڈ گرائونڈ میںاپنی تقریر میں ’ کھیلاہوبے ‘ لفظ کااستعمال کرتے ہوئے کہا کہ بنگال میں ترنمول نے لوگوں کی محنت کی کمائی سے اور ان کی زندگیوں سے کھیلا ہے،لیکن اب یہ کھیل نہیں چلے گا اب بنگال میں ترقی کا کھیل ہوگا۔
ہرچند کہ نعرہ ’ کھیلا ہوبے‘ کے سلسلے میں ترنمول کی دلیل ہے کہ اس کا مطلب انتخاب میں صحت مند سیاسی مقابلہ آرائی کا کھیل ہے لیکن بھارتیہ جنتاپارٹی ’ کھیلا ہوبے‘ کے نعرے کو سیاست میں تشد د سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے اوراس کے خلاف الیکشن کمیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ بی جے پی کاکہنا ہے کہ ’کھیلا ہوبے ‘ کا مطلب پولنگ بوتھ پرقبضہ کرنا، ووٹروں کو ڈرانادھمکانا اور غیر جانبدارانہ انتخاب نہ ہونے دیناہے۔اب حقیقت کیا ہے یہ ایک الگ بحث ہے۔لیکن اس خدشہ سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا ہے کہ اس طرح کے نعروںسے سیاسی کارکنوں میں تشدد کا رویہ فروغ پائے گا اور یہ خدشہ حقیقت کے قریب بھی ہے۔اسمبلی انتخاب سے قبل ہی یہاں تشدد کا کھیل بھی جاری ہے۔ کہیں ترنمول اور بی جے پی کے حامی ایک دوسرے پرحملہ آور ہیں تو کہیں پارٹی دفتر کو جلایاجارہاہے۔کل پیر کو ہی ندیا ضلع کے ہرن گھاٹا میں بی جے پی کے لیڈر سنجے داس کو گولی مار کر ہلاک کردیاگیا۔
انتخاب میں سیاسی پارٹیوں کے درمیان مقابلہ آرائی جمہوریت میں مستحسن نظروں سے دیکھی جاتی ہے لیکن جب اس میں تشدد کا عنصر شامل ہوجائے اور لاٹھی والا بھینس پر قابض ہونے کی کوشش کرے تویہ عمل جمہوریت کیلئے خطرناک ہوجاتا ہے۔ہر سطح پر اس کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ایسے نعرے اور بیانات جن سے سیاسی کارکنوں میں تشدد کا رجحان پیدا ہو، اس پر پہلی فرصت میں پابندی لگائی جانی چاہیے۔جمہوریت کو مستحکم کرنے اور پرامن انتخاب یقینی بنانے کیلئے جہاںعوام میں رواداری، تعلیم، سیاسی شعور کو فروغ دینا ضروری ہے، وہیں سیاسی پارٹیوں اورا ن کے حامیوں پر بھی جمہوری اقدار کی پاسداری لازم ہے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS