معیشت اورآربی آئی کی رپورٹ

0

ہندوستان کی معیشت کووڈ19-کی وجہ سے کس قدر متاثر ہوئی ہے اوراسے کتنا نقصان پہنچا ہے ، یہ بتانے کے لئے ریزروبینک آف انڈیا کی تازہ رپورٹ ہی کافی ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ ملکی معیشت کو کووڈ19-کے نقصان سے باہر آنے میں 12سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے ۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ کووڈ 19- اور اس کے سبب ملک میں لگائے گئے لاک ڈائون سے ملک کی معیشت کو زبردست نقصان پہنچاتھا ۔بے روزگاری اورمہنگائی الگ بڑھی ، علاج ومعالجہ میں سرکار اورلوگوں کا کافی کچھ خرچ ہوا ۔کاروبار بند ہونے سے معیشت پوری طرح پٹری سے اترگئی تھی ،ایک وقت ایسا بھی آیا تھاجب جی ڈی پی منفی میں چلی گئی تھی۔ کووڈ19- اورپہلے لاک ڈائو ن کے بعد جی ڈی پی منفی 29ہوگئی تھی۔پھر بھی کورونا کی لہر جیسے جیسے کم ہوتی گئی معیشت دوبارہ پٹری پر آتی گئی لیکن جتنا نقصان پہنچا ہے ، اس کی تلافی میں وقت لگے گا ۔کتناوقت لگے گا ، ابھی تک صرف دعوے کئے جاتے تھے اور اندازے لگائے جاتے تھے ۔ کووڈاورلاک ڈائون کے بعد سے مسلسل یہ بحث چل رہی ہے کہ کتنانقصان پہنچااورکب تک معیشت پٹری پر آسکے گی ۔سرکار تو کہتی رہتی ہے کہ حالات بہتر ہورہے ہیں ۔جی ایس ٹی کاکلیکشن بھی ہر مہینے بڑھ رہا ہے ۔اپریل میں 1.68لاکھ کروڑ کاریکارڈ کلیکشن ہوا ۔ملک میں کاروبار بھی چل رہاہے ۔ایسے میں توقع کی جاسکتی ہے کہ حالات جلد بہتر ہوجائیں گے ۔لیکن ریزروبینک کی رپورٹ کہتی ہے کہ کووڈ 19-کے اثرات سے باہر آنے میںابھی بھی وقت لگے گا ۔
’کرنسی اینڈفائننس فاردی ایئر 2021-22 ‘ نامی رپورٹ میں آربی آئی نے کہا ہے کہ گزشتہ 3برسوں میں پیداواری نقصان تقریبا 50لاکھ کروڑ کا ہوا ہے ۔تاہم حکومت کی جانب سے کیپٹل خرچ، ڈیجیٹلائزیشن اور ای کامرس، اسٹارٹ اپس، قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں میں نئی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھتے دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ معیشت آہستہ آہستہ ترقی کی پٹری پر لوٹ سکتی ہے ۔لیکن اس میں وقت لگے گا کیونکہ گزشتہ 2برسوں میں کورونا کی جو مار پڑی ہے ، اس سے معیشت کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔کووڈ19-کی وبابھی ایسی ہے جو بار بار لہر کی صورت میں لوٹ کر آرہی ہے اور معیشت کو سنبھلنے کا موقع نہیں دے رہی ہے ۔اب تک 2لہریں آچکی ہیں، ان دونوں لہروں میں جو جانی ومالی اورتعلیمی نقصان ہوا ، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے ۔ایک بار پھر ملک میں کورونا کے معاملے بڑھ رہے ہیں اوراندیشے ظاہرکئے جارہے ہیں ۔شاید اسی لئے معاشی حالات بہتر ہونے میں وقت لگ رہاہے ۔آربی آئی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 3 برسوں میں پیداواری نقصان بالترتیب 2020-21، 2021-22 اور 2022-23 میں 19.1 لاکھ کروڑ روپے، 17.1 لاکھ کروڑ روپے اور 16.4 لاکھ کروڑ روپے کارہا۔اتنانقصان اٹھانے کے باوجودمعیشت بتدریج بہتر ہورہی ہے، ترقی کررہی ہے اورحالات بدل رہے ہیں جو بڑی بات ہے ۔لیکن مسئلہ تو یہی ہے کہ معیشت آگے آگے بڑھتی ہے اورکورونا پیچھے پیچھے آتا ہے ۔صرف کورونا ہی نہیں موسم اور دنیا کے حالات بھی معیشت کے لئے ساز گار نہیں ہیں۔ جنگ یوکرین میں ہورہی ہے لیکن پوری دنیا کی معیشت پر اس کے اثرات محسوس کئے جارہے ہیں ۔رکاوٹیں بہت ہیں پھر بھی معاشی حالات بہتر ہورہے ہیں ۔
دنیا میں کووڈ 19-اورلاک ڈائون کی وجہ سے کتنی معیشتیں تباہ ہوگئیں ۔بعض تو اب تک اس کی مار جھیل رہی ہیں ۔ لاکھ کوششوں کے باوجود وہاں تیزی سے حالات بہتر نہیں ہورہے ہیں لیکن غنیمت ہے کہ ہندوستان ان حالات اوربحران سے باہر نکل رہا ہے ۔اس وقت کے حالات کوہم بحرانی کیفیت نہیں کہہ سکتے ۔ کیونکہ معاشی ترقی کی جورفتار ہے اورٹیکسوں کا جو کلیکشن ہے ،وہ بہتری کا اشارہ ہے ۔مایوسی جیسے حالات نہ پہلے تھے ، نہ اب ہیں تو مستقبل میں حالات بہتر ہی ہوں گے ۔ریزروبینک کی رپورٹ کے بعد معاشی ترقی کے بلند بانگ دعوئوں اورطرح طرح کے اندازوں پر روک لگ سکے گی ۔اس کی رپورٹ سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ کووڈ 19-کی وجہ سے حالات کافی خراب ہوگئے تھے ۔تبھی تو بہترہونے میں 12سال سے زیادہ عرصہ لگنے کی بات کہی گئی ہے ۔ملک کی معیشت کے بارے میں سرکار ، ریزروبینک ، ریٹنگ ایجنسیاں ، ورلڈ بینک اوردیگر کے اندازے آتے رہتے ہیں اوربہتری کی شرح میں کمی کی جاتی رہتی ہے لیکن خوش آئند بات ہے کہ حالات بہتر ہورہے ہیں اورمعاشی ترقی کی رفتار بڑھ رہی ہے۔
[email protected]