معیشت کی پیش رفت

0

مہنگائی بے روزگاری اور بھکمری کے بڑھتے اعداد و شمار کے درمیان معیشت کے حوالے سے یہ اچھی خبر آئی ہے کہ مالی سال 2022 میں ملک کی جی ڈی پی یعنی مجموعی گھریلو پیداوارکی شرح نمو 10 سے 10.5فیصد کے درمیا ن رہے گی۔ معیشت کے حوالے سے ہی دوسری اچھی خبر یہ بھی ہے کہ ہندوستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا ہے اور سرمایہ کاروں کے پسندیدہ ممالک کی فہرست میں ہندوستان اب 5ویں مقام پر پہنچ چکا ہے۔اس سے پہلے ہندوستان 9ویں پوزیشن پر تھا۔
کورونا بحران، لاک ڈائون اور بندکل کارخانوں کی وجہ سے ہندوستان کی معیشت زمین بوس ہونے کی حالت تک پہنچ گئی تھی لیکن جیسے جیسے کورونا کیسز میں کمی آتی گئی اور ویکسی نیشن کی رفتار بڑھی معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا اوراب یہ آگے کی جانب گامزن ہے۔ توقع یہ بھی ہے کہ معیشت کو کورونا بحران سے قبل کی پوزیشن پر آنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ گھریلو ریٹنگ ایجنسی برک ورک ریٹنگزہی کی جانب سے مالی سال 2022میں ہندوستان کی شرح نمو 9فیصد کے ارد گرد رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی اور کئی ایک خدشات کا بھی اظہار کیا گیا تھا۔ مگر اب برک ورک نے اس پر نظرثانی کرتے ہوئے جی ڈی پی شرح نمو کو اگلے مالی سال کیلئے 10 سے 10.5 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
برک ورک کی تازہ پیش گوئی معیشت کے حوالے سے حکومت کی کوششوں کا مثبت نتیجہ برآمد ہونے کا اشارہ ہے۔ کورونا وائرس کے انفیکشن پر قابوپانے اور ٹیکہ کاری مہم کو جنگی سطح پر جاری رکھے جانے کی وجہ سے ہی تیسری لہر کے منفی خطرات کم ہو ئے اور معاشی سرگرمیاں بھی تیزی سے بحال ہوئی ہیں۔چند ایک کو چھوڑ کر ملک کی زیادہ تر ریاستوں میں اقتصادی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کر دی گئی ہے، کل کارخانے کھل چکے ہیں اور کاروبار پہلے کی طرح ہی رواں ہے۔ اور جیسے جیسے ٹیکہ کاری بڑھے گی ان سرگرمیوں میں بھی اسی رفتار سے تیزی آنے کی بھی امید ہے۔رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی اپریل – جون 2021 میںجی ڈی پی میں20.1فیصد کا اضافہ بھی اس امید و توقع کو بڑھاوا دے رہا ہے کیوں کہ یہ اضافہ ان ہی ایام میں ہوا جب کورونا کی دوسری لہر دھیرے دھیرے کم ہورہی تھی اور ویکسی نیشن مہم زوروں پر تھی۔اب 100کروڑ افراد کی ٹیکہ کاری کا ہدف حاصل کرنے کے ساتھ ہی معاشی و اقتصادی سرگرمیوں میں بھی اضافہ زور پکڑ چکا ہے۔ بہت سے شعبہ جات میں یہ اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں ہے کہ برک ورک کی پیش گوئی پر بھروسہ نہ کیاجائے۔
دوسری طرف کورونا وائرس کے سدباب اورا حتیاطی تدابیر پرعمل درآمد کے سبب ہندوستان میں تیسری لہرکاخدشہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کارہندوستان کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ رواں سال جو ن کے مہینہ میں ہی جب دوسری لہر ماند پڑرہی تھی ہندوستان میں کئی بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ وزارت صنعت و تجارت کے مطابق اپریل سے جولائی 2021 کے چار مہینوں میں ہندوستان میں 27.37 بلین امریکی ڈالر کا راست غیر ملکی سرمایہ موصول ہوا ہے جو گزشتہ سال2020 کی اسی مدت میں ہونے والی سرمایہ کاری سے 62 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے بعد اگست اور ستمبر 2021کے دو مہینوں میں بھی15بلین امریکی ڈالر کا سرمایہ بھی ہندوستان آیاہے۔
براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے حکومت گزشتہ کئی برسوں سے کثیر جہتی کوششیں کررہی ہے۔قانون میں ترمیم، قواعد و ضوابط کو سہل بنانا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے نیشنل ٹیکنیکل ٹیکسٹائل مشن، پیداوار پر مبنی ترغیبی منصوبے اور گھریلو مینو فیکچرنگ کوفروغ دینے کیلئے میک اِن انڈیا جیسی اسکیمیں اس کوشش کا حصہ ہیں اور یہ ان ہی کوششوں کا ثمرہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پسندیدہ ممالک میں آج ہندوستان پانچویں پوزیشن پر ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق قانون میں کی گئی ترمیم کے بعد سے چین اور پاکستان کو چھوڑ کر دنیا کے کم و بیش تمام ممالک کو ہندوستانی کمپنیوں میں براہ راست سرمایہ کاری کی آزادی ملی ہے اورحکومت کی کسی پیشگی منظوری کے بغیرغیر ملکی کمپنیاں کسی ہندوستانی کمپنی میں 24فیصد تک سرمایہ لگانے کیلئے آزاد ہیں۔ اسی کھلا پن اورآزادی کی وجہ سے ہی ہندوستان میں مالی سال 2020-21 کے پہلے چار مہینوں میں 27.37بلین امریکی ڈالر آئے اور اس خطیر رقم نے معیشت کی سوکھتی رگوں میں لہو دوڑا نے کا کام کیا ہے۔
امید یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں ملکی معیشت ایک بار پھر پہلے کی طرح ہی استحکام کی جانب بڑھے گی اور اس کے مثبت نتائج سے مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمہ میں مدد ملے گی۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS