اکنامک لبرلائزیشن اور ہندکی معاشی ترقی

0

سراج الدین فلاحی

لبرلائزیشن، پرائیویٹائزیشن اور گلوبلائزیشن جسے مختصراً ایل پی جی کہا جاتا ہے، یہ وہ اصلاحی اور اصطلاحی کلمات ہیں جنہیں آج کی دنیا اور اس میں رہنے والے سرمایہ داروں نے نظام معیشت کے اصول کے طور پر ایجاد کیا تھا۔ سرکار کے ذریعے نافذ کی گئی غیر ضروری پابندیوں، مثلاً: پرمٹ، لائسنس اور کوٹا وغیرہ سے معیشت کو نجات دلانا لبرلائزیشن کہلاتا ہے۔ پرائیویٹائزیشن کا مطلب سرکار کا اپنی ملکیت یا انتظامیہ سے دست برداری ہے اوراس کی جگہ پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت ہے۔ گلوبالائزیشن، لبرلائزیشن اور پرائیویٹائزیشن کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اس کا مقصد دنیا کے تمام ممالک کی معیشتوں کو آپس میں اس طرح جوڑ دینا ہے کہ اشیا اور خدمات، نیز سرمایہ کا ایکسپورٹ اور امپورٹ ملکوں کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔ دور حاضر کی رائج معیشتوں میں یہ مہاجنی اصطلاحیں سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے بنیادی اصولوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان سب کا مقصد نہ صرف یہ ہے کہ لبرلائزیشن کے نام پر حکومت کے ڈائریکٹ یا فیزیکل کنٹرول سے آزادی حاصل کی جائے بلکہ بھاری منافع کما کر حکومت کے زیر نگرانی اکثر و بیشتر شعبوں کو یکے بعد دیگرے خرید لیا جائے تاکہ ان شعبوں میں حکومت کا عمل دخل کم سے کم یا نہ کے برابر رہ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ملٹی نیشنل اور بڑی کمپنیاں دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرتی رہتی ہیں جبکہ سرکاری کمپنیوں کا برا حال ہوتا ہے۔ مثلاً: ریلائنس اور ایئر ٹیل ترقی کر رہی ہیں لیکن بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل ٹھپ پڑ چکی ہیں۔
گلوبلائزیشن واضح طور پر ایک ایسی معاشی پالیسی ہے جو ترقی پذیر ممالک پر ترقی یافتہ یا صنعتی ملکوں کے ذریعہ مسلط کی گئی ہے تاکہ وہ اپنی کمپنیوں کے، جنہیں ملٹی نیشنل کمپنیاں کہا جاتا ہے کے ذریعے ان کے وسائل پر قبضہ کر سکیں۔ چونکہ گلوبلائزیشن کے نتیجے میں ملٹی نیشنل کمپنیاں اور تجارتی ادارے ملک میں داخل ہو جاتے ہیں، اس لیے بیرونی اشیا کے ملک میں داخلے سے جن مقامی کمپنیوں میں ان کے مقابلے کی سکت ہوتی ہے، وہ ٹک پاتی ہیں بقیہ صنعتیں ٹھپ پڑ جاتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گلوبلائزیشن سے ملک کی جی ڈی پی میں اضافہ ہوا ہے لیکن چونکہ اس کا فائدہ براہ راست سرمایہ داروں کو ہوا ہے، اس لیے دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گیا ہے، نیز اس سے زراعت، گھریلو صنعت اور چھوٹی تجارت وغیرہ کو بہت نقصان ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اندازہ لگایا ہو گا کہ مقامی مشروبات کی جگہ لوگ کولا اور پیپسی کے پیچھے بھاگتے رہے ہیں، چنانچہ آج ملک کی ایک بڑی آبادی غربت میں اپنی زندگی بسر کر رہی ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کے تقریباً آدھے غریب ہندوستان میں رہتے ہیں۔ غریب اور رکشے والوں کے ہاتھوں موبائل فون، کلر ٹی وی دیکھ کر یہ سمجھنا کہ ملک ترقی کر رہا ہے، حقیقت سے منھ چھپانا ہے۔ کیا موبائل فون سے غریبوں کا معیار زندگی بلند ہو گیا؟ کیاان کا کھان پان بڑھ گیا؟ کیا ان کی صحت اور تعلیم پر مثبت اثرات پڑے ہیں؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ گلوبلائزیشن سے ملک کی جی ڈی پی میں اضافہ ہوا ہے لیکن چونکہ اس کا فائدہ براہ راست سرمایہ داروں کو ہوا ہے، اس لیے دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گیا ہے، نیز اس سے زراعت، گھریلو صنعت اور چھوٹی تجارت وغیرہ کو بہت نقصان ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اندازہ لگایا ہو گا کہ مقامی مشروبات کی جگہ لوگ کولا اور پیپسی کے پیچھے بھاگتے رہے ہیں۔

ان پالیسیوں کا مقصد یہ بھی ہے کہ مارکیٹ کو اس طرح کھول دیا جائے کہ اس کے اندر اشیا اور خدمات کا پروڈکشن اور ان کی قیمتوں کا تعین وہی کارپوریٹ کریں جو ملک کے وسائل پر قبضہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ پرائیویٹ مالکان انسان کی بنیادی ضرورتوں والی اشیا و خدمات کے مالک اور مختار کل بن رہے ہیں اور ان کی منھ مانگی قیمت وصول کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی آسمان چھو رہی ہے اور ملک کے غریب عوام بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے ترسنے لگے ہیں۔
لبرلائزیشن کی پالیسی اختیار کرنے کے بعد ہندوستان کے بعض شعبوں کو واقعی بہت فائدہ ہوا اور صنعتی، مالیاتی، ٹیکسز وغیرہ میں ایک بڑا ریفارم آیا۔ صنعتی لائسنس ختم کر دیا گیا، نیز کیپٹل گڈس کے امپورٹ پر عائد پابندی ہٹا لی گئی، ملٹی نیشنل کمپنیاں آئیں۔ ان کمپنیوں نے ہندوستان میں سرمایہ کاری کی، کیپٹل فلو ہواجس کے نتیجے میں ہندوستانی معیشت میں حرکت پیدا ہوئی اور یہاں کی پروڈکشن یونٹ کی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ نہ صرف ہندوستان کی اقتصادی شرح نمو بڑھ گئی بلکہ یہاں کی آئی ٹی صنعت نے دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ کلر ٹی وی، موبائل فون آیا اور عالمی بازار میں ہندوستان کا نام ہوا۔ آج غیر ملکی زرمبادلہ کا ایک بڑا ذخیرہ ہندوستان کے پاس موجود ہے۔ ان کے علاوہ چونکہ کمپنیوں میں مسابقہ آرائی ہوئی، اس لیے چند اشیاکی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے خریداروں کا بھی فائدہ ہوا۔ بینکنگ سیکٹر میں بھی ریفارم ہوا اور وہ آر بی آئی جو پہلے ریگولیٹر ہوا کرتا تھا، اب اس کا رول صرف سہولتیں مہیا کرنے تک محدود ہے لیکن جب آپ اس کا ایمانداری سے ایک متوازن تجزیہ کریں گے تو دیکھیں گے، اس کا فائدہ صرف اوپر اوپر ہوا، نیچے والے بالکل نیچے چلے گئے۔
دھیان رہے کہ یہ بات عالمی بینک بھی مانتا ہے کہ ایل پی جی کے نام سے رائج نئی معاشی پالیسیوں نے دنیا میں بازاری کرن کو فروغ دیا ہے اور بازاری کرن میں غریب شخص ہمیشہ مات کھاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بازار کبھی بھی سوسائٹی کے غریب طبقات پر دھیان نہیں دیتا یعنی بازار میں اخلاقی اور سماجی ذمہ داریاں نہیں ہوتیں بلکہ بازار یہ دیکھتا ہے کہ کس کے پاس قوت خرید زیادہ ہے، چنانچہ جن کے پاس قوت خرید زیادہ ہوتی ہے، انہیں کی پسند اور ترجیحات کے مطابق وہ سامان بناتا ہے۔
ایل پی جی کی انہیں اصطلاحات نے فری مارکیٹ نظام کو فروغ دیا ہے۔ فری مارکیٹ اس نظام معیشت کو کہتے ہیں جس میں معیشت کے مرکزی مسائل کو ڈیمانڈ اور سپلائی کی بازار قوتوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے، نیز اشیا اور خدمات کی پروڈکشن، تکنیک اور پروڈکشن سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم پروڈیوسر کی صوابدید پر چھوڑ دی جاتی ہے کہ وہ جو چاہے پروڈیوس کرے، جس تکنیک کو چاہے اختیار کرے اور جس طرح چاہے آمدنی کی تقسیم کرے۔ ایسے میں ظاہر ہے، پرائیویٹ کمپنیاں وہی اشیا بنائیں گی جن کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ اس کی سپلائی سے زیادہ ہو تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں۔ معاشیات کا بنیادی اصول ہے کہ جب کسی شے کی ڈیمانڈ اس کی سپلائی سے زیادہ ہوتی ہے تو اس شے کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا اس نظام میں سوسائٹی کا کمزور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، کیونکہ ان کے پاس کارپوریٹ کے بنائے ہوئے سامانوں کو خریدنے کے لیے پیسہ نہیں ہوتا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دنیا کا موجودہ نظام معیشت کسی بھی طرح کی اخلاقیات کا پابند نہیں ہے۔ چونکہ اس نظام معیشت میں کارپوریٹ گھرانوں کو ہر سطح پر چھوٹ ملی ہوتی ہے اور ان کا ٹارگیٹ زیادہ سے زیادہ دولت و مادیت کا حصول ہوتا ہے، اس لیے اس میں ہر سطح پر شدید دھاندلیاں، لوٹ کھسوٹ، اندھیر نگری اور بے ضابطگی پائی جاتی ہے اور ان سب کے لیے فری مارکیٹ سے بہتر نظام اور کیا ہو سکتا ہے؟
موجودہ نظام معیشت میں ذاتی ملکیت ہی اول و آخر کا درجہ رکھتی ہے۔ اس نظام معیشت میں عوامی ملکیت اور اسٹیٹ ملکیت کا تصور برائے نام ہے اور ان کی پشت پر کوئی اصول و ضوابط اور قوانین موجود نہیں ہیں اور اگر موجود بھی ہیں تو ان میں تاثیر نہیں ہے، لہٰذا مذکورہ حقائق کی روشنی میں اگر نتیجہ اخذ کیا جائے تو لبرلائزیشن، پرائیویٹائزیشن اور گلوبلائزیشن کی سرمایہ دارانہ پالیسیوں کو اختیار کرنے سے مجموعی طور پر ملک کی بڑی آبادی کو نقصان زیادہ ہوا ہے اور اس کے اکثر و بیشتر فوائد ساہوکاروں کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here