ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی: اسلام کے نظریہ امن وجنگ پر شکوک وشبہات دورکرناوقت کی اہم ضرورت

0

ڈاکٹرریحان اخترقاسمی
اسلام کوایک صلح کی مذہب کی حیثیت سے اپنی حفاظت وقیام کے لئے لڑائیاں بھی لڑنی پڑیں،اس لئے مخالفوں نے یہ کہنا شروع کیاکہ اس مذہب کی بناطاقت وقوت ہے اوراس کی اشاعت تلوار سے ہوئی ہے۔لیکن جس کسی نے کارلائبل کی طرح اسلام کے عروج کا…مطالعہ کیاہے،یاگبن اوراس کے بعد متعدد لوگوں کی طرح بغیرفرقہ واری، تنگ نظری کے دیکھا ہے،وہ نہایت آسانی کے ساتھ اس الزام کی تردید کرسکتاہے۔اسلام ایک ایسے پیغمبر کی طرف سے پیش کیاگیاتھاجومعاشری،اقتصادی اورسیاسی حیثیت سے کوئی دنیوی طاقت نہ رکھتاتھا،قبل اس کے کہ آپ اپنی اوراپنے مٹھی بھرمتبعین کی مدافعت میں قدیم قبائلی بربریت کے خلاف طاقت کاجواب طاقت سے دیں،دس سال سے زائد عرصہ تک آپ کو اورآپ کے متعبین کوہرممکن طریقہ سے اذیت پہنچائی گئی۔آپ نے اورآپ کے متبعین نے اپنے مخالفین کے مقابلہ میں بے نظیر صبرواستقامت کاثبوت دیا۔حالانکہ وہ تمام دنیوی فوائد اورحصول روزی سے محروم کردیئے گئے تھے اوران کو اپناگھر بارچھوڑ کرجلاوطن ہوناپڑاتھا۔تاریخ میں کوئی تحریک ایسی نہیں جواس سے زیادہ جذبۂ ایثاروقربانی پیش کرسکتی ہو۔جب ان کوقوت حاصل ہوگئی اور وہ خود کوجوابی حملہ کے لئے کافی طاقتور خیال کرتے تھے تب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے وقت کے انتظار میں انہیں عرصۂ درازتک روکے رکھا جبکہ وہ ممکنہ حدتک کم خونریزی کے ساتھ اپنے مقصد میں کامرانی حاصل کرسکیں۔وہ نہ صرف اپنے دین کے قیام کے لئے کوشاں تھے بلکہ عام مذہبی آزادی کے بھی خواہاں تھے ،تاکہ ہرشخص اپنے معتقدات کی پیروی کرسکے،بشرطیکہ وہ ایک پرامن اجتماعی نظام کے اقل ترین حقوق وفرائض میں تفرقہ انداز نہ ہوتاہو۔ اگرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصول وعقائد کی تبلیغ فوجی طاقت سے فرماتے اورعوام کے آگے تبدیل مذہب یاتلوار ایک دومتبادل صورتیں پیش کرتے توایسی صورت میں کوئی اس بات کے کہنے میں حق بجانب ہوسکتاتھا کہ یہ ایک مذہب تھاجس کی اشاعت سنگین کی نوک پرہوئی ۔لیکن ایک ایسامذہب جس کابنیادی اصول لااکراہ فی الدین ہو۔جوصریح نص قرآنی ہے ،وہ کس طرح لوگوں کوبزورشمشیر ایمان لانے پرمجبور کرسکتاہے۔یہاں ایک سادہ سوال کیاجاتا ہے کہ یہ شمشیر بازخود کہاں سے آگئے تھے؟ اگربزور شمشیر مذہب بدلاگیا ،توخود ان لوگوں کامذہب کس چیز نے بدلا جوتلوار چلارہے تھے؟آنحضرت ؐ کے خلاف زبردست طاقت استعمال کی گئی جبکہ آپ بجزحق ویقین کی قوت کے اورکچھ نہ رکھتے تھے،لیکن آپ کوستانے والے یکے بعددیگرے آپ کی روحانی قوت سے مطیع ومنقاد ہوتے گئے۔اسلام قبول کرنے کے بعدیہ سابق ستم پیشہ اورجدید الایمان خوددوسروں کے مظالم سہتے رہے۔یہ لوگ کیسے کیسے مظالم کاتختۂ مشق بنتے رہے،اس ناگوار منظر کی نقش آرائی یہاں غیر ضروری ہے۔دس سال سے زیادہ عرصہ تک اسلام انتہائی حدتک عدم تشدد پرکاربندرہا۔تدریجاً اورمستقلاً اہل ایمان کی تعداد میں اضافہ ہوتاگیا،لیکن ان پرظلم وستم جاری رہااورانہیں جلاوطن ہوناپڑا۔یہاں تک کہ ایک ایسا زمانہ آیاکہ ان کے سامنے صرف دوہی صورتیں رہ گئیں،یاتومذہبی آزادی کے لئے شمشیر بکف ہوجائیں یانیست ونابود ہوجائیں۔پھراگر اسلام نے اپنے وجود کی بقاکے لئے جنگ آزمائی کی تواس پر الزام کون دھرسکتاہے؟
انسانی زندگی میں جنگ کامقام سمجھنے کے لئے ساری مشکل اس واقعہ سے رونما ہوتی ہے کہ اسلام سے قبل جو مذاہب مثل بدھ مت اورعیسائیت کے متمدن انسانیت کے زیادہ حصہ پرپھیلے ہوئے تھے وہ کم ازکم نظری حیثیت سے کسی مقصد یاسبب کے تحت جنگ آزمائی اورخونریزی کی ممانعت کرتے تھے نہ صرف انسانی زندگی کوتلف کرناگناہ تھابلکہ موذی جانور،جراثیم اورزہریلے حشرات تک کو مارنا مہاپاپ سمجھاجاتاتھا۔تمام اخلاقیات اورروحانیت کاانتہائی مقصد امن اور عدم تشدد تھا۔مگربدھ مت،جین مت اور عیسائیت نے اس کامقصد غلط سمجھا۔بدھ مت کے عدم تشدد واہنسا کا اصول ناقابل عمل ہے۔ ہرزندگی کاآذوقہ کسی دوسری زندگی سے سربراہ کیاجارہاہے یااعلیٰ کے لئے بجز اس کے کوئی چخارہ نہیں کہ وہ ادنیٰ کی زندگی پربسر کرے۔ جیساکہ رومی نے کہاہے’’جملہ عالم آکل وماکول داں‘‘۔ بدھ مت کامقصود سلب خواہشات کے ذریعہ حیات کی نفی کرناتھا،جس میں توالید وتناسل کی خواہش بھی شامل تھی۔اہنسا پرسختی سے عمل کرنے سے نہ صرف انسانی زندگی بلکہ کل موجودات فناکے گھاٹ اترجاتی ہے۔ہندوستان میں بعض فرقے ایسے ہیں جن کے پیرواپنے منہ کوکپڑے سے ڈھانکے رہتے ہیں تاکہ کوئی ظاہر وپوشیدہ کیڑا یاجرثومہ داخل نہ ہوجائے۔یہ بیچارے اس کا علم نہیں رکھتے کہ غیر شعوری طورپریہ دن رات میں کتنے جانداروں کوہڑپ کرجاتے ہیں۔یہ جراثیم،جوں،کیڑے مکوڑے،سانپ،مچھر اوردیگر تمام موذی جانوروں کومارنا پاس سمجھتے ہیں۔بدھ مت اورجین مت کے اہنسا کے اصول کے موافق زندگی بسرکرنے کی یہ ایک کوشش ہے۔لیکن یہ فریب خوردہ مخلوق اس کااحساس نہیں کرتی کہ نباتات بھی زندگی رکھتے ہیں۔حیوانات کے کھانے سے پرہیز کرکے پھل اورسبزی پرگذارہ کرنے یہ ایک فروتر زینہ پراترکر ایک ذی حیات ہی کوکھاتے ہیں۔ان اصول پرچل کر انسان کسی معقول اجتماعی نظام کوپانہیں سکتابلکہ وہ خود زندہ تک نہیں رہ سکتا۔
اس کے بعد ہم عیسائیت اورعہدنامۂ جدید کے دور میں پہنچتے ہیں۔قرون اولیٰ کے عیسائی اس امرپر پکایقین رکھتے تھے کہ حضرت عیسیٰ نے ہرحالت میں جنگ کی ممانعت فرمائی ہے۔حق اورناحق لڑائی اورجارحانہ ومدافعانہ جنگ میں کوئی فرق وامتیاز نہ تھا۔ہرقسم کی لڑائی اس نئے نظام میں ممنوع تھی۔یہ یقین کیاجاتاتھا کہ حضرت عیسیٰ نے ہرقسم کے انتقام کی ممانعت کی ہے۔برائی کامقابلہ نہ کیاجائے،برائی کابدلہ نیکی سے دیاجائے۔ایک سچے عیسائی کے لئے صحیح طریقہ خاموش اورپرسکون شہادت تھی اورظالم کے انتقام کوخداکے سپرد کرناتھا۔تمام حالات میں برائی کی بزور فروکرنے پرامتناع حضرت عیسیٰ کے مفہوم کی غلط تشریح ہے۔ اصلاح انسانیت میںمحبت اورعدم تشدد بڑے کام کی چیز ہے اورحضرت عیسیٰ نے بجاطورپر ان کی تاکید کی تھی۔لیکن یہ وہی حضرت عیسیٰ تھے جنہوں نے کسی عبادت گاہ کے صحن میں سودخواروں کے خلاف کوڑے کااستعمال کیاتھا۔اگریہ کچھ اورزندہ رہتے اورصورت حال ابترہوجاتی تو ان کے درہ کی جگہ ممکن ہے تلوار لے لیتی۔یہ سب کچھ ہونے پر بھی آپ اس نتیجے پر تھے جن کاارشادتھاکہ میں امن نہیں تلوار لایا ہوں۔ ممکن ہے کہ آپ نے یہ لفظ استعارۃً استعمال فرمایاہو،لیکن اگر آپ اپنے اوراپنے مذہب کے تحفظ کے لئے موت وزیست کی پیکار پرمجبور کیاجاتا تویہ استعارے کی تلوار ممکن ہے کہ حقیقی شمشیر آہنی بن جاتی۔کسی کوکیامعلوم کہ کیا ہوتا۔ آپ کے یقین واثق کوجانچنے یاآپ کے اصول کے حقیقی مضمرات کی پردہ کشائی کے لئے کوئی تاریخی صورت حال آپ کی زندگی میں رونما نہیں ہوئی۔بعدازاں جب عیسائیت دنیوی اقتدار کوسنبھالنے کے قابل ہوئی توتاریخ شہادت دیتی ہے کہ اس نے تلوار کاکس قدر استعمال کیااوراس کا استعمال حضرت عیسیٰ کی تعلیمات سے حق بجانب اوران اسافقۂ اعظم کے فتووں سے جائز قراردیاگیا،جوخود محبت وصداقت کے وارث سمجھے جاتے تھے اورگمان کیاجاتاتھا کہ جائز جنگوں اورمذہبی تعذیب کے قیام کے لئے انہیں حضرت عیسیٰ اورروح القدس کی طرف سے فیضان ہوتاہے۔اب بھی عیسائیوں کے چندفرقے اوربعض عیسائی افرادایسے ہیں جوتمام جنگوں کوناجائز سمجھتے اوران میں شرکت سے انکار کرتے ہیں ان کایہ اعتقاد ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔پہلی جنگ عظیم میںان میں سے بعض قید کردیئے گئے تھے۔یہ اپنے آپ کو’’معذوران شرعی‘‘ کہتے ہیں۔
اسلام نے ایک اعتدال پسنداصول جنگ کی تبلیغ کی ہے اوراس پرعمل کرکے بھی دکھلایا۔زمانۂ مابعد میں بہت سی لڑائیاں جومسلمان حکمرانوں نے مختلف تاریخی دوروں میں لڑیں،وہ اسلامی جنگیں نہیں تھیں۔صرف وہی لڑائیاں اسلامی ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے فوری بعدصحابہ مصروف پیکار ہوئے تاکہ اسلام محفوظ و مصوؤن ہواورمذہبی تعذیب وعقوبت کاقلع قمع ہوجائے۔انسانی زندگی کااحترام اسلام کے بنیادی اصول میں سے ایک ہے اورجنگ کی اجازت صرف انسانی زندگی کی جائز حفاظت اورحقیقی اقدار کے لئے ہے۔انسانی زندگی کی حفاظت واحترام کے احکام سے قرآن معمور ہے۔انسان کی زندگی کے احترام کی تعلیم میں انسان کے اجتماعی اتحاد کوبھی پیش نظررکھا گیا ہے:
ترجمہ:(اسی بناپرہم نے بنی اسرائیل کے لئے یہ لکھ دیاکہ جوشخص کسی کی جان لئے بغیر اس کے کہ اسے کسی جان کابدلہ لیناہوتوگویا اس نے سارے انسانوں کی جان لی اورجواس جان کو بچالے اس نے گویاسارے انسانوں کی جان بچالی۔)
عرب نومولود لڑکیوں کوقتل کرڈالتے تھے،کیونکہ یہ انہیں معاشرتی اورمعاشی بوجھ سمجھتے تھے۔اسلام نے اس رواج کاسختی سے خاتمہ کیااورکل دنیائے اسلام سے اس رسم کااستیصال کردیااور یہ شرمناک جرم پھردوبارہ متمدن دنیا میں اپنانہ سراٹھاسکا۔جہاں دوآدمی بطورمبارزہ کے لئے ایک دوسرے سے کسی بیہودہ جذبہ کے تحت برسرپیکار ہوں تو آنحضرت ؐ کاارشاد ہے کہ قاتل ومقتول دونوں جہنم واصل ہوں گے۔آنحضرتؐ نے جب کبھی کبیرہ گناہوں کوشمار فرمایا تو اس فہرست میں ہمیشہ قتل موجودرہا۔’’عظیم ترین گناہ یہ ہیں خداکے ساتھ کسی دوسرے کوشریک کرنا، قتل، والدین کی نافرمانی اورجھوٹ بولنا‘‘۔انس بن مالکؓ)۔’’ایک مومن حدود ایمان میں اس وقت تک رہتاہے جب تک کہ وہ کسی کا ناحق وناروا خون نہیں بہاتا‘‘۔(ابن عمرؓ)
یہ خیال رہے کہ جہاں کہیں اسلام قتل کی ممانعت کرتاہے۔’’توقتل نہ کر‘‘یہ کوئی مطلق حکم نہیں ہے۔زندگی میں بعض ایسے مواقع آتے ہیں جبکہ قتل فرض اولین بن جاتاہے۔جہاں کہیں بدکار کوقتل کرنے کی اجازت دی گئی ہے وہاں فتنہ کالفظ قرآن میں اکثر مستعمل ہواہے اورکہاگیاہے کہ ’’الفتنۃ اشد من القتل‘‘۔فتنہ کاترجمہ کسی ایک انگریزی لفظ سے کرنامشکل ہے۔اس کے مفہوم میں امتحان ،تحریص،کسی کومشکلات میں پھانسنا،عقوبت ،معاشری ظلم وزیادتی،کسی کوناجائز اطاعت پرمجبور کرنااوربجبر راہِ راست پرچلنے سے روکنا،صداقت سے انحراف اورباطل کاموں کے لئے غلط رہنمائی کرناشامل ہیں۔اکثر یہ لفظ قرآن میں فساد کے ساتھ آیاہے، جس کے معنی خرابی، تشدد وافتراق اورمعاشریت بدنظمی اور ناانصافی کے ہیں۔اسلام میں قتل کی اجازت صرف فتنہ وفساد اور ظلم وزیادتی کوروکنے اورایسے حالات پیدا کرنے کے لئے ہے کہ بجائے خوف ودہشت کے قانون کی حکومت قائم ہو جائے۔ آنحضرتؐ کے غزوات ان لوگوں کے خلاف تھے جوبنی نوع انسان کوضمیر کی آزادی سے محروم کئے ہوئے تھے۔جوکوئی ان کی عبادات اور طریقوں کاساتھ نہیں دیتاتھا وہ ستایا جاتا،جلاوطن کیاجاتا ،قتل کردیاجاتاتھا۔مسلمانوں کواسلام اس کی اجازت نہیں دیتاکہ وہ خود کودولت مند بنانے کی غرض سے مفتوح کے مال ودولت کے حصول کے لئے جنگ کریں۔تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ محض توسیع ملک یامعاشی فائدوں کے لئے جنگ کرناناجائز ہے اورنہ اس کے لئے جنگ جائز ہے کہ دوسروں کے بجبر مسلمان کیا جائے۔فاروق اعظمؓ کے پاس ایک عیسائی غلام تھا۔کبھی کبھی آپ اس کے سامنے اسلام کی خوبی وصداقت پیش فرماتے اورمسلمان ہونے کی ترغیب دیتے تھے۔ہروقت وہ غلام قبول اسلام سے انکار کرتاتھا۔اس کے انکار پر حضرت عمرؓ یہ جواب ارشاد فرماتے کہ ’’جیسی تمہاری مرضی کیونکہ اسلام میں جبر نہیں ہے‘‘۔کیاحضرت عمرؓ جیساشخص ان اقوام وملل سے،جوعرب کے داہنے بائیں آبادتھیں انہیں بزورشمشیر مسلمان بنانے کے لئے جنگ کرسکتاتھا جبکہ وہ خوداپنے غلام کے مقابلہ میں بے بس ہوچکاتھا۔ مفہوم:
انسانیت کے روحانی رہنما کی حیثیت سے گوتم بدھ اورحضرت عیسیٰ کی مثال سامنے رکھ کر ان کے بعض معتقدین اوردیگر اشخاص ہرقسم کی جنگ کی ممانعت اورروحانیت کوایک سمجھنے لگے۔بعض عیسائی مصنفین کایہ خیال ہے کہ آنحضرتؐ جب تک مکہ میں مصائب جھیلنے اورتبلیغ فرماتے رہے ایک بہترین نبی تھے،لیکن جب آپ نے جنگ کواختیار فرمایا اور ایک مملکت کی بناڈالی توآپ ایک سیاست داں اورمقنن بن گئے۔اس لئے آپ ایک پیغمبر نہیں رہے۔یہ نبوت کاایک نہایت ناقص تصور ہے کہ نبی اس وقت تک نبی رہتاہے۔
جب تک کہ وہ محبت،انصاف اورخیرخواہی کی بابت محض زبانی جمع خرچ کرتارہتاہے لیکن جس لمحہ وہ حقائق سے دوچار ہوتاہے اورحالات کواپنے نظریات کے مطابق ڈھالنا شروع کرتاہے تووہ موجودات کی ادنیٰ سطح پر آجاتا ہے۔ ہر شخص یہ جانتاہے کہ اعلیٰ تصورات کی تعلیم کس قدر آسان ہے اورانہیں انفرادی،اجتماعی اورسیاسی آویزشوں میں روبہ عمل لاناکس قدردشوار ہے۔جب تک کہ نظریات زندگی کے معاشرتی اور سیاسی تلخیوں اورسختیوں کے معیار پرنہ جانچے جائیں وہ فضا میں معلق رہتے ہیں ورمحض پندنامۂ کمال وخوبی اورناقابل حصول رؤیائے صالحہ سمجھے جاسکتے ہیں۔انسا ئیکلوپیڈیا برٹانیکا کامصنف آنحضرتؐ کوتاریخ انسانیت کازبردست پیغمبر کہتاہے۔جن کوعالم انسانیت کے آگے قابل ِ عمل نظریات پیش کرنے کاامتیاز حاصل ہے۔جواپنی حیات طیبہ میں اس حدتک انہیں روبہ عمل لائے کہ باطمینان تمام یہ فرماسکے کہ ’’میں نے اپنے کام کی تکمیل کردی‘‘۔جب آپ نے مذہبی تعصبات کاخاتمہ کردیااور مذہب کوہرطرح آزادی دلادی تواپنی تلوار نیام میں رکھ لی۔’’لڑو ،یہاں تک کہ فتنہ وفساد باقیس نہ رہے۔جب کسی نے خدا کے امن میں آناقبول کیا،خواہ اس کامذہب کچھ بھی ہو،وہ تمہاری حفاظت میں ہے۔اس کی جان ومال اورآبرو کی ایسی ہی حفاظت کروجیسی کہ خود تم اپنی کرتے ہو‘‘۔
[email protected]

 

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS