مشت زنی سے اعضائے رئیسہ کی تباہ کاری۔

0

امام علی فلاحی۔

ایم۔اے جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔

آج معاشرے میں مشت زنی جیسی فحش برائی پھیلتی نظر آرہی ہے ۔
لیکن آج ان مسائل پر بحث کرنے سے ہمارا برائے نام شرافت کا لبادہ کھسکنے لگتا ہے اور کانچ جیسا ایمان ہچکولے کھانے لگتا ہے، آج اس برائی سے ہر کوئی واقف ہے اور تقریباً ہر ادارے و معاشرے میں یہ بد فعلی عام ہے، ہر شخص اس بد فعلی کو دیکھ رہا ہے لیکن کسی کی اتنی ہمت نہیں ہو رہی ہے کہ وہ اس پر کچھ لب کشائی کر سکے۔
ارے وہ جینا بھی کیا جینا ہے جس میں آپ حقائق سے نظریں ہی نہ ملا سکیں۔
لیکن معاشرے میں کچھ گمراہ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں مشت زنی انسان کے لئے مفید ہے، اگر آپ انٹر نیٹ پر مشت زنی کے نقصانات پر کچھ پڑھنے کی کوشش بھی کریں تو نیٹ پر کچھ ویب سائٹ پر ایسی تحریریں اور مضامین بھی پڑھنے کو مل جائیں گے جہاں پر مشت زنی کرنے کے فوائد اور نہ کرنے کے نقصانات تحریر کیے گئے ہیں، یہی وجہ رہی کہ انٹر نیٹ پر ایک مخصوص ویب سائٹ پر ایک تحریر پڑھنے کو ملی جہاں لکھا ہوا تھا کہ مشت زنی ذہنی سکون اور توجہ میں اضافہ کرتی ہے، دوران خون اور بلڈ پریشر میں بہتری پیدا کرتی ہے، مشت زنی کرنے سے حافظے کی قوت میں بہتری آتی ہے۔ مشت زنی کے بعد ورزش کرنے سے جسم تروتازہ ہو جاتا ہے۔
ساتھ ہی یہ بھی تحریر تھا کہ مشت زنی نہ کرنے کے چند نقصانات ہیں وہ یہ ہیں کہ جو شخص مشت زنی نہیں کرتا اس پر نحوست چھا جاتی ہے، وہ چڑچڑا ہو جاتا ہے، اس کا دماغ الجھاؤ کا شکار رہتا ہے، وہ معصوم بچیوں کی ٹانگوں اور بازؤں پر ہاتھ پھیرتا ہے اور بعض اوقات ان کو تنہائی میں لے جا کر جنسی درندگی کا نشانہ بنا دیتا ہے اور وہ غربت اور جرائم کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔




لیکن یاد رکھیں ہاتھوں سے وجود انسانی کا سب سے قیمتی جوہر (منی) خارج کرنا اپنے ہاتھ سے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مانند ہے۔
کیونکہ مشت زنی کرنے سے تمام اعضائے رئیسہ کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ کمزوری یہاں تک ہو جاتی ہے کہ اگر وہ مرد جو مشت زنی کا عادی ہو عورت کے ساتھ لیٹ بھی جائے تب بھی اسکے عضو تناسل میں انتشار پیدا نہیں ہو سکتا۔
اب سوا یہ ہے کہ اعضائے رئیسہ کیا ہیں جو مشت زنی کی وجہ سے کمزور پڑ جاتی ہیں۔
یاد رہے کہ اعضائے رئیسہ جو مشت زنی کی وجہ تباہ ہو جاتی ہیں (1) دل (2) دماغ (3) جگر۔ ہیں۔

مشت زنی سے جب کوئی لذت پیدا ہوتی ہے تو اس وقت یہی نہیں کہ صرف منی نکل کر بس ہوجاتی ہے بلکہ اسکے ساتھ ایک اور چیز بھی خارج ہوتی ہے جو کہ منی سے بھی زیادہ قیمتی ہوتی ہے، جسے حرارت غریزی کہتے ہیں اور یہی وہ چیز ہوتی ہے جس فاعل بار بار اپنے‌اس فعل بد کو انجام دیتا ہے جسکی وجہ سے حرارت غریزی اتنی مقدار میں خارج ہو جاتی ہے جتنی اور پیدا نہیں ہو سکتی۔
جسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دل کمزور ہو جاتا ہے اور آگے چل کر اسکے یہ حالت بن جاتی ہے کہ اسکا دل دھڑکنے لگتا ہے اور نہایت ہی کمزور ہو جاتا ہے یہی وجہ ہوتی ہے کہ جب اسکے عضو تناسل میں انتشار کی حالت پیدا ہوتی ہے تو اسکا دل اتنا کمزور ہوتا ہے کہ جسکی بنا پر وہ اپنے عضو خاص تک خون کی رسائی نہیں کر سکتا اور جب وہاں تک خون کی رسائی نہیں ہوتی ہے تو اسکے عضو خاص میں انتشار بھی پیدا نہیں ہو‌ سکتا ہے۔




اسی طرح مشت زنی سے دماغ کو بہت جلد نقصان‌ پہنچتا ہے کیونکہ جو اعصاب دماغ سے نکلتے ہیں وہ ذکی الحس ہونے کی وجہ سے بہت جلد کمزور ہوجاتے ہیں اور پھر وہ یہاں تک کمزور ہوجاتے ہیں کہ اگر وہ مرد عورت کے ساتھ لیٹا رہے تب بھی اسکے عضو خاص میں انتشار پیدا نہ ہوسکتا کیونکہ سارا کھیل دماغ سے ہی ہوتا ہے اگر دماغ میں کچھ اور چلتا رہے یا دماغ کہیں اور رہے یا دماغ کمزور ہو جائے تو ظاہر ہے کہ اسکے عضو خاص میں انتشار بلکل پیدا نہیں ہو سکتا اگر چہ وہ لڑکی کے ساتھ لیٹ بھی جائے‌۔
اسی طرح مشت زنی کرنے کی وجہ سے جگر بھی کمزور پڑ جاتا ہے کیونکہ منی کے زیادہ خارج ہونے کی وجہ سے خون کی زیادہ ضرورت پڑتی ہے اس لئے جگر کو خون بنانے کے لئے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے لیکن جو خون پیدا ہوتا ہے وہ منی بنانے میں صرف ہو جاتا ہے اسی لئے جگر کو پوری خوراک نہیں مل پاتی نہ اسے کچھ آرام کا وقت مل پاتا ہے جسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جگر بہت جلد کمزور ہو جاتا ہے اور مشت زنی کرنے والے کے اندر خون کی کمی ہونے کی وجہ سے اسکے بدن کی رنگت سرد ہوجاتی ہے۔
اسکے علاوہ اس فعل بد کا اثر گردے مثانے پر بھی پڑتا ہے غرض یہ کہ انسان صحیح معنوں اس فعل بد کی بنا پر زندہ در گور ہو جاتا ہے لہذا اس فعل سے ہمیں بھی بچنے کی ضرورت ہے اور معاشرے میں پھیلی برائی کو روکنا بھی ضروری ہے کیونکہ اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ہم لوگوں کو بھلی باتوں کا حکم کریں اور بری باتوں سے روکیں۔

 

 

 




سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS