کیا آپ کو معلوم گلہری کی سب سے بڑی نسل کہا پائی جاتی ہے؟

0

گلہری ایک ننھی سی بہت ہی چنچل مخلوق ہے۔ چست، پھرتیلی، اچھل کود مچاتی ایک پیڑ سے دوسرے پیڑ پر چڑھتی اترتی ہے۔ دوڑتے دوڑتے اچانک رک کر گلہری اپنی چھوٹی سی گردن اٹھاکر حیرانی سے چاروں جانب دیکھتی ہے اور کوئی خطرہ نہ ہو تو اپنے چار پیروں پر اچھلتی کودتی آگے بڑھتی ہے۔ خطرے محسوس ہوتے ہی چٹکیوں میں ایسے غائب ہوتی ہے کہ دشمن ہکابکا دیکھتا رہ جائے۔ یہ کلابازیاں کھاتے ہوئے پیڑ کی پتلی سے پتلی ڈال پر بھی اتنی آسانی سے دوڑ لیتی ہے، جتنی زمین پر۔ پیڑوں کی ڈال سے لٹکنا اس کا خاص شوق ہے۔ اس کی پونچھ اس دوڑبھاگ میں کافی معاون ثابت ہوتی ہے۔
گلہری اکثر ایک پیڑ سے دوسرے پیڑ پر بڑی صفائی سے چھلانگ لگاتی ہے لیکن اڑنے والی گلہری جب ایک پیڑ سے دوسرے پیڑ پر جاتی ہے تو اس کی اڑان سدھی ہوئی اور برابر رہتی چھلانگ لگانے سے قبل گلہری کی اندر کی کھال پر کھینچاؤ پڑتا ہے اور گلہری پتنگ کی طرح اڑتی نظر آتی ہے۔ نیچے اترنے سے پہلے اپنی جگہ طے کرکے بڑی احتیاط سے پہنچ جاتی ہے۔ کچھ گلہریاں اڑتے ہوئے بیچ راستے سے ہی واپس لوٹتی دیکھی گئی ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ گلہریاں ہوا کے سہارے ہی نہیں اڑتیں، بلکہ ایک مقررہ جگہ پر پہنچنے کی پریکٹس بھی ہوتی ہے۔ایک پیڑ سے دوسرے پیڑ پر جانے کے لیے گلہری کے جسم اور ٹانگوں پر چھوٹے چھوٹے بال بہت مددگار ہوتے ہیں۔ اس سے ایک خاص دوری پر پہنچتے ہی وہ اگلی ڈال کا اندازہ کرلیتی ہے۔ پھر پورے اعتماد سے چھلانگ لگاکر دوسری ڈال پر پہنچ جاتی ہے۔گلہری کا قد7.5سینٹی میٹر سے 45سینٹی میٹر تک ہوتا ہے۔ ایشیائی نسل کی گلہری سب سے بڑی ہوتی ہے۔ چوہے اور خرگوش کی طرح گلہری بھی اپنا کھانا کترکتر کر کھاتی ہے۔ دنیا میں اس قسم کی تقریباً ایک ہزار مخلوق پائی جاتی ہے جن میں گلہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اڑنے والی گلہری لکڑی کترنے والی گلہری، زمین کترنے والی گلہری، کھجور کترنے والی گلہری، پیڑ کترنے والی گلہری اور پھل کترنے والی گلہری یہ سب ایک دوسرے سے کم زیادہ طور پر مختلف ہوتی ہیں۔گلہری کے آگے کے دانت بہت تیز ہوتے ہیں جو لکڑی سے لے کر اخروٹ، بادام، روٹی، چمڑا تک کتر ڈالتی ہیں۔ گلہری کی خاص غذا پھل، بادام، مونگ پھلی، اخروٹ، نئی ٹہنیاں اور پھول ہیں۔ گلہری کو اپنے دانت ٹوٹنے کی ذرا بھی پروا نہیں رہتی کیوں کہ اس کے دانت ساری عمر ٹوٹتے ہیں اور پھر نئے آتے رہتے ہیں۔
گلہری کے بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو ان کے جسم پر بال نہیں ہوتے اور ان کی آنکھیں بھی بند رہتی ہیں۔ بڑے ہونے اور خودمختار ہونے تک ماں ان کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ دن بھر ان کا کھانا اکٹھا کرتی ہے۔ جب بچے گھونسلے کے اردگرد منڈرانے لگتے ہیں یا اس سے باہر نکل کر گھومنے لگتے ہیں تو ماں انہیں دوسرے گھونسلے میں لے جاتی ہے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here