جمہوریت پر نکیل ہے اختلاف و احتجاج پر پابندی

0

محمد حنیف خان

فرد معاشرہ اور حکومت یہ تینوں الگ الگ اکائیاں ہیں جن سے مل کر کسی ملک کی تشکیل ہوتی ہے۔پھر ملک ایک الگ اکائی بن جاتا ہے جس کی ان تینوں سے شناخت ہوتی ہے اور ہر ملک میں ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ شناخت ہوتی ہے۔ان میں سے کسی کی بھی شناخت پر ضرب صرف اس ایک اکائی پر ضرب تصور نہیں کیا جاتا ہے بلکہ ہر ایک پر تصور کیا جاتا ہے۔ہمارے ملک میں ایک جمہوری آئین ہے جس نے ان تینوں کو نہ صرف الگ پہچان دی ہے بلکہ ان کے حقوق اور دائرۂ کار کا بھی تعین کردیا ہے۔ان میں سے کسی کو بھی ایک دوسرے کے دائرے میں داخل ہو کر شب خون مارنے کی اجازت نہیں ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یہ جمہوری اقدار پر ضرب ہے اور اس سے کھلواڑ ہے۔
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اوراختلاف و احتجاج اس جمہوریت کی شناخت ہے۔اس کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ فرد اور معاشرہ حکومت سے اختلاف کر سکیں،یوں بھی جمہوریت میں حکومت اس طبقہ اشرافیہ کی نہیں ہوتی جو چند دنوں کے لیے مناصب جلیلہ پر فائز ہوتا ہے بلکہ دراصل حکومت فرد اور معاشرے کی ہوتی ہے، اس لیے ان دونوں کو حکومت سے اختلاف کا نہ صرف پورا پورا حق ہے بلکہ وہ احتجاج بھی کرسکتے ہیں لیکن اگر حکومتیں اختلاف و احتجاج پر ضرب لگانے لگیں ،ان کا گلا گھوٹنے لگیں تو یہ صحت مند اور طاقتور جمہوریت کے لیے نہ صرف نقصان دہ ہے بلکہ اس کے حق میں یہ سم قاتل ہے کیونکہ اختلاف واحتجاج پر پابندی اور ایسی آوازوں کو دبانے کے بعد حکمراں طبقہ نہ صرف جمہوریت سے انحراف کا مرتکب ہوتا ہے بلکہ اس کے قدم آمریت کی جانب اٹھنے لگتے ہیں۔اس لیے حکومت کے کسی بھی جمہوری عمل کے خلاف خاموش رہنا در اصل جمہوریت کی اپنے ہاتھوں تدفین سے کم نہیں۔
ہندوستان نے آزادی کے بعد جمہوریت کا راستہ اسی لیے اختیار کیا تھا تاکہ یہاں کے غریب عوام جو صدیوں سے ’’حکم حاکم‘‘کی بجا آوری کے لیے مجبور تھے، ان کی مجبوری ختم ہوجائے۔خود ان کو اس بات کا موقع ملے کہ وہ اپنے حکمرانوں کا انتخاب کرسکیں۔اسی طرح جمہوریت نے ان کو اس بات کا حق دیا کہ وہ حکم حاکم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرسکیں تاکہ حکمرانوں کو معلوم ہوسکے کہ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے یا ان کی خواہشات کے مطابق حکمرانی کا عمل انجام نہیں پا رہا ہے۔چونکہ اختیار کردہ جمہوریت میں پانچ برس کے لیے اقتدار ملتا ہے اس لیے یہ اختلاف اور احتجاج ضروری تھا تاکہ عوام ان پر دباؤ بنا سکیں اور ان کو فیصلوں کی تبدیلی اور سماجی انصاف پر مجبور کرسکیں مگر بی جے پی کے اقتدار میں اس احتجاج اور اختلاف کی آواز کو بھی بند کیا جا رہا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ جو کام ابھی تک محض حکم حاکم سے ہورہا تھا، اب اس کو قانونی شکل دی جا رہی ہے۔اس لیے عوام کا سوتے رہنا اس کے اور جمہوریت کے حق میں کسی بھی طرح مفید نہیں ہے۔
عوام اصل حکمراں ہو کر بھی مجبور محض بن کر رہ گئے ہیں۔ ان کی کوئی آواز سننے والا نہیں ہے۔فرد کا وجود صفر بن کر رہ گیا ہے،اس کی شناخت سوائے حق رائے دہی کے کوئی اور نہیںبچی ہے،اس کی شناخت کو ختم کرنے والے وہی لوگ ہیں جن کے حق میں وہ اپنی شناخت کے ساتھ ووٹنگ کے لیے قطار میں کھڑے ہو کر ڈنڈے کھاتا ہے۔حکومت کی نظر میں فرد کی حیثیت ایسی بے وقعت ہوئی ہے کہ وہ انصاف کے لیے در در بھٹکتا ہے لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے اور جہاںسنی جاتی ہے، اس ادارے کی حالت خود دگرگوں ہے، لاکھوں کی تعداد میں فریادی اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔سپریم کورٹ میں ہزاروں عرضیاں دھول پھانک رہی ہیں،جہاں تک معاملہ ہائی کورٹ کا ہے تو ملک کی مختلف عدالت عالیہ میں 3.90لاکھ رٹ اور 10453مفاد عامہ کی عرضیاں اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق مختلف عدالتوں میں 4.67کروڑ معاملے التوا میں پڑے ہیں۔ تاخیر کے اپنے اسباب ہیں، اس کے علاوہ کورٹ کچہری میں جو رشوت خوری ہے اس پر مستزاد۔ایسے میں فرد یا معاشرے کو انصاف کہاں اور کیسے مل سکتا ہے۔
جمہوریت میںغریبوں ،کمزوروں اور محروموں کے پاس اختلاف اور احتجاج کے علاوہ اور کون سا راستہ ہے جس سے وہ اپنی آواز ایوانوں تک پہنچا سکیں؟لیکن حکومت کی نظر بد اس پر لگ چکی ہے۔ایک طرف وہ ماورائے عدالت پابندیاں عائد کرتی ہے تو دوسری طرف فرد اور معاشرے کے اختلاف و احتجاج کو ختم کرکے خود چین کی نیند سونا چاہتی ہے۔اتر پردیش میں اب ایک ایسا قانون نافذ ہونے جا رہا ہے جس کی رو سے کسی فرد اور معاشرے کو اس بات کی اجازت نہیں ہوگی کہ وہ لاش کو سڑک پر رکھ کر احتجاج کرسکے۔ اس کے لیے حکومت نے بہت خوبصورتی سے ’’انسانیت اور انسانی قدروں ‘‘ کو بنیاد بنایا ہے۔ اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اس کے خلاف تعزیری کارروائی کی جائے گی۔
جس طرح سے گزشتہ چند برسوں میں ملک میں انسانی قدروں کی پامالی کرتے ہوئے وارداتیں انجام دی گئی ہیں اور ان وارداتوں کے مجرمین کو کیفرکردار تک پہنچانے کے بجائے انتظامیہ نے تساہلی کا مظاہرہ کیا ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے۔دہلی میں ایک لڑکی کی آبروریزی کے بعد جس طرح سے عوامی سیلاب سڑکوں پر آیا اور مجرمین کو پھانسی تک پہنچایا گیا وہ صرف عوامی دباؤ کا نتیجہ تھا، اسی طرح ابھی اتراکھنڈ میں ایک غریب لڑکی کو جس طرح سے قتل کرکے اس کی لاش پھینکی گئی، اس نے پورے ملک کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسی طرح لکھیم پور کھیری میں جب مرکزی وزیر کے بیٹے نے اپنی گاڑی سے کسانوں کو کچلا تو عوام نے جس طرح سڑکوں پر احتجاج کیا، اس نے انتظامیہ کو مجبور کر دیا کہ مجرمین کو سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے اور ان کا قانونی احتساب ہو۔ اکثر و بیشتر معاملات میں دیکھا جا رہا ہے کہ اگر عوام سڑکوں پر نہ اتریں تو انصاف نہیں ملتا۔اس کے باوجود حکومت اترپردیش نے سڑک پر لاش کو رکھ کر احتجاج کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے قابل تعزیر بنا دیا ہے۔
در اصل ہاتھرس میں ایک دلت لڑکی کی آبروریزی کے بعد جب اس کی موت ہوئی اور اہل خانہ کی اجازت کے بغیر پولیس اہلکاروں نے رات کے اندھیرے میں اس کی آخری رسومات ادا کردیں،اس کے بعد جن تنازعات نے جنم لیا اس کے بعد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد حکومت اترپردیش کی وزارت داخلہ نے ایس او پی تیار کی ہے جس کے مطابق کوئی فرد ،معاشرہ یا تنظیم عوامی مقام /سڑک پر لاش رکھ کر احتجاج نہیں کرسکے گی، اس کو نہ صرف اس لاش کی بے حرمتی تسلیم کی جائے گی بلکہ راہ میں رکاوٹ ڈالنا بھی مانا جائے گا۔اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی کے ظلم سے کسی کی جان جاتی ہے اور انتظامیہ کی کارروائی سے اس کے اہل خانہ مطمئن نہیں ہیں تب بھی پوسٹ مارٹم کے بعد لاش سونپنے سے قبل ان کو تحریری طور پر دینا ہوگا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم ہاؤس سے سیدھے گھر لے جائیں گے،راستے میں کہیں بھی لاش رکھ کر بھیڑ اکٹھا نہیں کریں گے ،راہ مسدود کرنے اور احتجاج جیسا کوئی عمل نہیں کریں گے۔اس کے علاوہ بھی متعدد شقیں ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس طرح احتجاج کرنا جرم کیسے ہوسکتا ہے؟کیا حکومت کو نہیں معلوم کہ کوئی فرد یا معاشرہ اپنے کسی بھی پیارے کی لاش رکھ کر احتجاج نہیں کرنا چاہتا۔کیا اس کو اپنی خامیاں نہیں دکھائی دیتی ہیں؟اگر دہلی، لکھیم پور یا پھر اتراکھنڈ جیسے معاملات میں عوام احتجاج نہیں کرتے تو کیا انتظامیہ مجرمین کے خلاف اس طرح کی کارروائی کرتی؟ حکومت کو پہلے خود کو درست کرنا چاہیے، اس نے ایسا نظام کیوں بنا لیا ہے کہ کسی مظلوم کو انصاف نہ ملے اور اس کو مجبور ہو کر اپنے پیاروں کی لاشوں کو سڑکوں پر رکھ کر احتجاج کرنا پڑے۔کیا انصاف کے لیے کیے جانے والے احتجاج کو جرم بنایا جا سکتا ہے؟کیا احتجاج جرم ہے یا انصاف نہ دینا جرم ہے؟اگر حکومت عوام/اختلاف و احتجاج پر پابندی لگانے کے بجائے پولیس و انتظامیہ کو درست کرتے ہوئے انصاف کے عمل کو بہتر بنادے تو عوام کو احتجاج کی ضرورت ہی نہ پڑے مگر حکومت جب یہ کرے۔
[email protected]