ڈِس انوسٹمنٹ یا سرمایہ دارانہ لوٹ

0

سراج الدین فلاحی

کووڈ کے ساتھ ساتھ سرکار کی غیر متوقع پالیسیوں کی مار جھیل رہی معیشت میں جہاں تمام شعبہ جات بحران کے شکار ہوئے ہیں وہیں سرکاری خزانے پر بھی منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل جیسے وہ سیکٹرس جو جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر ہیں ان پر ٹیکس کے بے تحاشا بوجھ بڑھنے کے باوجود سرکار کا فزیکل خسارہ بڑھتا جا رہا ہے، چنانچہ سرکار اپنے ریونیو میں اضافہ کرنے کے لیے اب ڈِس انوسٹمنٹ کے عمل کو تیز کرنے جا رہی ہے۔ سرکار اپنے ریونیو میں اضافہ کرنے کے لیے اپنی کسی کمپنی یعنی Public Sector Undertakings-PSUs کے شیئرز جب کسی پرائیویٹ کمپنی کو بیچ دیتی ہے تو اسے ڈِس انوسٹمنٹ کہتے ہیں۔ ڈِس انوسٹمنٹ پرائیویٹائزیشن کی ابتدائی شکل ہے۔ پرائیویٹائزیشن کے تحت سرکار PSUs کے تمام یا نصف سے زیادہ حصوں کو بیچ کر کے سرکاری کمپنیوں کے زیر انتظام ادارے کو نجی ملکیت میں دے دیتی ہے جبکہ ڈِس انوسٹمنٹ میں سرکاری کمپنی کی ملکیت پرائیویٹ سیکٹر کی طرف منتقل نہیں ہوتی بلکہ کمپنی کے مالکانہ حقوق اور اس کے انتظام و انصرام سرکار کے پاس ہی رہتے ہیں۔ البتہ پرائیویٹائزیشن اور ڈِس انوسٹمنٹ دونوں صورتوں میں سرکار کے اثاثے کم ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر سرکار نے ایئر انڈیا کے شیئرز کسی پرائیویٹ ادارہ کو بیچ دیا تو اس سے سرکار کے پاس ریونیو تو بے شک آ گیا لیکن اس سے سرکار کے اثاثہ جات کم ہو گئے۔

آزادی کے بعد ملک کی معاشی نمو اور ترقی میں سرکار کا انحصار پبلک سیکٹر پر تھا اس لیے سرکار نے دوسرے پنج سالہ منصوبہ (61-1956) میں زراعت کے ساتھ ساتھ صنعت پر بھی فوکس کیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں بہت ساری انڈسٹریز لگائیں تاکہ معیشت کو فروغ حاصل ہو اور شہریوں کے درمیان آمدنی کی تقسیم کا توازن برقرار رہے۔ چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ نوے کی دہائی تک نہ صرف عوامی شعبہ جات کی تعداد نجی شعبے سے بہت زیادہ تھی بلکہ تمام شعبہ جات میں سرکار کا رول بھی نمایاں تھا۔

آزادی کے بعد ملک کی معاشی نمو اور ترقی میں سرکار کا انحصار پبلک سیکٹر پر تھا اس لیے سرکار نے دوسرے پنج سالہ منصوبہ (61-1956) میں زراعت کے ساتھ ساتھ صنعت پر بھی فوکس کیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں بہت ساری انڈسٹریز لگائیں تاکہ معیشت کو فروغ حاصل ہو اور شہریوں کے درمیان آمدنی کی تقسیم کا توازن برقرار رہے۔ چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ نوے کی دہائی تک نہ صرف عوامی شعبہ جات کی تعداد نجی شعبے سے بہت زیادہ تھی بلکہ تمام شعبہ جات میں سرکار کا رول بھی نمایاں تھا۔ 1991 میں جب ملک زبردست معاشی بحران کا شکار ہوا اور فاریکس ریزرو کی کمی آئی تو IMF سے رابطہ کیا گیا۔ IMF کے دباؤ میں انڈیا نے نئی معاشی پالیسی اپنائی۔ اسی پالیسی کے نتیجے میں آگے چل کر ملک میں پرائیویٹائزیشن کا عمل شروع ہوا۔ پرائیوٹائزیشن کا یہ عمل 2014 تک نہایت سست رہا۔ 2014 میں دیش بھگتی میں ڈوبی ایک ایسی سرکار نے ملک کے اقتدار پر قبضہ کیا جس کا نعرہ تھا کہ دیش بکنے نہیں دوں گا۔ قول و عمل کا اتنا بڑا تضاد کہ اپنے نعرے کے برخلاف اس نے بطور خاص انہیں کمپنیوں کی بولی لگا ئی جن کے ناموں میں کہیں نہ کہیں انڈیا یا بھارت لگا ہوا ہے۔ جیسے ایئر انڈیا، BSNL، BPCL، بھارتیہ ریل وغیرہ۔ سرکار نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہی ملکی اثاثوں کو بیچنا شروع کر دیا اور اس نے سال 2014 سے 2019 تک تقریباً ڈھائی لاکھ کروڑ روپے کے اثاثوں کو ڈِس انویسٹ کیا۔ موجودہ سال بجٹ میں پونے دو لاکھ کروڑ کے ڈِس انوسمنٹ کا تخمینہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ نقصان میں رہنے والی کمپنیوں کی نجکاری سے اس کی کارکردگی اور خدمات میں بہتری آتی ہے اور کچھ عرصہ میں وہ منافع بخش بن جاتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ نجکاری سے ملکی سرمایہ میں نہ کوئی اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی پیداواری قوتیں بڑھتی ہیں جس سے عوام کو کوئی فائدہ ہو۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ بڑی کمپنیاں ہی سرکاری اثاثوں کو خریدنے کی قدرت رکھتی ہیں یہ مزدور پر مبنی تکنیک نہیں بلکہ مشین پر مبنی تکنیک کا استعمال کرتی ہیں چنانچہ اس سے روزگار میں کمی واقع ہوتی ہے۔
یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ سرکار ان کمپنیوں کو نجی ہاتھوں میں بیچ رہی ہے جو سرکار کو ڈیویڈنڈ یعنی منافع دیتی ہیں اس میں BPCL, CONCOR, SCI, BEML وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ اب سرکار نے انشورینس سیکٹر کی نجکاری کی طرف قدم بڑھا دیا ہے۔ چنانچہ وہ LIC جس نے 1956 میں مختصر پونجی کے ساتھ اپنا سفر شروع کیا تھا۔ پچھلے مالی سال میں اس نے سرکار کو 2698 کروڑ روپے کا منافع دیا۔ وہ آج نہ صرف ایک لاکھ چودہ ہزار لوگوں کو ملازمت دے رہا ہے بلکہ ملک کے انفراسٹرکچر کو سدھارنے میں بھی اس کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ سرکار اسی LIC کا 25 فیصد IPO لا رہی ہے۔ ظاہر ہے اس IPO کے ذریعے کہیں نہ کہیں Share Capital نجی ہاتھوں میں جائے گا۔ انڈین ریلوے جس پر ملک کی معیشت کا دارومدار ہے۔ ملک میں روزگار فراہم کرنے میں اس کا آٹھواں سب سے بڑا مقام ہے اس میں بھی 151 ٹرینیں اور 109 روٹوں کا ڈِس انوسمنٹ ہو رہا ہے۔
خبروں کے مطابق آنے والے پارلیمنٹ سیشن میں سرکار بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949 میں تبدیلی کر سکتی ہے تاکہ بینکنگ سکیٹر کی نجکاری میں آسانی ہو۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ چند روز قبل وزیر اعظم کے کابینہ میں بہت بڑا بدلاؤ ہواہے۔36 نئے چہروں کو وزیر اعظم کے کابینہ کا حصہ بننے کا موقع ملا ہے۔ اس بدلاؤ کا سیدھا اثر نجکاری اور ڈِس انوسمنٹ پر پڑنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ یہ بھی امید ظاہر کی جارہی ہے کہ نجکاری اور ڈِس انویسمنٹ کے تعلق سے جو کام کاج سست چل رہے تھے اب اس میں تیزی آئے گی۔ چنانچہ اس کے لیے سرکار نے ڈپارٹمنٹ آف پبلک انٹرپرائز کو منسٹری آف فائنانس میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ڈپارمنٹ پہلے منسٹری آف ہیوی انڈسٹری اینڈ پبلک انٹرپرائز کے ماتحت تھا اب وہ وزیر مالیات نرملا سیتا رمن کے ماتحت کر دیاگیا ہے۔ یعنی اب نجکاری اور ڈِس انوسمنٹ کے کام کاج ایک ہی چھت کے نیچے ہوں گے اور آسانی سے ہوں گے۔
پرانی کہاوت ہے جب اولاد عیش و عشرت میں ڈوب کر اپنی زندگی میں ناکام ہو جاتی ہے اور قرضوں کے مایا جال میں پھنس کر زندگی کی کربناک صورت حال کا سامنا کرنے لگتی ہے تو وہ اپنے پرکھوں کی جائیداد بیچ کر کھاتی ہے۔ یہی حال سرکار کا ہے۔ سرکار جس تیزی سے ڈِس انوسٹمنٹ کر رہی ہے یا جس طرح پرائیوٹائزیشن کی طرف قدم بڑھا رہی ہے ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں مارکیٹ پر پرائیویٹ کمپنیوں کی مونوپولی ہو گی۔ دھیان رہے پرائیوٹائزیشن جب بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے تو اجارہ داری جنم لیتی ہے اور اجارہ داری مسابقہ آرائی کو ختم کر دیتی ہے لہٰذا اشیا اور خدمات مہنگی ہو جاتی ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ نجکاری کے بڑھنے سے جو مارکیٹ کے مضبوط اور طاقتور کھلاڑی ہیں وہ مزید طاقتور ہو جاتے ہیں۔ یہ لیبر قوانین کو بالائے طاق رکھ کر اپنی مرضی سے ملازمین کو نکالتے ہیں اور خریداروں کو لوٹتے ہیں۔ اس لیے اس وقت جس چیز پر سب سے زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ سرکار پرائیویٹ کمپنیوں کو ایسٹ انڈیا کمپنی نہ بنائے بلکہ انہیں انٹرپرائزز کو بیچے جو غیر پیداواری ہیں یعنی جن انٹرپرائزز سے سرکار کو زیادہ آمدنی حاصل نہیں ہو پاتی۔ اگر سرکار ایسے انٹرپرائزز کو بیچتی ہے جن سے سرکار کو زیادہ آمدنی ملتی ہے تو اس فروخت سے نہ صرف سرکار کے اثاثے کم ہوں گے بلکہ سرکار کی مستقل آمدنی کا ذریعہ بھی ختم ہو جائے گا اور ملک میں غربت بڑھنے کے ساتھ ساتھ آمدنی کی تقسیم چند ہاتھوں میں سمٹتی جائے گی۔ یاد رہے پرائیویٹائزیشن کا مطلب صرف کسی پیداواری یونٹ کو بیچ دینا نہیں ہے بلکہ اس کامطلب ایسے پیداوای اسٹرکچر کو ختم کرنا بھی ہے جو سرمایہ داروں کے کنٹرول سے باہر ہو۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here