افغان صدراشرف غنی کے بیان پرعمران خان کا سْت ردعمل

0
dawn.com

تاشقند (یو این آئی) : پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کے الزام کے درمیان پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک نے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان سے زیادہ کوششیں نہیں کیں، افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا الزام پاکستان پر دھرنا انتہائی ناانصافی ہے۔یہ بات انہوں نے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں وسطی اور جنوبی ایشیاکانفرنس میں کہی۔ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر اعظم عمران خان، ازبک صدر شوکت، افغان صدر اشرف غنی سمیت خطے کے ممالک کے اہم عہدیداران اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ڈان میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان کے صدر اشرف غنی کی جانب سے افغان تنازع میں پاکستان کے منفی کردار کی نشاندہی سے متعلق نقطہ نظر پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ افغانستان میں گڑبڑ سے جو ملک سب سے زیادہ متاثر ہوگا وہ پاکستان ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 15 برسوں میں 70 ہزار جانوں کا نقصان اٹھایا ہے ، تنازع میں اضافہ وہ سب سے آخری چیز ہوگی جو پاکستان چاہے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری معیشت بالآخر بحالی کی جانب گامزن ہے اور ہم سب سے مشکل ترین ادوار میں سے ایک سے گزرے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں دوبارہ دہراتا ہوں افغانستان میں گڑبڑ وہ آخری چیز ہوگی جو پاکستان چاہے گا، میں آپ کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ کسی ملک نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان سے زیادہ کوششیں نہیں کیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں

طالبان کے خلاف فوجی کارروائی میں کمی کے ساتھ ہم نے انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کی ہر کوشش کی ہے تاکہ پرامن تصفیہ ہوسکے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا الزام پاکستان پر دھرنا انتہائی ناانصافی ہے ، میں کابل گیا، اگر مجھے امن میں دلچسپی نہیں ہوتی تو میں کابل کیوں جاتا؟انہوں نے کہا کہ تمام تر مقصد یہ تھا کہ ہم پاکستان کو امن میں شراکت دار دیکھیں، مجھے بہت مایوسی ہوئی کہ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا الزام پاکستان پر لگایا گیا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ 2 دہائیوں سے جاری تنازع، گہری تقسیم کی وجہ سے ہو رہا ہے اور بدقسمتی سے امریکہ نے عسکری حل کی کوشش کی لیکن وہ نہیں جیتے ۔
پاکستانی وزیر اعظم عمران خاں نے کہا کہ اگر پاکستان اور ہندوستان مسئلہ کشمیر کو حل کر لیں تو پورا خطہ تبدیل ہوجائے گا، ایک جانب ہندوستان کی بڑی منڈی ہوگی، دوسری جانب چین اور ایک جانب پاکستان ہوگا لیکن بدقسمتی سے تنازعات کی وجہ سے صلاحتیوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا۔
وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ جب افغانستان میں ہزاروں نیٹو فوجی، بہترین فوجی مشنز تھے ، وہ وقت تھا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر آنے کو کہا جاتا، طالبان اب کیوں سمجھوتہ کریں گے جب افواج کے انخلا کی حتمی تاریخ دی جاچکی ہے اور صرف چند ہزار امریکی فوجی باقی رہ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب طالبان کو فتح کا یقین ہے تو وہ ہماری بات کیوں سنیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ میری ازبکستان کے صدر سے بھی اس حوالے سے طویل بات چیت ہوئی کہ ہم تمام پڑوسی ممالک مل کر کس طرح افغانستان میں امن اور سیاسی تصفیے میں مدد کریں کیوں کہ یہ ہم سب کے مفاد میں ہے ۔
عمران خان نے دہرایا کہ پاکستان میں 30 لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں اور ہم مزید پناہ گزینوں کی آمد کے خدشے سے خوفزدہ ہیں کیوں کہ ہمارے پاس گنجائش اور معاشی صلاحیت نہیں ہے کہ پناہ گزینوں کی ایک اور آمد برداشت کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ میں آپ کو ایک مرتبہ پھر یقین دلاتا ہوں کہ اگر دنیا کے تمام ممالک میں سے کوئی ایک ملک سب سے زیادہ کوششیں کر رہا ہے تو وہ پاکستان ہے ۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here