عدم تشد د کے نظریہ سے منحرف ہو تا ہندوستانی سماج اور سیاست

0

شاہد زبیری

ہندوستان کی پہچان جہاں سیکولر اور جمہوری آئین سے ہوتی ہے اس کی ایک پہچان عدم تشدد کا نظریہ بھی ہے جو اس کی عا لمی شناخت کا مضبوط وسیلہ رہا ہے۔ تشدد صرف گولی بندوق یا مار پیٹ یا ایذا رسانی کے مختلف طریقوں کا ہی نام نہیں غیر مہذب الفاظ ،غیر مہذب لہجہ اور زبان سے ادا ہو نے اور قلم سے کاغذپر نقش ہو نے والے ایسے وہ تمام الفاظ جو دلوں کو مجروح کرتے اور اشتعال پیدا کرتے ہیں تشدد کے دائرہ سے باہر نہیں مانے جاتے، گاندھی جی کے تین بندراسی کی علامت سمجھے جا تے ہیں اور گاندھی جی بھی اسی عدم تشدد کے فلسفہ اور نظریہ کی وجہ سے دنیا بھر میں احترام کی نظر سے دیکھے جا تے ہیں، اگر مذاہب کی تعلیمات کی بات کریںتو عام طور پر تمام مذاہب بھی عدم تشدد کی تعلیم کے داعی ہیں۔ عجیب طرفہ تماشہ ہے کہ آج پوری دنیا کاجو منظر نامہ تیزی سے ابھرا ہے وہ تشدد کا شکار ہے اور سیاست میں مذہب کو تشدد کے کار گر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ پورا عالم اسلام، اسرائیل،یوروپ اور امریکہ اسی لعنت میں مبتلاہیں اور اس کرئہ ارض پر کہیں بھی انسانیت کے لئے جا ئے پناہ نہیں، یہ کون طے کرے کہ اس میں مذہب کتنا ذمہ دار ہے اور سیاست کتنی قصور وار ۔ مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں مذاہب کے ماننے والے سیاست کے ہاتھ کا کھلو نا بنے ہو ئے ہیں۔ ہم اپنے ملک کی بات کریں تو ’جیو اور جینے دو‘ ’سرو دھرم سمبھو ‘اور’صلح کُل‘ کے نظریہ کا داعی ہندوستانی سماج اور سیاست بھی عدم تشد د کے نظریہ سے انحراف اور انکار کے راستہ پر بڑی سرعت سے گامزن ہے۔اس کا آغاز تو آزادی کے فوری بعد اس وقت ہو گیا تھا جب گاندھی جی کی بر لا ہائوس کی دعائیہ مجلس پر 20 جنوری 148کو مدن لال پاہوا نام کے شرنارتھی نوجوان اور اس کے ساتھیوںنے بم پھیکا اور فائرنگ کی تھی جس میں گاندھی جی بال بال بچ گئے تھے لیکن عدم تشد د کے نظریہ کی مخالف طاقتیںچپ نہیں بیٹھی تھیں اور زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ناتھو رام گوڈ سے کی پہلی گولی گاندھی جی کے سینے میں پیوست کر دی گئی تھی۔ یہ گولی گاندھی جی کے سینہ میں نہیں عدم تشدد کے فلسفہ اور نظیریہ کے سینہ پر داغی گئی تھی۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہئے عدم برداشت کا مادہ ’مت بھید‘کو ’من بھید ‘میں بدل کر تشدد کی راہ ہموار کر تا ہے۔
ہم آج کے ہندوستانی سماج اور سیاست کی بات کریں تو یہ مجموعی طور پر عدم برداشت سے ’مت بھید‘اور ’من بھید‘ کا امتیاز کرنے والی اس لکیر کو مٹا کر عدم تشددکے نظریہ سے عملی طور انکار کے راستہ پر آگے بڑھ رہا ہے۔ اسدالدین اویسی کی کا رپر فا ئرنگ تو اس کی بالکل تازہ مثال ہے۔ ملزمان گرفتار بھی کر لئے گئے ہیں ان کا الزام ہے کہ اویسی ہندوئوں کے خلاف اشتعال انگیزی کرتے ہیں، اویسی کے چھوٹے بھا ئی اکبر الدین اویسی پر بھی اشتعال انگیزی کے الزا مات ہیں۔ ماضی میں بال ٹھاکرے ، اشو ک سنگھل، پروین تو گڑیا، ساکشی مہاراج، پرگیہ ٹھاکر ،سادھوی رتھمبرا ،ونے کٹیارسے لے کر دہلی کے الیکشن اور سی اے اے مخالف مظا ہروں کے دوران مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کا یہ نعرہ دیش کے غداروں کو گولی مارو۔۔ وغیرہ والا نعرہ ، بی جے پی کے دہلی کے ایم پی پرویش ورما کا بیان، یو پی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ لنگی اورٹوپی غنڈو ں کی پہچان بتا تے ہیں، بی ایس پی کا پرا نا نعرہ ’تلک تروازو اور تلوار‘ماب لنچنگ کے خلاف کانسٹی ٹیوشن میںمنعقد سمینار میں عمر خالد پر کی گئی فائرنگ ، خود وزیر اعظم کی زبان سے ادا کئے گئے الفاظ ’کچھ لوگ لباس سے پہچان لئے جا تے ہیں‘ اروند کجریوال کے چہرے پر پھیکی گئی سیا ہی اور کسان لیڈراور معروف دانشور یو گیندر یادو کے چہرہ پر پوتی گئی سیا ہی اور رائے پور اور ہری دوار کی دھرم سنسد اور اس میں کی گئی اشتعال انگیزی، گاندھی کی توہین اور ایک مذہبی اقلیت کی نسل کشی اور حال میں پریاگ راج الٰہ باد میں سنت سمیلن کے نام پرتیسری دھرم سنسد کا انعقاد اور ہندو راشٹر کا اعلان آخر یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے اور کون اس کی پشت پنا ہی کررہا ہے جو دو ملزمان اویسی کی کار پر حملہ کے الزام میں گرفتار کئے گئے ہیں ان کو فکری اور ذہنی غذا کہاں سے مل رہی ہے۔ ان گرفتار نوجوانوں میں سچن نام کے ملزم کے پرو فائل کے حوالہ سے جو سامنے آیا ہے وہ اپنا نام راشٹر وادی سچن ہندو بتاتا ہے اور بی جے پی کا کا رڈ ہولڈر کارکن بتا یا جا تا ہے اور ایل ایل ایم کررہا ہے، اس واردات کا کلیدی ملزم ہے۔ اس کا بیان ہے کہ وہ 2017سے اویسی پر حملہ کا منصو بہ بنا رہا تھا اور حملہ کر نے کیلئے 2018میں اس نے پسٹل خریدا تھا ۔سچن گو تم بدھ نگر کا رہنے والا ہے ۔دوسرا ملزم شبھم سہار نپور کے نکوڑ تھانہ گائوں سانپلہ کا رہنے والا ہے، اس کے والدین کی موت ہو چکی ہے۔ وہ کافی دن سے گوتم بدھ نگرمیں اپنی بہن کے گھر پر رہتا ہے ۔ سچن اور شبھم کی ملاقات 2018 میں ہو ئی تھی جو دوستی میں بدل گئی۔ دونوں نے پولیس پوچھ گچھ میں اعتراف کیا کہ 2018 ہی میں انہوں نے اویسی کو سبق سکھا نے کی ٹھان لی تھی ۔ سوال یہ ہے کہ آخر ان کو یہ ترغیب کہاں سے ملی اور کیوں، وہ قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور سماج کو فرقہ وارانہ آگ میں جھونکنے کے لئے آمادہ ہو گئے۔ وہ خیر ہو ئی کہ اویسی سیاسی طور پر مسلم نو جوانوں کے ایک محدود طبقہ میں کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہوں ان کی مقبولیت نہ مو لا نا ارشد مدنی اور مو لا نا محمود مدنی جیسی ہے اور نہ شاہی امام مو لا نا سیّد احمد بخاری جیسی ورنہ فرقہ وارانہ اشتعال پھیلنے میں دیر نہ لگتی۔ یہی نہیں اگر یہ مذموم حر کت کوئی سرپھرا مسلم نو جوان کسی اکثریتی طبقہ کے لیڈر کے خلاف کر دیتا تو قیا مت ٹوٹ پڑتی ۔ اویسی پر حملہ کو ان کے مخالف بغیر کسی ثبوت کے اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم اور بی جے پی کی نو را کشتی بتا رہے ہیں۔ ان کے مطا بق کہ حملہ کے فوری بعد اور اویسی کے مطالبہ کے بغیر مرکزی وزارتِ داخلہ نے ان کو زیڈ زمرہ کی سیکورٹی دینے کا اعلان کر دیا جس کو لینے سے اویسی نے فوری طور پر انکار کر دیا اور پارلیمنٹ میں کہا کہ ان کو سیکورٹی نہیں اوّل درجہ کے شہری کا رتبہ چا ہئے۔ ظا ہر ہے کہ اس سے مراد صرف ان کی اپنی ذات نہیں بین السطور یہ ہے کہ مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری نہ ما نا جا ئے کلاس ون سٹیزن ما نا جا ئے ۔اویسی کی نیت پر کو ئی شک کئے بغیر اگر دیکھا جا ئے تو اس حملہ کا فائدہ اویسی اور بی جے پی دو نوں کو ملتا ہے اور حملہ آور بھی جانتے ہیں کہ ان کا کچھ بگڑنے والا نہیں، ان پر معمولی دفعات میں کیس درج ہوگا اور وہ ضمانت پر باہر آجا ئیں گے جیسے ان جیسوں کا پہلے کچھ نہیں بگڑا، ان کا بھی بال بانکا نہیں ہو گا۔یہ گمراہ نوجوان خود کو چندر شیکھر آزاد اور بھگت سنگھ سمجھ رہے ہیں جو دیش کے غداروں سے لڑرہے ہیں۔ یہ بات ان جیسے بہت سے نو جوانوں کے ذہنوں میں بٹھائی جا رہی ہیں اور ان کو غلط راستہ پر ڈالا جا رہا ہے اور اس حملہ کو اگر نورا کشتی نہ بھی ما نا جائے تو یہ ایک ایسی کوشش ضرور تھی کہ جس سے یوپی کا انتخاب پو لورائز ہو جا ئے اور ہندو مسلم رنگ اختیا ر کرلے لیکن اس حملہ سے ایسا کچھ ہو تا دکھا ئی نہیں دے رہا ہے مگر یہ صاف ہے کہ بی جے پی یو پی میں ہندوتوا کے سہا رے اور 80بنام 20کے نام پر یو پی کا انتخاب لڑ رہی ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ جب جا ٹوں کو میٹنگ میں یہ یا د دلا نے کی کو شش کرتے ہیں کہ وہ ماضی میں مغلوں کا مقابلہ کر چکے ہیں تو اس کا واضح پیغام کیا جا تا ہے۔ مغلوں کے بہا نے جاٹوں کو وہ کس کے خلاف لام بند کر نا چا ہتے ہیں ۔خود وزیر اعلیٰ جس زبان میں بات کررہے ہیں کیا وہ عدم تشدد کی زبان ہے کیا ایک مٹھ کا یو گی وہ بھی ناتھ مٹھ کا یو گی جس کی روایت مذہبی رواداری کی رہی ہے وہ اگر دو بارہ سرکار میں آنے پر اپنے سیاسی حریفوں کی گرمی کو دور کرنے اور بلڈوزر چلا نے کی دھمکی دے تو اس کو کس خانہ میں رکھا جائے؟ جواب میں لوکدل کے صدر جینت چو دھری چربی پگھلا نے کی بات کر یں،بی ایس پی سپریمو سہارنپور کی ریلی میں دلتوں کو شبیر پور کی یاد دلا ئیں اور مسلمانوں کو 2013کے فرقہ وارانہ فساد کی تو اس کا واضح مطلب ہے کہ ہمارا سماج اور ہماری سیاست نظر یات اور بنیادی سوالات سے بھٹک چکی ہے ۔عدم برداشت کا مادہ اور ایک دوسرے کے سیاسی نظریات ،مذہبی معتقدات کے اختلافا ت ہمیں گوارہ نہیں، ہم ایک دوسرے پر اپنے نظریات اور معتقدات تھو پنے کی کوشش کررہے ہیں اور اپنی قمیص کو دوسرے کی قمیص سے اجلا بتا کر عوام کو ورغلا رہے ہیں اور ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے کرناٹک کی دو معروف شخصیات جو سماج کو دھرم اور مذہب کے نام پر تقسیم کئے جا نے اور دبے کچلے سماج اور محروم طبقات کے حقوق کی لڑا ئی لڑ رہے تھے ،صحافی گوری لنکیش اور کلبر گی کے علاوہ مہا راشٹر کے پنسارے جیسے د انشور موت کے گھاٹ اتار دئے گئے۔
سچی با ت یہ ہے کہ اس کے لئے صرف بی جے پی کی موجودہ سرکاریں ذمّہ دار نہیں سیکو لر کہی جا نے والی سرکاروں کا بھی عملاً یہی وطیرہ رہا ہے۔ ہم نے گا ندھی کی شہادت کو رسمی طور پر یا د رکھا ہے، عملی طور پر ہمارا سماج اور ہماری سیاست عدم تشدد کے نظریہ ، سرو دھرم سمبھو کے سناتنی عقیدہ اور اکبر کی صلح کل کے نظریہ سے بہت پہلے پلّہ جھاڑ چکے ہیں۔ اب سمیناروں تک یہ جملے سمٹ کر رہ گئے ہیں اور ان لوگوں کا بھی قحط ہے جو ان نظریات کو اپنی زندگی میں اتارے ہو ئے تھے اور ان کی بقاکے لئے لڑ رہے تھے۔ ہم ماضی کی طرف پلٹ رہے ہیں، آگے کی طرف ہماری پیش رفت کو بریک سا لگ گیا ہے جبکہ ہمارے ملک کے صفِ اول کے رہنمائوںنے روشن مستقبل کی راہ پر ڈا لا تھا اور سائنس اور ٹیکنالوجی کو بنیاد بنایا تھا۔ اب ہمارے درمیان یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ قلم کتاب اور کا پی کی نہیں ہمارے جوانوں ہتھیاروں کی ضرورت ہے تو ایک خاص طبقہ سے ملک کو نجات دلائی جاسکے دھرم سنسد میں یہی سب کچھ پاٹھ ہما رے جوانوں کو پڑھا یا گیا اور ابھی بھی مختلف ناموں سے یہ کام کیا جا رہے لیکن ان کی لگام کسنے والا کو ئی نہیں۔
[email protected]