ادھو ٹھاکرے کو دھچکا، الیکشن کمیشن کے عبوری حکم کےخلاف درخواست خارج

0

نئی دہلی، (ایجنسیاں) : مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑا دھچکا لگا ہے۔ عدالت نے شیوسینا پارٹی کے نام اور انتخابی نشان کے استعمال پر پابندی لگانے کے الیکشن کمیشن کے عبوری حکم کے خلاف ادھو ٹھاکرے کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ وہ شیوسینا کے دونوں گروپوں کے درمیان جاری تنازع پر جلد از جلد فیصلہ کرے۔اس سے قبل پیر کو دہلی ہائی کورٹ نے شیوسینا کے نام اور نشان پر پابندی کے الیکشن کمیشن کے عبوری حکم کے خلاف ادھو ٹھاکرے کی درخواست پر سماعت کی۔ اس دوران عدالت نے پوچھا تھا کہ پارٹی گروپوں کے درمیان تنازع پر انتخابی پینل کے حتمی فیصلے کا انتظار کیوں نہیں کرنا چاہیے۔ عدالت نے کہا تھا کہ پہلے کا الیکشن کمیشن کا حکم ضمنی انتخابات کے مقصد سے تھا۔ کیا وہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہے؟ جب ضمنی انتخابات ہو چکے ہوتے ہیں تو ایسے میں عبوری حکم کا اب کوئی وجود ہی نہیں بچتا۔ ایسے میں عدالت کو الیکشن کمیشن کے حتمی رائے کا انتظار کیوں نہیں کرنا چاہیے؟ سماعت کے دوران جسٹس سنجیو نرولا نے کہا تھا کہ عدالت الیکشن کمیشن سے مرحلہ وار طریقے سے ’کمان اور تیر‘ نشان کا الاٹمنٹ کرنے کے معاملے پر فیصلہ کرنے کےلئے کہے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں گروپ الیکشن کمیشن کے سامنے اپنے دلائل پیش کر سکتے ہیں۔ اس پر الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش وکیل سدھانت کمار نے دلیل دی تھی کہ کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور کسی فیصلے پر پہنچنے کےلئے کوئی مخصوص وقت مقرر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ معاملے کی مزید سماعت 15 نومبر کو مقرر کی گئی تھی۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS