تیسری لہر کا کم ہوتا خطرہ

ملک کی دو تہائی آبادی میں کووڈ-19کے خلاف اینٹی باڈی بن چکی ہے، بلکہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ تقریباً 85 فیصد ہو سکتی ہے

0

جگل کشور

ابھی زیادہ دن نہیں گزرے ہیں، جب اپنے یہاں کورونا کی آنے والی تیسری لہر سے متعلق تشویش کا اظہار کیا جارہا تھا۔ کہا جارہا تھا کہ اگست کے وسط سے یہ لہر ملک میں دستک دے سکتی ہے اور اس مرتبہ بچوں پر یہ زیادہ اثرانداز ہوگی۔ مگر نئے اعدادوشمار ان خدشات کو کم کرتے نظر آرہے ہیں۔
راحت کی سب سے بڑی وجہ تو چوتھا نیشنل سیرو سروے ہے جو بتاتا ہے کہ ملک کی دوتہائی آبادی میں کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈی بن چکی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر تین میں سے دو ہندوستانی کورونا کی جنگ جیت چکے ہیں۔ 67.6فیصد اس محفوظ آبادی میں ہیلتھ ورکرس کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے اور تقریباً 80فیصد ڈاکٹر اور ہیلتھ ورکرس اب کورونا سے محفوظ ہوچکے ہیں۔ حالاں کہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ تقریباً 85فیصد ہوسکتی ہے۔ ایسا اس لیے کیوں کہ جو لوگ کورونا کی پہلی لہر میں متاثر ہوئے تھے، ان میں اب بیشک اینٹی باڈی نہیں نظر آرہی ہوگی اور سروے میں وہ غیرمحفوظ پائے گئے ہوں گے، لیکن اصلیت میں وہ آج بھی محفوظ ہیں۔ کورونا سے دوبارہ متاثر ہونے کی شرح اب بھی کافی کم ہے، بمشکل پانچ فیصد۔ اس لیے ہمارے ملک کی کافی بڑی آبادی اب ’امیون‘ سمجھی جاسکتی ہے۔ اس سے بچوں پر خطرے کا اندیشہ بھی کافی کم ہوجاتا ہے۔
ہمارا تجربہ یہی بتارہا ہے کہ گھر میں اگر کسی ایک ممبر کو کورونا ہوا تو کم و بیش پورا کنبہ متاثر ہوگیا۔ ایسا دوسری لہر میں کافی زیادہ نظر آیا، جس کا فیکٹر وائرس کا ڈیلٹاویریئنٹ تھا۔ یہ لہر پورے ملک میں نظر آئی تھی۔ سیرو سروے بھی اب بتارہا ہے کہ تقریباً 50فیصد بچوں میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت نظر آئی ہے۔ اس کا راست سا مطلب یہ ہے کہ ہمارے بچے کورونا وائرس سے متاثر ہوئے اور کامیابی کے ساتھ اس سے باہر نکل بھی آئے۔

اسرائیل جیسے ملک ’بوسٹر ڈوز ‘ دینے لگے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ’مکسڈ ڈوز‘(ایک خوراک کوویکسین اور دوسری خوراک کووی شیلڈ) دے کر ہم اپنی ضرورت پوری کرسکتے ہیں؟ ہم ٹیکہ کاری کا خاکہ بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔۔۔۔انفیکشن کے پھیلاؤ کو تھامنے میں اگر ہم ناکام رہتے ہیں تو ’بوسٹر ڈوز‘ کی ضرورت ہمیں بھی ہوسکتی ہے۔ کورونا کا کوئی بھی نیا ویریئنٹ ہماری مشکل میں اضافہ کرسکتا ہے۔ اس لیے ہماری حکمت عملی بنانے والوں کو ایسی پالیسی بنانی ہی ہوگی کہ کم سے کم ٹیکے سے ہم اپنی زیادہ سے زیادہ آبادی کو محفوظ کرلیں۔

تیسری لہر کا خطرہ اب ان لوگوں کو زیادہ ہے، جن کے جسم میں کسی نہ کسی وجہ سے ابھی تک اینٹی باڈی نہیں بن سکی ہے۔ ہندوستان کی بڑی آبادی کو دیکھتے ہوئے یہ 15فیصد لوگ بھی کم نہیں سمجھے جائیں گے۔ اس وقت خاص طور پر کیرالہ، آندھراپردیش، تمل ناڈو، شمال مشرق کی ریاستوں، جموں و کشمیر، لداخ وغیرہ علاقوں میں انفیکشن میں جو تیزی نظر آرہی ہے، اسے کورونا کی تیسری لہر ہی کہنا چاہیے۔ اس میں کورونا انفیکشن کے ’پیک‘ پر جانے، یعنی اپنے بلندترین چوٹی پر پہنچنے کا خدشہ نہیں ہے۔ یہ لہر اسی طرح سے کچھ ہزار لوگوں کو بیمار کرتی رہے گی اور پھرآہستہ آہستہ پرسکون ہوجائے گی۔
سوال یہ ہے کہ ہم اپنی صدفیصد آبادی کو کورونا سے کیسے محفوظ کریں؟ اس کا واحد جواب ہے، ان کے جسم میں کورونا کے خلاف اینٹی باڈی بناکر، پھر چاہے وہ انفیکشن سے ابھر کر بنے یا ٹیکہ کاری کے ذریعہ۔ چوں کہ انفیکشن کے بڑھنے کی خواہش نہیں کی جاسکتی، اس لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی ٹیکہ کاری ہی مفید راستہ ہے۔ دوسری لہر سے خوفزدہ لوگ ابھی ٹیکے کو لے کر پرجوش بھی ہیں۔ لہٰذا حکومت ملک کے ہر کونے میں ٹیکوں کی دستیابی یقینی بنائے۔ ممکن ہو تو اس کے لیے ٹیکوں کی خریداری میں اضافہ کیا جائے یا کچھ دیگر ٹیکوں کے ایمرجنسی استعمال کو منظوری دی جائے ۔
ابھی ملک کی تقریباً 45فیصد بالغ آبادی کو ہی ٹیکے کی پہلی خوراک مل سکی ہے، جبکہ دوسری خوراک پانے والوں کی تعداد اس سے کافی کم بمشکل 13فیصد ہے۔ پورے ملک میں ٹیکہ کاری مہم ضرور چل رہی ہے، لیکن اس کی رفتار کافی آہستہ ہے۔ ٹیکہ کاری کو رفتار دینے کے لیے ایسی پالیسی بنائی جاسکتی ہے کہ جن کو ایک مرتبہ کورونا ہوچکا ہے، ان کو فی الحال ٹیکہ نہ لگاکر خطرہ والی تقریباً 15فیصد آبادی کی جلد ٹیکہ کاری ہو۔ ’بریک تھرو انفیکشن‘ (مکمل طور پر ٹیکہ کاری کے بعد بھی وائرس کی زد میں آنا) کے معاملے زیادہ سامنے آنے کے باوجود اس سے ہم کورونا سے ہونے والی اموات کو کافی کم، تقریباً بہت کم کرسکیں گے۔
ابھی تک کی ریسرچ یہی بتاتی ہیں کہ کورونا جب اپنی شکل تبدیل کرتا ہے تو اس کا نیا ویریئنٹ لوگوں کو سنگین طور پر بیمار نہیں کرتا، بیشک وہ پھر سے انفیکٹڈ کردے۔ حالاں کہ یہ خطرہ بھی نہ رہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو ہم کنٹرول کرلیں۔ ابھی انفیکشن کی شرح کافی کم ہے، اس لیے اگر ٹیکہ کاری سے کم لوگوں کے جسم میں اینٹی باڈی بناسکیں، تو کورونا کی اگلی کسی لہر کا ہم مؤثر طریقہ سے سامنا کرسکیں گے۔ ابھی کورونا سے آزاد ہندوستان کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اگر دنیا میں ایک بھی انفیکٹڈ مریض ہے تو پوری بنی نوع پر مساوی طور پر خطرہ برقرار رہے گا۔ ہاں، یہ ہوسکتا ہے انفیکشن کی رفتار کو تھامنے کے لیے ہم فی الحال ان ممالک سے رابطہ منقطع کرکے رکھیں، جہاں مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ حالاں کہ یہ کتنا ممکن ہوسکے گا، اس کا جواب ابھی ٹھیک ٹھیک نہیں دیا جاسکتا۔
ظاہر ہے، ہمیں کافی سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔ متبادل کے تمام دروازے ہمیں کھول کر رکھنے ہوں گے۔ اسرائیل جیسے ملک ’بوسٹر ڈوز ‘ دینے لگے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ’مکسڈڈوز‘(ایک خوراک کوویکسین اور دوسری خوراک کووی شیلڈ) دے کر ہم اپنی ضرورت پوری کرسکتے ہیں؟ ہم ٹیکہ کاری کا خاکہ بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔ مثلاً ابھی 0.5ایم ایل کو انٹرامسکیولر انجکشن لوگوں کو دیا جارہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک شخص کو 0.5ایم ایل کی خوراک دی جاتی ہے۔ نئی ریسرچ بتاتی ہیں کہ انٹراڈرمل انجکشن بھی لگائے جائیں تو محض0.1ایم ایل خوراک سے ہم یکساں فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ یعنی 0.5ایم ایل سے ہم پانچ لوگوں کو ٹیکہ لگاسکیں گے۔
انفیکشن کے پھیلاؤ کو تھامنے میں اگر ہم ناکام رہتے ہیں تو ’بوسٹر ڈوز‘ کی ضرورت ہمیں بھی ہوسکتی ہے۔ کورونا کا کوئی بھی نیا ویریئنٹ ہماری مشکل میں اضافہ کرسکتا ہے۔ اس لیے ہماری حکمت عملی بنانے والوں کو ایسی پالیسی بنانی ہی ہوگی کہ کم سے کم ٹیکے سے ہم اپنی زیادہ سے زیادہ آبادی کو محفوظ کرلیں۔
(مضمون نگار سینئر پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ ہیں)
(بشکریہ: ہندوستان)

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here