عدالتوں کو بند کردیا جانا چاہیے!

0

’بلڈوزر انصاف کی مہم شروع تو کی گئی تھی مسلمانوں کوسبق سکھانے کیلئے لیکن اب اس کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے۔ لینڈ مافیا، بدعنوان سرکاری افسروں حتیٰ کہ وزرا کے ساتھ بھی مل کر اپنے مفاد کی تکمیل کیلئے مطلوبہ مکان و جائیداد بھی منہدم و مسمار کرانے لگے ہیں۔ملک کے مختلف حصوں میں جاری اس غیرقانونی انہدامی مہم پر عدالتوں کا انتہائی سنگین ردعمل بھی سامنے آرہا ہے۔ دو ہفتے قبل گوہاٹی ہائی کورٹ نے اسی طرح کے ایک معاملے میں آسام کی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پولیس اور حکومت کو انہدامی کارروائی کی اجازت دی جائے تو ملک میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔گوہاٹی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس آرایم چھایا نے پولیس حکام کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ قانون کے دائرہ میں رہ کر جرم کی تفتیش کریں، کسی کے مکان اور جائیدادکو منہدم کرنے کا کوئی قانون ملک میںنہیں ہے۔اسی طرح کے ایک اور انہدامی معاملہ میں اب پٹنہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس سندیپ کمار نے بھی ’ بلڈوزرانصاف‘ پر انتہائی سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس مکانات کو گرانے لگے تو پھر عدالتوں کو بند کردیا جانا چاہیے۔جسٹس سندیپ کمار پٹنہ کے اگم کنواں میں ایک مکان کو منہدم کیے جانے کے معاملے کی سماعت کررہے تھے۔ جسٹس سندیپ کمار نے کہا کہ پولیس لینڈ مافیا کے ساتھ مل کرکام کررہی ہے اورعرضی گزار کا مکان غیرقانونی طریقے سے منہدم کیاگیا ہے اوراس پر جھوٹامقدمہ بھی دائر کیاگیا ہے۔ اگر پولیس کو مکانات منہدم کرنے کا اختیار ہے تو پھر عدالتوں کو بند ہی کردیا جانا چاہیے۔ جسٹس سندیپ یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے اس انہدامی کارروائی میں ملوث پولیس افسران کو5لاکھ روپے فی کس کا جرمانہ لگاکر وہ رقم عرضی گزاراوراس کے اہل خانہ کو دینے کی بات بھی کہی۔جسٹس سندیپ کمار نے کہا کہ پولیس لینڈ مافیا کا ایجنٹ بن کر کام کررہی ہے اور یہ کام اسی وقت رک سکتا ہے جب کسی اعلیٰ پولیس افسر کو جیل بھیجاجائے۔
ہندوستانی آئین کی دفعہ300الف میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قانونی اختیار کے بغیر کسی بھی شخص کو اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جاسکتاہے۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے مختلف ریاستوں میں آئینی تقاضے پورے کیے بغیر جنونی انداز میں انہدامی مہم چلائی جارہی ہے۔ اس غیر قانونی مہم کے آغاز کا سہرا اترپردیش کی حکومت کے سر ہے جس نے تیز رفتار ’انصاف‘ کو یقینی بنانے کیلئے ’بلڈوزر ، کا ظالمانہ استعمال شروع کیا۔ شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019 کے خلاف احتجاج میں اترپردیش کی حکومت نے عوامی املاک کو تباہ کرنے میں مبینہ طور پر ملوث افراد سے ہرجانے کی وصولی کے احکامات جاری کیے اور احتجاجیوں کے گھر بار مسمار کرانے لگی۔اترپردیش کی یوگی حکومت دعویٰ تو یہ کرتی رہی کہ یہ مسماری غیر قانونی تجاوزات کے جواب میں کی گئی ہے۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ من مانی مسماریاں احتجاج کرنے والے مسلمانوں کے خلاف تھیں اور اس کا مقصد فسادات میں مبینہ طور پر ملوث افراد کو اجتماعی سزا دینا تھا۔
اترپردیش حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دوسری کئی ریاستوں خاص کر بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں نے غیر قانونی انہدام اور مسماری کاکام شروع کردیا ہے اور اس کی تاویل یہ دے رہی ہیں کہ اس سے ’انصاف‘ کا عمل تیز رفتار اور یقینی ہوجاتا ہے۔ حکومتوں کی یہ تاویل دراصل اپنے غیر قانونی اقدام کی ایسی بھونڈی پردہ پوشی کی کوشش ہے جو ان کا ننگ مزید اجاگرکردیتی ہے۔ایک طرف جہاں یہ ملکی آئین کے خلاف عمل ہے تو دوسری جانب عالمی معاہدوں میں بندھے ہندوستان کو بے توقیربھی کرناہے۔ ہمارے آئین کی دفعہ 21 میں جہاں رہائش کو بنیادی حق قرار دیا گیاہے وہیں اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدہ International Covenant on Economic, Social and Cultural Rights(آئی سی ای ایس سی آر)بھی ہمیں پابند کرتا ہے کہ کسی کی املاک اور جائیدادتباہ نہ کی جائے۔آئی سی ای ایس سی آر میں شامل ممالک اپنے شہریوں کیلئے رہائش کے حق کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے، مناسب اقدامات، کے بھی پابند ہیں۔اسی طرح انسانی حقوق کا بین الاقوامی منشور بھی انسانوں کی رہائش کو بنیادی انسانی حق کا درجہ دیتے ہوئے کسی فرد کی جائیداد کے حق میں صوابدیدی مداخلت کی راہ روکتا ہے۔لیکن اسلاموفوبیا اور مسلم دشمنی حکمرانوں اور انتظامی افسران کو اس سطح پر لے آئی ہے جہاں ان کے نزدیک آئین، قانون، بین الاقوامی معاہدے، انسانی حقوق سب غیرضروری ہوگئے ہیں۔ انتظامی اختیارات کا ناجائزاستعمال کرتے ہوئے لوگوں کے بنیادی حق پرشب خون مارا جارہا ہے۔ حکومتیں آئینی تقاضے پورے کیے بغیر انتظامی سطح پر اپنے من پسند فیصلے کرکے اس کانفاذ بھی کرنے لگیں تو ایسے میں عدالتوں کاوجود ہی بے معنی ہوکر رہ جائے گا۔ جسٹس سندیپ کمار کی زبان میںعدالتوںکو بند ہی کردیاجاناچاہیے۔
[email protected]