ویکسین لگانے والوں کو کورونا وائرس نقصان نہیں پہنچا پاتا

0
image:reuters.com

سری نگر: (یو این آئی) سری نگر کے ہسپتال برائے امراض سینہ کے سربراہ ڈاکٹر نوید نذیر شاہ نے کہا کہ ہم نے عملی طور پر دیکھا ہے جن لوگوں نے ابھی تک ویکسین لگائی ہے انہیں کورونا وائرس نقصان نہیں پہنچا پایا ہے۔
انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے غلط بیانات پر یقین نہ کریں اور ویکسین لگا کر اپنے آپ اور اپنے سماج کو اس وائرس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھیں۔
ڈاکٹر نوید نذیر نے ایک مقامی میڈیا ادارے کو بتایا: ‘ہم پہلے دن سے ہی کہتے آئے ہیں کہ اگر ہمیں اس وبا سے نجات پانی ہے یا اس بیماری کو دور بھگانا ہے تو ہماری پاس ایک موثر ویکسین ہونی چاہیے’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم نے عملی طور پر دیکھا ہے جن لوگوں نے ابھی تک ویکسین لگائی ہے انہیں کورونا وائرس نقصان نہیں پہنچا پایا ہے۔ ویکسین لگوانے والوں کو بھی کورونا وائرس ہو سکتا ہے لیکن ان میں اس وبا کی شدت بہت کم ہوگی۔ وہ اس بیماری سے بہ آسانی لڑ پاتے ہیں’۔
ڈاکٹر نوید نذیر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ ویکسین لگا کر اپنے آپ اور اپنے سماج کو اس وائرس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھیں۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں لوگوں سے یہی اپیل کروں گا کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے غلط بیانات پر یقین نہ کریں۔ ویکسین لگا کر اپنے آپ اور اپنے سماج کو محفوظ رکھیں’۔
قبل ازیں شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سری نگر کے ڈائریکٹر پروفیسر اے جی آہنگر نے کہا کہ کورونا ویکسین کے بارے میں غلط اور بے بنیاد افواہیں پھیلانے والے انسانیت کے دشمن ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ‘ویکسین سے جڑے جو بھی خدشات ہیں اور جو بھی ہچکچاہٹ ہے اس کو الوداع کہنے کی ضرورت ہے۔ اس سے متعلق تمام افواہیں غلط اور بے بنیاد ہیں’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘جو بھی لوگ ویکسین کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غلط اور بے بنیاد افواہیں پھیلا رہے ہیں وہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ وہ غلط پروپیگنڈا کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان افواہوں کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کسی نے شماریاتی ثبوت پیش کئے ہیں نہ سائنسی بنیادیں’۔
بتا دیں کہ ویکسین کے بارے میں پھیلائی جا رہی افواہوں نے وادی کشمیر میں لوگوں کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔
فرانسیسی ماہر وائرلوجسٹ اور نوبل انعام یافتہ لک مونٹاگنیئر سے منسوب ایک ‘جعلی خبر’ سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے یہ ویکسین لگوائی ہے وہ سب اگلے دو برس میں فوت ہوں گے۔
بعض افواہوں میں کہا جا رہا ہے کہ اس ویکسین کے لگوانے سے نوجوان خواتین بانجھ پن کا شکار ہوسکتی ہیں۔
تاہم ماہرین صحت ان تمام افواہوں کو بے بنیاد قرار دے کر لوگوں سے اس ویکسین کو لگوانے کی تاکید کر رہے ہیں۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here