کورونا سے ملک کی معیشت پر منفی اثر

0
The Indian Express

احمد آباد (یو این آئی): وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ہندوستان سمیت پوری دنیا کی معیشت پر کورونا وائرس کی وجہ سے انتہائی منفی اثر پڑا تاہم ملک کی معیشت جتنی ٹھہر گئی تھی اس سے کہیں زیادہ تیزی سے اب ٹریک پر لوٹ رہی ہے ۔انہوں نے آج 11 ستمبر 2001 کو امریکی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر خوفناک دہشت گردانہ حملے کی برسی کے موقع پر یہ بھی کہا کہ ہمیں اس طرح کے دہشت گردی کے واقعات کے سبق کو یاد رکھنا ہے اور ساتھ ہی انسانی اقدار کو مضبوط بنانے کے لئے پوری ایمانداری کے ساتھ کوشش کرتے رہنا ہوگا۔اپنی آبائی ریاست گجرات کے احمد آباد میں ویشنو دیوی سرکل کے نزدیک وشو پاٹیدارسماج کی جانب سے سبھی برادری کے غریب طلبااور دیگر لوگوں کی مدد کے لئے 400کروڑروپے کی لاگت سے سات لاکھ اسکوائر فٹ سے بھی زائد رقبہ میں تعمیر کئے جا رہے سردار دھام بھون کے پہلے مرحلہ کی ای-رونمائی اور دوسرے مرحلہ کے ای-بھومی پوجن کے موقع پر مسٹر مودی نے یہ بات نئی دہلی سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کہی۔انہوں نے کہاجب کورونا کی وبا آئی تو اس نے پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کیا۔ اس کا ہندوستان پر بھی بہت اثر پڑا ، ہماری معیشت ہلاکت خیز وبا سے جتنی ٹھہر گئی تھی اس سے کہیںزیادہ تیزی سے اب ٹریک پر لوٹ رہی ہے ۔ ہم اس وقت اصلاحی پروگراموں کو نافذ کر رہے تھے جب دنیا کی بڑی معیشتیں دفاعی پوزیشن میں تھیں۔ جب عالمی سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی ، تب ہم نے نئے حالات کے رخ کو ہندوستان کے حق میں موڑنے کے لئے پی ایل آئی جیسی اسکیمیں شروع کیں ، جس سے ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فائدہ ہوگا۔ 21 ویں صدی میں ہندوستان کے پاس مواقع کی کمی نہیں ہے ۔ ہمیں اپنے آپ کو ایک عالمی رہنما کے طور پر دیکھنا ہے اور اپنی بہترین کوشش جاری رکھنی ہے ۔9/11 کے دہشت گردانہ واقعہ کو یاد کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ آج 11 ستمبر ہے جو پوری دنیا میں انسانیت پر حملے کے لیے جانا جاتا ہے ۔ لیکن آج ہی کے دن 1893 میں شکاگو میں منعقدہ مذاہب کانفرنس میں سوامی وویکانند نے پوری دنیا کو ہندوستان کے انسانی اقدار سے متعارف کرایا تھا اور دنیا اب سمجھ رہی ہے کہ 9/11 جیسے سانحات کا حل انسانی اقدار کے ذریعے سے ہی ہوگا ۔ ہمیں اس طرح کے دہشت گردی کے واقعات کے سبق کو یاد رکھنا ہے اور ساتھ ہی ہمیں ان کے تدارک کرنے کے اہل انسانی اقدار کو مضبوط بنانے کے لیے پوری ایمانداری کے ساتھ کوشش کرتے رہنا ہوگا۔واضح رہے کہ سرداردھام کے پہلے مرحلے میں 800 طلبا اور اتنی ہی طالبات کے لیے الگ ہاسٹل ، 1000 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش والی لائبریری ، 450 افراد کی گنجائش والا آڈیٹوریم اور 1000-1000 کی گنجائش والے دو کثیر المقاصد ہال تعمیر کئے گئے ہیں۔ان کے تعمیرات پر تقریبا 200 کروڑ خرچ کئے گئے ہیں۔دوسرے مرحلے کے تحت 2500 غریب لڑکیوں کے لیے ہاسٹل بھی تعمیر کئے جائیں گے ۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here