ہندوستان میں کورونا کیسزکی تعداد میں گراوٹ کا سلسلہ بتدریج جاری،شفایابی کی شرح بڑھ کر91.60 فیصد

0

نئی دہلی: (یواین آئی) ملک میں جان لیوا اور مہلک ترین کورونا وائرس کے کیسز کی کمی کا سلسلہ بتدریج جاری ہے ۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد ایکٹیو کیسز سے زیادہ تھی ، جس سے شفایابی کی شرح 91.60 فیصد رہی۔
ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 1.52 لاکھ سے زیادہ نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور 2.38 لاکھ سے زیادہ صحت مند ہوئے ہیں۔ اسی مدت کے دوران صحتمند افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ایکٹیو کیسز میں 88416 عدد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
دریں اثنا اتوار کے روز 10 لاکھ 18 ہزار 76 افراد کو کورونا کے ویکسین لگائے گئے۔ ملک میں اب تک 21 کروڑ 31 لاکھ 54 ہزار 129 افراد کو ویکسین لگائے جا چکے ہیں۔
مرکزی وزارت صحت کی جانب سے پیر کی صبح جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 152734 نئے کیسز کی آمد کے ساتھ متاثر ین کی مجموعی تعداد بڑھ کر دو کروڑ 80 لاکھ 47 ہزار 534 ہوگئی ۔ اسی عرصے کے دوران دو لاکھ 38 ہزار 22 مریض صحت مند ہوئے جس سے ملک میں شفایاب مریضوں کی مجموعی تعداد دو کروڑ 56 لاکھ 92 ہزار 342 ہوگئی۔
ایکٹیو کیسز کی تعداد 88416 سے گھٹ کرمجموعی تعداد 20 لاکھ 26 ہزار 92 رہ گئی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 3128 مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جس سے اس موذی و مہلک وبا سے مرنے والوں کی کل تعداد تین لاکھ 29 ہزار 100 ہوگئی ہے۔
ملک میں ایکٹیو کیسز کی شرح گھٹ کر 7.22 فیصد ہوگئی ہے جبکہ اموات کی شرح 1.17 فیصد ہے۔
ملک میں جان لیوا اورموذی کوروناوائرس سے سب سے زیادہ متاثر ریاست مہاراشٹر ہے جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایکٹیو کیسز کی تعداد 4746 سے گھٹ کر 274601 ہوگئی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ریاست میں مزید 22532 مریضوں کی شفایابی سے صحت مند ہونے ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 5362370 ہوگئی ہے ، جبکہ 814 مزید مریضوں کی ہلاکت کے ساتھ اموات کی تعداد کل 94،844 ہوگئی ہے۔
اسی عرصے کے دوران ریاست کیرالہ میں ایکٹیو کیسز 9305 سے گھٹ کر مجموعی تعداد 2،24،120 رہ گئی ہے اور 28،100 مریضوں کے صحت مند ہونے سے شفایاب مریضوں کی مجموعی تعداد 2252505 ہوگئی ہے جبکہ 186 مزید مریضوں کی موت سے ہلاکتوں کی مجموعی 8641 ہوگئی۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here