گفتگو کے بھی ہوتے ہیں آداب کچھ

0

ڈاکٹرحافظ کرناٹکی

اسلام ایک مکمل دین ہے، اور اسے لانے والے نبی رحمت صلّی اللہ علیہ وسلّم کامل انسان تھے۔ اس لیے اسلام میں ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات کی واضح طور پر تعلیم دی گئی ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ اور کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس کی وضاحت اسلام نے نہیں کی ہو۔
اسلام میں گفتگو کے آداب پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، کیوں کہ گفتگو کا مطلب ہی ہوتا ہے ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرنا، اپنی بات دوسروں تک پہونچانا اور دوسروں کی باتیں توجہ سے سننا، اگر یہ کہا جائے کہ ایک انسان کا دوسرے انسان سے براہ راست تعلق گفتگو کے ذریعہ ہی قائم ہوتا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ پھر یہ کیسے ممکن تھاکہ اسلام گفتگو کے آداب، اور اس کی خصوصیات پر روشنی نہیں ڈالتا۔ اسلام میں شیریں لہجے اور نرم و ملائم انداز میں گفتگو پر زور دیاگیاہے اور اسے نیکی قرار دی گئی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی نرم گفتگو اور شیریں کلامی کی تائید کی ہے۔ سورہ لقمان میں حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو اس طرح نصیحت کی ہے؛’’اپنی آواز کو دھیمی رکھا کرو، کرخت آواز تو گدھے کی ہوتی ہے۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ شرافت سے مہذب انداز میں گفتگو کرنی چاہیے۔ گفتگو کرتے وقت بہت تیز رفتاری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ گفتگو اس طرح بھی نہیں کرنی چاہیے کہ سننے والے کو سمجھنے میں تکلیف ہو اور ایسا لہجہ بھی اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ سننے والے کو برا لگے۔ یوں بھی چیخنا، چلانا، اور غیر مہذب انداز میں گفتگو کرنا شرافت اور ذہانت کی دلیل نہیں ہوتی ہے۔ تعلیم کے جہاں بہت سے فائدے بیان کیے جاتے ہیں، وہاں یہ فائدہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ تعلیم یافتہ انسان اپنی خود اعتمادی کھوئے بغیر سامنے والے کی ہر طرح کی بات نہایت صبر و تحمل سے سن سکتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے براہ راست گفتگو کے آداب سکھائے ہیں۔ اور خود حضور اکرمؐ نے بھی گفتگو کے آداب پر بہت اچھی تعلیم دی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا تو یہ نصیحت فرمائی کہ فرعون کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرنا شاید وہ نصیحت حاصل کرلے یا اللہ کا خوف اس میں پیدا ہو۔‘‘
اس آیت کریمہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ باالعموم ہر انسان کو نرم گفتار اور شیریں بیان ہونا چاہیے۔ اور باالخصوص تبلیغ دین کے لیے کام کرنے والے کو تو نہایت شیریں زبان ہونا چاہیے۔ انسانی فطرت یہ ہے کہ جب اسے کوئی محبت اور احترام کے ساتھ مخاطب کرتا ہے، اور اس کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس سے گفتگو کرتا ہے تو وہ متکلم کی بات ضرور ہی توجہ سے سنتا ہے۔ اس کے بر خلاف اگر کسی انسان کو بد تمیزی، بدکلامی، اور غیر مہذبانہ انداز میں مخاطب کیا جاتا ہے تو وہ بولنے والے کے مرتبے اور علم کا خیال رکھے بغیر اس کی باتوں سے یکسر انکار کر دیتا ہے۔ عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے کہ جب دو لوگ آپس میں کسی موضوع پر بحث کرتے ہیں تو وہ صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ تحمل سے کام نہیں لیتے ہیں۔ حتیٰ کے نوبت یہاں تک پہونچ جاتی ہے کہ وہ جس موضوع پر بحث کررہے ہوتے ہیں وہ موضوع بھی گم ہوجاتا ہے۔ اور دونوں محض ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ ان میں صلح کرانے کی راہ بھی مخدوش نظر آنے لگتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے بحث مباحثہ سے اسلام مسلمانوں کو دور رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ اور صاف صاف کہتا ہے کہ اگر کسی سے بحث بھی کرنا ہو تو نہایت صبر و تحمل اور مہذب انداز میں کرنا چاہیے۔ بحث اصل موضوع کی وضاحت اور تشریح کے لیے ہونی چاہیے۔ ذاتی دلچسپی، پسند، اور ناپسند پر نہیں ہونی چاہیے۔ اور نہ بحث کے درمیان اپنی انا کو آنے دینا چاہیے۔ اس طرح کی بحث اور تکرار سے دوست بھی دشمن بن جائے گا۔ اور دین کا کوئی بھلا نہیں ہوگا۔دیکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ جب انسان آپس میں بحث کرتے ہوئے غصّے میں آجاتا ہے تو وہ حکمت و دانائی سے کوسوں دور ہوجاتا ہے اور اس کی بحث بیکار کی بحث میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ خوش کلامی، نرم گفتاری، اور شریفانہ لہجہ میں گفتگو کی جب اتنی زیادہ اہمیت ہے تو پھر انسان شور و غوغا اور غصّہ و غضب کا شکار ہو کر اس نعمت سے محروم کیوں ہوجاتا ہے؟ یا یہ کہ اسے حاصل کرنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ اس کا بے حد آسان جواب ہے حضور اکرمؐ کی سیرت مبارکہ سے آگاہی۔ آپؐ کے عادات و اخلاق سے واقفیت، یوں بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اخلاق و عادات، اطوار وضع قطع، طرز کلام، طرز تخاطب، نشست و برخواست، چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے، لوگوں سے ملنے ملانے، باتیں کرنے، سلوک کرنے، غرض یہ کہ ہر معاملے میں حضوراکرمؐ کا طریقہ اپنائے تا کہ وہ مسلمانوں کی جملہ خوبیوں کا پیکر بن سکے۔حضورؐ کی سیرت سب سے پہلا سبق یہی دیتی ہے کہ مومن کبھی مایوس نہ ہو۔غمگین نہ ہو، چہرے پر ہر وقت بشاشت اور مسکراہٹ رہے، چہرے بشرے سے خندہ پیشانی کی روشنی جھلکتی رہے۔ دوسروں کے لیے اس کی آنکھوں میں محبت، احترام اور نیک جذبات ہوں، کیوں کہ کینہ، نفرت، بغض نہ صرف یہ کہ انسان کے اخلاق و کردار کو برباد کردیتی ہے بلکہ اس کے چہرے کی معصومیت، اور ملائمت کو بھی مسخ کردیتی ہے۔ اور ایک عجب طرح کی اجنبیت اور کرختگی چہرے کے رنگ میں ایسا بھنگ ڈال دیتی ہے کہ جو بھی اس کی طرف نظر کرتا ہے گھبرا جاتا ہے۔حضور اکرمؐ کا چہرہ انور ہمیشہ تبسم ریز رہا کرتا تھا۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا قول حدیث شریف میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’میں نے نبی کریمؐ کے چہرے سے زیادہ مسکراتا ہوا اور کوئی چہرہ نہیں دیکھا۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نقل کرتی ہیں کہ حضورؐ جب گھر میں داخل ہوتے تو آپؐ کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی۔آپ تصوّر کیجئے کہ نبی اکرمؐ کو کن کن مصائب کا سامنا کرنا پڑاتھا۔ لوگوں نے آپؐ کو ستانے میں کون کونسے طریقے نہیں اپنائے۔ حضورؐ کے خاندان والوں، دوستوں، اور ان پر ایمان لانے والوں پر ظلم کے کیسے کیسے پہاڑ نہیں توڑے گئے، خود حضورؐ کو قتل کرنے کی کئی بار سازشیں کی گئی۔ منافقین کی ایک جماعت ہر وقت مسلمانوں کو آزار پہونچانے کی سازش میں لگی رہتی تھی۔ اس کے باوجود حضورؐ کے چہرے پر بشاشت اور تبسم کی روشنی پھیلی رہتی تھی۔
امام غزالی اپنی مشہور زمانہ کتاب کیمیائے سعادت میں لکھتے ہیں کہ انسان چار قسم کی باتیں کرتا ہے۔ اوّل وہ باتیں جن میں نقصان ہی نقصان ہے۔ دوم وہ باتیں جن میں نفع زیادہ اور نقصان کم ہے۔ سوم وہ باتیں جن میں نفع کم اور نقصان زیادہ ہے۔ چہارم وہ باتیں جن میں نفع ہی نفع ہے۔ یہ باتیں بظاہر بہت حکمت سے بھری نہیں معلوم ہوتی ہیں، مگر غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ان چار اقسام کی گفتگو سے ہم اپنے آپ کو جان سکتے ہیں۔ اپنا محاسبہ کرسکتے ہیں۔ اپنی گفتگو کے فائدے اور نقصان سے آگاہی حاصل کرسکتے ہیں۔ اور جب ہم یہ جان لیں گے کہ دراصل گفتگو ایسی ہونی چاہیے جس سے فائدہ ہی فائدہ حاصل ہو تو پھر ہم بہت ساری برائیوں سے اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ان ساری گفتگو کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام نے ہمیں گفتگو کے جو آداب سکھائے ہیں ہمیں ان پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ اگر ہم نے اسلام کے بتائے طرز تکلّم اور طرز تخاطب کو اپنی زندگی کا حصّہ بنالیا تو ان شاء اللہ ہم ہر جگہ اور ہر حال میں سرخرو ہوں گے۔