حجاب پر تنازع: انتظار فیصلے کا!

1

کسی غیر متنازع ایشو کو متنازع کیسے بنایا جاتا ہے، ادھر کے برسوں میں یہ کئی بار دیکھنے میں آیا ہے۔ فرانس اور یوروپ کے دیگر ملکوں میں حجاب پر تنازع کی خبریں آتی تھیں تو حیرت ہوتی تھی کہ کیا حجاب بھی موضوع تنازع بن سکتا ہے مگر آج کرناٹک میں یہی حجاب موضوع تنازع ہے اور بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اڈوپی ضلع انتظامیہ کو ضلع میں سبھی ہائی اسکولوں کے آس پاس کے علاقوں میں 19 فروری تک کے لیے دفعہ 144 کے تحت حکم امتناعی نافد کرنا پڑا ہے، حجاب معاملے کی سنوائی کرناٹک ہائی کورٹ میں چل رہی ہے، وہ بھی بڑی بینچ اس کی سنوائی کر رہی ہے۔ آج کی سنوائی میں عدالت کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی، چنانچہ سنوائی کل بھی جاری رہے گی۔ اس کے بعد عدالت کے فیصلہ سنانے کے بعد ہی یہ اندازہ ہوگاکہ وہ ملبوسات کی آزادی کے بارے میں کیا سوچتی ہے، تعلیمی اداروں میں طالبات کو حجاب کے استعمال کی اجازت ملے گی یا نہیں۔ ویسے طالبات کی طرف سے سینئر ایڈووکیٹ دیودت کامت نے جو باتیں عدالت کے سامنے رکھی ہیں، وہ واقعی توجہ طلب اور قابل غور ہیں۔ سینئر ایڈووکیٹ نے کہا کہ اسلامی احکامات کے تحت طالبات کے لیے حجاب کا استعمال ضروری ہے اور آئین کے آرٹیکل 14، 19 اور 25 کے تحت اسٹیٹ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ ان کے اس حق میں مداخلت کرے۔ دیو دت کامت کی یہ بات بے حد اہمیت کی حامل ہے کہ کیندریہ ودیالیہ جب حجاب کے استعمال کی اجازت دیتا ہے تو پھر اسٹیٹ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا پہننا ضروری نہیں ہے۔
امید کی جانی چاہیے کہ حجاب پر تنازع کو کرناٹک ہائی کورٹ ختم کر دے گا اور بات آگے نہیں بڑھے گی۔ سمجھنا یہ بھی ہوگا کہ اس تنازع کی وجہ سے طلبا کی تعلیم کا نقصان ہو رہاہے، اس کے علاوہ طلبا کے خواہ مخواہ کے تنازع میں پڑنے سے معاشرے کے ماحول میں بگاڑ کا اندیشہ ہے، اس لیے حجاب پر تنازع جتنی جلد ختم ہوجائے، اتنا ہی اچھا ہے تاکہ اس تنازع کے بہانے ٹی آر پی کے لیے صحافت کرنے والوں اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر سیاست کرنے والوں کو سماج میں اور زہر گھولنے کا موقع نہ ملے۔ ویسے کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو حالات کا اندازہ ہے، اسی لیے انہوں نے میڈیا سے زیادہ ذمہ دار بننے کی بات کہی ہے اور اسے یہ احساس دلایا ہے کہ وہ جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ میڈیا ذمہ دارانہ رول ادا کرنے لگے، وہ خواہ مخوہ کسی ایشو کو متنازع نہ بنائے، وہ پارٹی نہ بنے تو تنازعات کو سیاست کی ہوا نہ لگے، سیاست داں تنازع کی آگ پر روٹی نہ سینکیں مگر میڈیا کے ٹی آر پی کا کھیل اکثر تنازع پیدا کرنے یا اسے ہوا دینے کی وجہ بنتا ہے۔ کوروناکی پہلی لہر میں یہ میڈیا ہی تھا جس نے 130 کروڑ سے زیادہ کی آبادی کے لیے ڈھائی ہزار تبلیغی جماعت کے لوگوں کو خطرہ بتا دیا تھا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ ان کی وجہ سے کروڑوں ہندوستانی متاثر ہوں گے، اسی میڈیا نے اس وقت چپی سادھ لی تھی جب مہاجر مزدور پیدل ہی گھر جانے پر مجبور ہوئے تھے، اس نے ان کی مدد کرنے والوں پر بھی زیادہ توجہ نہیں دی تھی۔ اسی طرح حجاب معاملے میں بھی بیشتر میڈیا والوں کا رخ قابل تعریف نہیں رہا ہے، وہ اسے مسلم طالبات کا ایشو بنانے کے لیے کوشاں رہے ہیں جبکہ یہ ایشو صرف مسلم طالبات کا نہیں، ملک کی اس سنسکرتی اور ثقافت کا بھی ہے جس کی حفاظت کا دم آر ایس ایس، اس کی ذیلی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں بھرتی رہی ہیں۔ خود مسلم طالبات اور ان کے والدین نے حجاب کے ایشو کو اگر اپنے مذہب تک ہی محدود کر کے دیکھا ہوتا تو وہ اپنا مقدمہ لڑنے کے لیے سینئر ایڈووکیٹ دیو دت کامت کو نہ چنتے مگر اس ملک کی یہی خوبی ہے کہ یہاں کے بیشتر لوگ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد تو کرتے ہیں مگر اسے خواہ مخواہ مذہب کا رنگ دینے کی کوشش نہیں کرتے، جدوجہد بھی اس لیے کرتے ہیں، کیونکہ انہیں اس ملک کے دستور، عدلیہ اور لوگوں پر یقین ہے۔ اگر یہ یقین ختم ہو جاتا ہے تو پھر عدالتوں کے دروازوں پر جانے کی جستجو، عدالت سے انصاف حاصل کرنے کی جدوجہد ختم ہو جاتی ہے اور ایک نئی قسم کی جدوجہد شروع ہو جاتی ہے مگر حجاب کے استعمال کی اجازت حاصل کرنے کے لیے طالبات نے عدالت کا رخ کرکے یہی ثابت کیا ہے کہ انہیں ملک کی عدالت پر یقین ہے۔ توقع یہ رکھی جانی چاہیے کہ عدالت کا فیصلہ ان کے اس یقین کو اور پختہ کرے گا اور ان لوگوں کے لیے بھی ایک نظیر بنے گا جن کا عدالتوں پر اعتماد ججوں کے سیاست میں جانے یا کسی مخصوص پارٹی یا لیڈر کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے متزلزل ہوا ہے۔
[email protected]

1 COMMENT

  1. nangay rahnay pur pabundi honi chahiye baqi dhoti penaen ya lungi ya pajama shalwar saree etc jo chahaen pehannay maen rukawat nahi honi chahiae

Comments are closed.