قناعت صبر اور شکر

0

ڈاکٹر حافظ کرناٹکی

قناعت اللہ کی بخشی بڑی نعمت ہے، قناعت انہیں لوگوں میں پایا جاتا ہے جو اللہ پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ جو جانتے ہیں اور دل سے مانتے ہیں کہ اللہ نے ان کے لیے جو مقدر فرمادیا ہے وہ ہو کر رہے گا۔ جن لوگوں کا ایمان اور عقیدہ بہت مضبوط نہیں ہوتا ہے ان کے یہاں قناعت نہیں ہوتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ صبر و قناعت ایسے الفاظ ہیں جو مترادف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور دونوں کے قریب قریب ایک ہی معنیٰ ہیں۔ لہٰذا یہ بات بھی واضح ہو جانی چاہیے کہ صبر اس چیز کو نہیں کہتے ہیں کہ جو ہمارے پاس نہیں ہے ہم اس پر صبر کریں، جو چیز ہمارے پاس ہے ہی نہیں اس پر کیسا صبر، صبر اس کو بھی نہیں کہا جاتا ہے کہ کوئی ظالم اور طاقتور ہم پر ظلم کرے اور ہم اسے خاموشی سے برداشت کریں۔ یہاں بھی صبر کا جواز نہیں ہے کیوں کہ طاقتور کا کچھ بگاڑ ہی نہیں سکتے ہیں۔ صبر دراصل نام ہے قدرت اور طاقت دولت اور ثروت رکھتے ہوئے قناعت پسندی اختیار کرنے کا۔ یعنی اللہ نے دولت دی ہے تو اسے حاجت مندوں میں تقسیم کردیں اور خود فقر کو اپنائیں، کسی کمزور نے آپ کو گالی دی، یاذلیل کیا تو آپ طاقت رکھتے ہوئے اسے معاف کردیں یہ صبر ہے۔ اللہ نے آپ کو دولت و ثروت نوازا ہے تو آپ اس سے ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کردیں، اور خود روکھا سوکھا کھاکر گذر بسر کریں یہ قناعت ہے۔ بہت مشہور واقعہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی خدمت میں کسی نے ایک لاکھ دینار تحفے میں بھیجے۔ حضرت عائشہ ؓ نے صبح سے شام تک سارے دینار ضرورت مندوں میں تقسیم کردیے اور خود سوکھی روٹی سے یاکھجور سے افطار کیا یہ قناعت ہے۔ قناعت یہ نہیں ہے کہ آپ تنگ دست ہیں اور اسی پر اکتفا کرکے بیٹھ گئے ہیں۔ قناعت یہ نہیں ہے کہ کسی نے آپ کی محنت کا بدلہ آپ کو نہیں دیا۔ یا کم سے کم دیا اور آپ خاموش رہ گئے۔ یہ سب ایک طرح کا ظلم ہے اور اسے برداشت کرنا ظلم برداشت کرنے کے برابر ہے۔ جس کا اسلام میں کوئی تصوّر نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اسلام میں ظالم کی سزا متعین کر دی گئی ہے۔ اور طاقت رکھتے ہوئے ظلم سہنے والے کو بھی اللہ کی پکڑ سے باخبر کردیا گیا ہے۔ا س لیے صبر و قناعت کی غلط تاویل کے پھیر میں نہیں پڑنا چاہیے۔
حضورؐ کی پوری زندگی صبر و قناعت کی زندہ جاوید مثال ہے۔ سب سے پہلے آپ یہ بات ذہن میں بٹھالیں حضورؐ دنیا کی کسی بھی طاقت کے سامنے کبھی بھی کمزور نہیں تھے۔ کیوں کہ اللہ ہر وقت ان کے ساتھ تھا، طائف کا واقعہ یاد کیجئے۔ طائف والوں نے آپ پر ظلم کی حد کردی، لیکن آپؐ کمزور اور بے بس نہیں تھے۔ فرشتوں نے آکر درخواست کی کہ آپؐ اجازت دیں تو ان لوگوں کو دوپہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دیں۔ لیکن آپؐ نے انہیں معاف کردیا۔ فرشتوں کے ذریعے بھیجے گئے اللہ رب العزت کی اس لازوال محبت پر قناعت کیا۔ اپنے سے کمزور اور کمتر لوگوں کے ظلم پر صبر کیا۔ جبکہ آپؐبدلہ لینے کی بہت ہی زبردست طاقت رکھتے تھے۔ اسلام کی پوری تاریخ پر نظر ڈال لیجئے۔ ہر صحابیؓ ، ہر سپہ سالار آپ کو صبر و قناعت کا پیکر نظر آئے گا۔ سپہ سالار ان اسلام اپنا فوجی دستہ لے کر نکلتے تھے اور کوئی ملک فتح کر لیتے تھے۔ قاعدے کے مطابق انہیں حکمراں بن کر آرام کی زندگی جینا چاہیے تھی، مگر وہ فتح کیا ہوا ملک کسی اور کے سپرد کر کے خود فوجیا نہ اور سپاہیانہ زندگی پر قناعت کرکے اگلے مرحلے کے لیے نکل جاتے تھے۔ اور دوسرا ملک فتح کرکے پھر کسی اور کو حاکم بنادیتے تھے اور خود آگے نکل جاتے تھے۔ یہ تھی قناعت اور یہ تھا صبر ۔ اس لیے جب صبر اور قناعت پر بات کی جائے تو بہت ہی چالو قسم کی گفتگو کے جال میں ذہن کو الجھنے سے بچائیے تا کہ درست انداز میں معلوم ہو سکے کہ دراصل قناعت کیا ہے۔سچ پوچھیے تو قناعت حقیقت کی شناخت کا مظہر ہے۔ اسلام اور اسلامی احکام کی تکمیل کے جو تین درجات بیان کیے جاتے ہیں، یعنی شریعت، طریقت اور حقیقت تو قناعت حقیقت کے درجے پر فائز لوگوں کا وطیرہ ہے۔
قناعت پسند لوگ سچ مچ اللہ کے ولی ہوتے ہیں۔ انہیں اللہ پر کامل یقین ہوتا ہے کہ روزی کا، موت کا، صحت کا، عزت کا، ذلّت کا دینے والا اللہ ہے تو پھر دنیاوی وسائل پر بھروسہ کرنا اللہ پر یقین نہ ہونے کی علامت ہے۔ اس لیے وہ اپنے پاس کچھ نہیں رکھتے ہیں اور سب کچھ اللہ کی ذات پر چھوڑ دیتے ہیں، لیکن آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ قناعت پر وہ لوگ لمبی لمبی اور متأثر کرنے والی تقریریں کرتے ہیں جو تقریر کرنے کا بھی معاوضہ طلب کرتے ہیں۔ جو اپنے لیے تو سب کچھ حاصل کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں مگر دوسروں کے جائز اور مناسب حال حق میں بھی کٹوتی کرتے ہیں۔ اس لیے صبر اور قناعت کی حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہوجاتا ہے۔ مگر اس موضوع پر اسی گہرائی کے ساتھ تفصیل سے یہاں لکھنا ممکن نہیں ہے۔البتہ کچھ باتیں ہلکے پھلکے انداز میں بیان کرنی ضروری ہے تا کہ لوگ بھلے سے قناعت کی روح کو نہ پہچان سکیں مگر حرص، طمع اور لالچ کی کارستانی سے آگاہ ہوجائیں۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ انسان جس حال میں بھی ہو اس میں خوش نہیں ہوتا ہے اور وہ شکر کے جذبے کے ساتھ نہیں جیتا ہے۔ اسے مزید کی خواہش بے چین رکھتی ہے۔ اور وہ اس کے حصول کے لیے طرح طرح کے مصائب کا شکار ہوجاتا ہے چوں کہ انسان کی اس فطرت سے سارے انسان واقف ہیں تو کچھ لوگ انسان کی اس فطرت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی سازشیں کرتے ہی رہتے ہیں۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ معصیت اور گناہ کا ترک کرنا قناعت، صبر اور شکر خداوندی کے سچے جذبے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کیوں کہ انسان کے اوپر جس قدر خواہشیں غالب ہوتی جائیں گی اس کے اندر قناعت کا مادہ کمزور ہوتا جائے گا۔ صبر کا دامن چھوٹتا جائے گا اور شکر کا جذبہ فنا ہوتا چلا جائے گا۔ اسی لیے بعض جگہ ایمان اور اسلام کی تعبیر صبر سے کی گئی ہے۔ بلاؤں، مصیبتوں اور آزمائشوں میں صبر کرنا اور استطاعت کے باوجود قناعت اختیار کرنا صدیقوں کا طریقہ ہے۔حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم اللہ تبارک وتعالیٰ سے اس طرح دعا فرمایا کرتے تھے کہ؛’’خداوند ہم کو اتنا یقین عطا فرما کہ دنیا کی مصیبتوں کا برداشت کرنا ہمارے لیے آسان ہوجائے۔‘‘
حضورؐ نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس بندے پر میں نے ایک بیماری نازل کی اور اس نے اس پر صبر کیا اور لوگوں سے اس کی شکایت نہیں کی تو میں اس کو صحت دوں گا تو اس سے بہتر صحت و تندرستی اور جسم عطا کروں گا اور اگر دنیا سے اٹھاؤں گا تو اپنی رحمت کاملہ کے سایہ میں لے جاؤں گا۔ ایک مرتبہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے دریافت کیا کہ الٰہی اس شخص کی جزا کیا ہے جس نے مصیبت اور غم میں تیرے واسطے صبر کیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ اس کو میں ایمان کی خلعت پہناؤں گا اور اس کو کبھی اس سے نہیں چھینوں گا اور فرمایا کہ جس کے جسم، مال یا اولاد پر میں نے مصیبت بھیجی اور اس پر اس نے اچھی طرح صبر کیا یا اچھے صبر سے اس کا مقابلہ کیا تو اس سے مجھے حساب لیتے ہوئے شرم آئے گی اور میں اسے نامۂ اعمال کے میزان سے نہیں گذاروں گا۔ حضورؐ نے فرمایا کہ صبر سے خرچ اور کشادگی کا انتظار کرنا ایک عبادت ہے۔
بالکل یہی حالت قناعت کی ہے۔ لالچ ایک ہزار بیماری کی جڑ ہے۔ اور قناعت ان ہزاروں طرح کی بیماریوں کا علاج ہے، حرص اور طمع انسان کو شکر کے جذبے سے محروم کردیتا ہے۔ اللہ انسان کو کتنی ہی نعمتوں اور دولتوں سے نواز دے لالچ اور حرص اسے اس عذاب میں مبتلا کردیتی ہے کہ دولت ابھی بھی اس کے پاس کم ہے۔ کل یہ دولت ختم ہوجائے گی اس لیے اور حاصل کرو۔ یہ دولت تو کو صرف ایک دونسلوں کے لیے کافی ہے تیسری نسل تک ختم ہوجائے گی اس لیے ایسا کچھ کرو کہ اس دولت میں اضافہ ہوتارہے اس بھاگ دوڑ، اور دولت کی ہوڑ میں انسان اللہ کا شکر کرنا بھول جاتا ہے۔ اسے بے شمار دولت کے باوجود اطمینان قلب حاصل نہیں ہوتا ہے وہ دولت کے گم ہوجانے کے کھٹکے سے ڈرارہتا ہے اس لیے اس کے دل کی زمین پر قناعت کی چاندنی کھیت نہیں کرتی ہے۔ شکر کا ستارہ اس کی روح کے آسمان پر نہیں چمکتا ہے۔ صبر کی سیراب کرنے والی بارش اس کی حرص کی زمین پر نہیں برستی ہے اور وہ پریشان حال رہتا ہے۔اکثر لوگوں کو یہ بات یاد نہیں رہتی ہے کہ صبر جس کی ایک شاخ قناعت بھی ہے، ایمان کا نصف حصّہ ہے۔ ایمان کسی ایک چیز کا نام نہیں ہے۔ بلکہ اس کی بہت ساری شاخیں اور قسمیں ہیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایمان کی ستّر سے زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے بڑی شاخ کلمہ لاالہ الا اللہ ہے۔ چھوٹی شاخ راستہ سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹادینا ہے۔ اس کی بہت ساری قسمیں ہیں، مگر اصل تین ہیں۔ پہلی اصل معرفت الٰہی ہے۔ دوسری اصل احوال ہے اور تیسری اصل ایمان اور اس کے متعلقات ہیں۔ کوئی بھی محل ان تین اصل میں سے خالی نہ ہوگا۔ مثلاً تو بہ کی حقیقت پشیمانی ہے۔ اور یہ دل کی ایک حالت ہے اور اس کی اصل یہ ہے کہ انسان گناہ کو اپنے لیے زہرقاتل جانے، اور اس اصل کی شاخ یہ ہے کہ آدمی گناہ سے دست بردار ہو کر اطاعت الٰہی میں مشغول ہو جائے۔ یہ ایک حالت ہے اس طرح معلوم ہوا کہ معرفت، حالت اور عمل تینوں ایمان میں داخل ہیں اور ایمان عبارت ہے انہی تین چیزوں سے سب کی تفصیل بیان کرنا یہاں ممکن نہیں ہے۔ البتہ دوچیزوں سے صبر کرنا ضروری ہے۔ ایک نفسانی خواہشات اور دوسرے غصّہ روزہ شہوات کے ترک کی دلیل ہے۔ چنانچہ روزہ صبر کا آدھاحصّہ ہوا۔ اب عمل پر نظر کریں تومعلوم ہوگا کہ عمل ایمان ہے۔ چنانچہ مومن کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی محنت پر صبر کرے۔ اور خدا کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS