کانگریس اور پی کے

0

حالیہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں ذلت آمیز شکست کے بعد کانگریس احتساب کے دور سے گزررہی ہے ۔ پارٹی کی مجلس عاملہ شکست کی وجوہات ڈھونڈنے کیلئے اجلاس پرا جلاس کررہی ہے تو دوسری جانب از کار رفتہ اورسال خوردہ باغی گروپ جی 23کے ارکان سے صرف نظر کرکے پارٹی میں نوجوانوں کو ذمہ داری سونپنے جانے کے معاملے پر بھی غور و خوض ہورہاہے۔پارٹی لیڈر راہل گاندھی نے بھی مستقبل میں نوجوانوں پر توجہ دیے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ان سب کے درمیان پارٹی میں نئی روح پھونکنے کیلئے انتخابی حکمت عملی بنانے والے پرشانت کشور المعروف بہ ’پی کے ‘کی خدمات سے بھی استفادہ کئے جانے کا امکان ہے۔اس سلسلے میں پرشانت کشور کی سونیا گاندھی‘ راہل گاندھی اور دوسرے کئی سینئر لیڈروں سے ملاقات بھی ہوچکی ہے۔ توقع ہے کہ انہیں جلد ہی پارٹی میں شامل کرتے ہوئے بڑی ذمہ داری دی جائے گی اور اگلے لوک سبھا انتخاب 2024میں کانگریس کے انتخابی انتظامات کی دیکھ بھال بھی وہی کریں گے۔پرشانت کشور نے کانگریس کو مضبوط بنانے اورا گلے لوک سبھا انتخاب میں اس کی جیت کے امکانات کے حوالے سے کانگریس لیڈروں کو بریفنگ دیتے ہوئے 600سلائڈ پر مشتمل ایک پریزینٹیشن بھی پیش کیا ہے ‘ جو کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہورہاہے ۔اس پریزینٹیشن میں پی کے نے ہندوستان کی آبادی‘ ووٹروں‘ اسمبلی او رلوک سبھا کی نشستوں کے اعداد و شمار ‘ خواتین‘ نوجوانوں‘ کسانوں اور چھوٹے تاجروں کی تعداد بتانے کے ساتھ ساتھ 2024 میں پہلی بار 13 کروڑ ووٹروں پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔
اس میں کوئی کلام نہیں ہے کہ پرشانت کشور یا پی کے ہندوستان کی سیاست میں ایک آزمودہ انتخابی دانش ور ہیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر میں کئی پارٹیوں کو انتخابی جیت سے ہم کنا ر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ بہار میں جنتادل متحدہ‘ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس اور اسی طرح دوسری ریاستوں میں بھی انہوں نے کئی سیاسی طالع آزمائوں کو جیت کے گر بتائے اورانہیں اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے میں اہم کردار نبھایا ہے۔آج ملک کی قدیم ترین سیاسی پارٹی کانگریس جس برے دور سے گزررہی ہے وہ نہ صرف کانگریس کے وجود اور بقا کیلئے خطرناک ہے بلکہ ملک کیلئے بھی انتہائی تکلیف دہ ہے۔گزشتہ9برسوں سے دھیرے دھیرے کرتے ہوئے کانگریس ملک کے انتخابی منظر نامہ سے غائب ہوتی جارہی ہے۔ خاص کر شمالی ہندوستان میں کانگریس کے وجود کو سنگین خطرات لاحق ہیں ۔کبھی لوک سبھا میں اکثریت رکھنے والی اس سیاسی جماعت کے آج صرف53ارکان ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوبی ہندوستان سے ہے ۔ شمالی اورشمال مشرقی ہندوستان میں کانگریس صرف ایک نام بن کر رہ گئی ہے ۔ پنجاب سے8‘ مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ سے فقط دو دو اور آسام سے تین ارکان ہیں۔ ریاستی اسمبلیوں میں بھی کانگریس کی یہی صورتحال ہے ۔اتر پردیش، بہار، مہاراشٹر، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، ہماچل پردیش، گوا اور میگھالیہ جیسی ریاستوں میں کانگریس کے ارکان کی تعداد دوہرے ہندسہ تک نہیں پہنچ پائی ہے ۔ کہیں کہیں تو صرف ایک ہی ممبر اسمبلی ہے۔ مغربی بنگال اسمبلی سے تو اس بار کانگریس کامکمل طور پر صفایاہوچکا ہے ۔
تاریخ کی دھارا موڑدینے کی صفت رکھنے والی کانگریس کیلئے ملک میں یہ حالات کیوں پیدا ہوئے اس سے قطع نظرملک کی بہتری اور ہندوستان میں مستحکم جمہوریت کیلئے آج کانگریس کاوجود ملک کی اہم ترین ضرورت بن گیا ہے۔ کانگریس کو بھارتیہ جنتاپارٹی اوراس کے اتحادیوں سے مقابلہ کیلئے تعمیر نوکی ضرورت ہے اور پارٹی کا موجودہ ڈھانچہ اس لائق نہیں ہے کہ وہ اس نئی تعمیر کا بیڑہ اٹھاسکے۔ پارٹی قیادت کا مسئلہ بھی کانگریس کیلئے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے ۔ پارٹی کیلئے گاندھی خاندان ‘ کشش ثقل‘ کی حیثیت اختیار کرگیا ہے اورپارٹی اسی کے اردگرد گھوم رہی ہے ۔جس کا نتیجہ ہے کہ آج 5-6 برسوں سے پارٹی کو کوئی مستحکم قیادت نصیب نہیں ہوپائی ہے ۔ پارٹی کوآج ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ہندوستان کی موجودہ سیاسی ذہنیت کے مطابق کام کرتے ہوئے پارٹی کو عوام کی امنگوں کا ترجمان بنائے اور انتخابی جیت کے امکانات روشن کرنے کا سبب بھی بنے ۔اس لئے کانگریس کو سب سے پہلے قیادت کا مسئلہ حل کرناہوگا جس کیلئے پرشانت کشور نے گاندھی خاندان سے باہر نظرڈالنے کی ضرورت بتائی ہے ۔2024کے عام انتخاب سے قبل پارٹی کی تنظیم نو اور بلاک و بوتھ کی سطح پر پارٹی میں بھاری تبدیلی کی بھی ضرورت بتاتے ہوئے پی کے نے کئی ایک فارمولے بھی دیئے ہیں۔ جن میں وسائل کو بڑے پیمانے پر متحرک کرنے اور پولنگ کے دن غیر بی جے پی ووٹوں کی کم از کم تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ بظاہر یہ ایک مشکل کام لگ رہاہے لیکن صحیح حکمت عملی سے اسے ممکن بنایاجاسکتا ہے اور پرشانت کشور اسی انتخابی حکمت عملی کے ماہر ہیں ۔پارٹی کو درپیش حالات ایسے نہیں ہیںکہ طویل عرصہ تک ان پر صرف غور وخوض کیاجاتارہے بلکہ ضرورت فوری عمل کا تقاضاکررہی ہے ۔ پی کے کو کانگریس میں شامل کرنے یا نہ کرنے سے قطع نظر ان کے تجربات سے استفادہ کرنے میں پارٹی کو کوئی جھجک یا ہچک نہیں ہونی چاہئے ۔
[email protected]