چینی ٹینس کھلاڑی کی کال کافی نہیں، ویمن ٹینس ایسوسی ایشن

0
todayuknews.com

اس ٹیلی فون کال کی تصدیق ویمن ٹینس ایسوسی ایشن نے ضرور کی لیکن ساتھ یہ کہا کہ ٹینس کھلاڑی پینگ شوائی نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر کے ساتھ ٹیلیفونک بات چیت میں اپنی صورتحال اور معاملات زندگی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی اور یہ بات چیت عالمی خدشات کے تناظر میں کافی نہیں ہے۔ چین سے تعلق رکھنے والی خاتون ٹینس کھلاڑی پینگ شوائی ڈبلز کی عالمی نمبر ون رہ چکی ہیں۔ ان کی زندگی کے بارے میں حالیہ دنوں میں بین الاقوامی ٹینس حلقوں میں خدشات پائے جاتے ہیں۔ خدشات اُس وقت ابھرے جب تین ہفتے قبل انہوں نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ وہ سابق نائب وزیر اعظم ژانگ گاؤلی کی جنسی زیادتی کا نشانہ بن چکی ہیں۔ اس بیان کے بعد ان کے حوالے سے ایسے خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ وہ کہیں ریاستی جبر کا نشانہ نہ بن جائیں۔ دوسری جانب چینی حکومت اور سابق وزیر اعظم کی جانب سے پینگ شوائی کے مبینہ الزام کے حوالے سے کوئی بیان یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ ہفتہ بیس نومبر کو چینی کھلاڑی اپنے دوستوں کے ساتھ ایک ڈنر میں شریک ہونے کے علاوہ بچوں کے ٹینس ٹورنامنٹ کو بھی دیکھنے گئی تھیں۔ ان دونوں مقامات پر ان کی موجودگی کی ویڈیوز اور تصاویر چین کے سرکاری میڈیا پر شائع کی گئیں۔ اس پیش رفت کے باوجود عالمی خدشات میں کمی نہیں آئی۔
ویمن ٹینس ایسوسی ایشن کی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پینگ شوائی کی حالیہ ویڈیوز اور تصاویر ان خدشات کی مناسب انداز میں نفی کرنے کے لیے ناکافی ہیں جو ان کی مجموعی زندگی کے حوالے سے پیدا ہو چُکے ہیں۔
پینگ شوائی ایک میچ کے بعد ٹینس بال پر دستخط کرتے ہوئے
ترجمان کے مطابق ابھی تک انہوں نے بظاہر کوئی ایسا بیان نہیں دیا جو سینسر شپ یا جبر کے بغیر ہو۔ ترجمان نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر سے پینگ شوائی کے ساتھ فون پر ہونے والی گفتگو کی مناسبت سے کہا کہ یہ بھی خدشات کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کیونکہ صورت حال پر پھیلی دھند چَھٹی نہیں ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ایسوسی ایشن پینگ شوائی کے حوالے سے آزادانہ اور شفاف تفتیش کے مطالبے سے بھی دستبردار نہیں ہوئی ہے۔ پینگ شوائی کی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر تھوماس باخ کے ساتھ ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو کے حوالے سے کمیٹی نے ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان کے مطابق یہ تیس منٹ طویل ٹیلیفون کال تھی۔ انہوں نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر تھوماس باخ کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ وہ بیجنگ میں اپنے گھر میں بالکل محفوظ اور خیریت سے رہ رہی ہیں۔ انہوں نے باخ سے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے۔ چینی خاتون کھلاڑی کے جنسی زیادتی کے بیان اور پھر ویمن ٹینس ایسوسی ایشن کی جانب سے شفاف تفتیش کے مطالبے نے عالمی سطح پر ان کے حوالے سے پیدا خدشات میں شدت پیدا کر دی ہے۔ پینگ شوائی نے کہا ہے کہ وہ سابق نائب وزیر اعظم ژانگ گاؤلی کی جنسی زیادتی کا نشانہ بن چکی ہیں انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور تنظیموں نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ اگر چینی حکومت کھلاڑی کے الزام کے حوالے سے ضروری اقدام نہیں کرتی تو وہ اگلے برس فروری میں چینی میزبانی میں منعقد کیے جانے والے سرمائی اولمپک گیمز کا بائیکاٹ کریں۔ ویمن ٹینس ایسوسی ایشن نے بھی متنبہ کیا ہے کہ پینگ شوائی کے حوالے سے معاملات میں مناسب پیش رفت نہ ہوئی تو چین میں کھیلے جانے والے خواتین کے ٹینس ٹورنامنٹس کا انعقاد روک دیا جائے گا۔ امریکا اور برطانیہ نے بھی بیجنگ حکومت سے ٹینس کھلاڑی کے بارے میں درست اور مناسب تفصیلات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

ع ح/ ک م (روئٹرز)

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here