چین کی دائرہ اثر بڑھانے کی چاہت برکس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دے گی

0

جب کسی گروپ میں ایک یا زیادہ ملکوں میں اثرات بڑھانے کی چاہت پنپنے لگتی ہے تو اس کے روشن مستقبل پر فطری طور پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ اسی طرح رکن ممالک کا مختلف ایشوز پر اگراتفاق نہ ہو تو اس سے بھی مسئلے پیدا ہوتے ہیں۔ فی الوقت برکس کے ساتھ یہ دونوں ہی مسئلے ہیں۔ ایک طرف اس کی بڑھتی مقبولیت اور اس کی وجہ سے 40 ممالک کی اس کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے بڑھتی دلچسپی ایک حقیقت ہے تو دوسری طرف حقیقت یہ بھی ہے کہ چین اپنے پالے کے ملکوں کو اس میں شامل کرا کر اپنے اثرات کا دائرہ بڑھانا چاہتا ہے اور روس بھی اس پلیٹ فارم کا استعمال امریکہ کے خلاف کرنا چاہتا ہے۔ اس کی ایک مثال کامن کرنسی کا شوشہ ہے۔
ادھر چین امریکہ کی جگہ لینے اور سپرپاور بننے کے لیے بے چین ہے۔ امریکہ اس کی اس بے چینی سے واقف ہے، اس لیے اس نے کھل کر اس کے خلاف ٹریڈ وار چھیڑی۔ ایشیابحرالکاہل میں چین کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے ایک سے زیادہ گروپ بنائے ہیں۔ اوکس کی تشکیل کرتے وقت تو امریکہ نے فرانس کے تجارتی خسارے کا بھی خیال نہیں کیا۔ اس پر فرانس کی طرف سے کھل کر ناراضگی ظاہر کی گئی۔ فرانس نے یہاں تک کہہ دیا کہ اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپاگیاہے۔ بعد میں چین کے دورے کے دوران فرانسیسی صدر ایمینوئل میکروں نے یہ بات واضح کر دی کہ تائیوان سے یوروپ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، اس مسئلے میں اسے نہیں پھنسنا چاہیے۔ ایسا نہیں ہے کہ اوکس کی تشکیل کرتے وقت فرانس کے اس ردعمل کا اندازہ امریکہ کو نہیں رہاہوگا لیکن اس کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین کی طاقت بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ روس کے ساتھ رہنے سے اس کی طاقت اور بڑھ جائے گی، اس لیے امریکہ کی توجہ صرف اس کے دائرہ اثر کو محدود کرنے پر ہے۔ دوسری طرف چین کے ہندوستان سے بھی اچھے تعلقات نہیں ہیں۔ وہ اس کے علاقوں پر دعوے کرتا ہے لیکن ہندوستان کے تعلقات امریکہ اور اس کے اتحادی مغربی ممالک سے مستحکم ہیں۔ اسی طرح جنوبی افریقہ اور برازیل کا بھی مغرب کے تئیں وہ رخ نہیں ہے جو چین یا روس کا ہے۔ ہندوستان کی طرح جنوبی افریقہ اور برازیل کے تعلقات بھی مغرب سے ہیں، اس لیے یہ امید ان سے نہیں کی جاسکتی کہ وہ ان کے تئیں چین والا انداز اپنائیں گے۔ غالباً اسی لیے چین اس طرح کے ملکوں کو برکس میں شامل کرانا چاہتاہے جو اس کے کام کے ہوں یا امریکہ سے تنگ ہوں۔ اس سلسلے میں ایران اور سعودی عرب کے مابین مصالحت کراکر اس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور اگر وہ انہیں برکس میں داخل کرانے میں کامیاب ہوگیا تو یہ اس کی ایک اور بڑی کامیابی ہوگی، کیونکہ ایران کو امریکہ کی پالیسیوں نے تباہ کر رکھا ہے اور سعودی عرب امریکہ تک محدود نہیں رہنا چاہتا۔ سعودی شاہ کے لیے سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی یہ بات بھلانا مشکل ہوگی کہ اگر امریکی فوج ساتھ نہ دے تو دو ہفتے بھی وہ اقتدار میں نہیں رہ سکتے۔ہندوستان کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب دونوں سے اس کے اچھے تعلقات ہیں۔ دونوں ہی ملک اس کی دوستی کا احترام کرتے ہیںاور رشتہ مستحکم سے مستحکم تر بنانا چاہتے ہیں۔n

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS