چین: ایک اور ’تیانان مین سانحہ‘ہوگا؟

0

بہت سے لیڈر آئے اور چلے گئے۔ کئی لیڈران جب تک اقتدار پر قابض رہے، یہی سمجھتے رہے کہ وقت ان کی مٹھی میں قید ہے لیکن موت نے ان کی طاقت کا بھرم توڑ دیا۔ کئی لیڈروں کو ان کی زندگی میں ہی وہ دن دیکھنا پڑا جس کے لیے وہ تیار نہیں تھے۔ کیا زین العابدین بن علی، حسنی مبارک، کرنل قذافی، علی عبداللہ صالح اور بشارالاسد ان حالات کے لیے تیار تھے جو تیونس میں ایک بے روزگار گریجویٹ نوجوان البو عزیزی کی خودسوزی کی کوشش سے بن گئے؟ البو کی خودسوزی کی کوشش کے بعد بنے حالات نے یہ بتادیا کہ ملکوں کے حالات بدلنے کے لیے بظاہرمعمولی دکھنے والا واقعہ بھی بڑا بن جاتا ہے، اقتدار کی چولیں ہلا دیتا ہے۔ اس کے باوجود کئی لیڈروں نے سبق نہیں لیا۔ ان میں چینی سربراہ شی جن پنگ بھی شامل ہیں۔ وہ ماؤزے تنگ نہیں ہیں مگر ان سے خود کو کم بھی نہیں سمجھتے۔ انہیں دنیا کی پروا نہیں، چینیوں کو اپنے نظریے کے سانچے میں ڈھال دینا چاہتے ہیں۔ اسی لیے سنکیانگ کے اویغور مسلمانوں کے حالات ان کے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد زیادہ خراب ہوئے ہیں، اویغوروں پر ڈھائے جانے والے مظالم اپنی مثال آپ ہیں۔ اویغور چین میں اقلیت میں ہیں۔ اسی لیے انہیں دبانے، ان کا استحصال کرنے میں شی حکومت کو زیادہ دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن اکثریت کوایک مدت سے زیادہ وقت تک دبانا ہمیشہ سے مشکل رہا ہے۔ یہ مشکل کام چینی حکومت کرتی رہی ہے، کیونکہ لوگوں نے ایک بارکھل کر جذبات کا اظہار کرنے کی جرأت دکھائی تھی، ناانصافی کے خلاف اپنی آواز کو احتجاج کی شکل دینے کی کوشش کی تھی مگر چینی حکومت نے ان سے سختی سے نمٹا، ان کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔ یہ پتہ آج تک نہیں چل سکا ہے کہ تیانان مین اسکوائر پر حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج میں صحیح معنوں میں کتنے لوگوں کو جانیں گنوانی پڑی تھیں، البتہ اس پر عام طور پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ مہلوکین کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ یہ سانحہ ’تیانان مین اسکوائر احتجاج‘، ’چوتھی جون کا واقعہ‘ ، ’تیانان مین اسکوائر قتل عام‘ ، ’چوتھی جون کی صفائی‘ ، ’چوتھی جون کا قتل عام‘ اور ’89 جمہوری تحریک‘ناموں سے جانا جاتا ہے۔ ’89 جمہوری تحریک‘ اس سانحے کو اس لیے کہا جاتا ہے،کیونکہ اس کے بعد چین میں جمہوریت کی بحالی کے لیے عوام کی طرف سے احتجاج کی کوئی اجتماعی آواز بلند نہ ہو سکی۔ ہر نیا چینی سربراہ اپنے پیش رو سے زیادہ سے زیادہ طاقتور بنتا چلا گیا اور رہی سہی جمہوری قدریں کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی گئیں لیکن آج کے اس دور میں جبکہ بظاہر جمہوریت اور چین دو متضاد چیزیں معلوم ہوتی ہیں، لوگوں کا کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کرنا حیرت زدہ کردینے والی بات ہے، شی کے انداز حکمرانی کودیکھتے ہوئے خطرہ اس بات کا ہے کہ کہیں ایک اور تیانان مین سانحہ نہ وقوع پذیر ہوجائے اور آنے والے وقت میں یہ ’22 جمہوری تحریک‘نام سے یاد کیا جائے، کیونکہ شنگھائی میں کورونا کی روک تھام کے لیے عائد سخت پابندیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آنے والے لوگوں نے خود کو اسی مطالبے تک محدود نہ رکھا کہ انہیں عام دنوں کی طرح جینے دیا جائے، وہ یہ نعرے لگانے سے بھی باز نہیں آئے کہ ’شی جن پنگ، استعفیٰ دو‘، ’کمیونسٹ پارٹی، اقتدار چھوڑو‘۔
دراصل کوروناپر چینی حکومت کی پالیسی خود چینیوں کے لیے ناقابل فہم رہی ہے۔ دسمبر، 2019 میں چینی شہر ووہان سے کورونا کی وبا پھوٹی تھی تو چینی حکومت کی طرف سے یہ بات کہی گئی تھی کہ یہ وائرس متعدی نہیںہے، اس کی ہاں میں ہاں ڈبلیو ایچ او نے بھی ملائی تھی۔ بعد میں کورونا نے اپنا مہلک روپ دکھایا توبہت دیر ہو چکی تھی۔ چین بڑی حد تک اس پرکنٹرول کرنے میں کامیاب رہا۔ آج متاثرین کے لحاظ سے وہ 103 ویں نمبر پر ہے۔ اس کے 5,233 لوگوںکو کورونا کی وجہ سے جانیںگنوانی پڑی ہیں۔ یہ تعداد کئی ملکوں میں کورونا کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد سے کافی کم ہے۔ امریکہ میں 1,104,755، برازیل میں 689,560، بھارت میں 530,614، روس میں 391,890، میکسیکو میں 330,495 لوگ کورونا کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ملکوں میں کورونا کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن بھی لگے، سختیاں بھی کی گئیں مگر لوگوں میں اتنا اشتعال پیدا نہیں ہوا جتنا اشتعال چین کے لوگوں میں ہے۔ اکتوبر، 2022سے چین میں کورونا متاثرین کی تعداد بڑھی ہے۔ اب تک متاثرین کی تعداد 4100 سے نیچے ہی رہی ہے جبکہ امریکہ میں روزانہ کے کورونا متاثرین کی تعداد 30000 سے اوپر ہی رہتی ہے۔ اس کے باوجود چین کی صورتحال جیسی صورتحال وہاں نہیں ہے تو اس کی وجہ کیا یہ ہے کہ کورونا تو بہانہ ہے، چینی دراصل کھلی فضا میں سانس لینے، جمہوریت قائم کرنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں؟ مگر چین میں جمہوریت قائم کرنا کیا آسان ہے؟ فی الوقت تو یہی لگتا ہے کہ چینیوں کو جمہوریت قائم کرنے کے لیے کئی تیانان مین اسکوائروں سے گزرنا پڑے گا اور ’89 جمہوری تحریک‘ کے مدنظر یہ کام آسان نہیں لگتا۔
[email protected]