سیرت رسول اکرمؐ میں کردار سازی

0

محمد عارف رضا نعمانی مصباحی
ماہ ربیع النور شریف آتے ہی عاشقانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دلوں کی کلیاں کھل اٹھیں۔ زندگی کے شب و روز آمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے منور ہو گئے۔ہر چہار جانب تہنیت اور مبارکبادی کے گلدستے پیش کیے جانے لگے۔ عشاق اپنے گھروں اور گلی کوچوں کو آمد ِمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی مناسبت سے سجانے لگے۔ہر کسی کے چہرے خوشیوں سے جگمگا اٹھے۔اب جبکہ سوشل میڈیا کا دور ہے،اس کے ذریعے باآسانی پیغامات دنیا کے کونے کونے تک پہنچائے جاسکتے ہیں۔ عشاق،عشقِ مصطفی ﷺکے ترانے گن گنانے لگے اور اور تعلیمات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوری دنیا کو آگاہ کرنے لگے اور کیوں نہ ہو کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم،اللہ کی تمام نعمتوں میں سب سے عظیم تر نعمت ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا چرچا کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے،اس لیے عاشقانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آقا کا ذکر کرنے لگے اور جو ذمہ دار علمااور مفتیان کرام ہیں وہ بھی سوشل میڈیا کے ذریعے امت کی اصلاح کا فریضہ انجام دینے لگے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک میلاد،آپ کی آمد کا مقصد،آپ کی سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں اور تعلیمات کو عام کرنے لگے،کیوں کہ جو جس سے محبت کرتا ہے اس کے چرچے کرتا ہے ،اس کی فرمابرداری بھی کرتا ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری کا حکم تو خود رب کائنات نے اپنے کلام مجید میں عطا فرمایا اور یہ بھی فرمادیا کہ جس نے رسول اللہ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ہر خوشی اور غم کے موقع پر شریعت مطہرہ اور تعلیمات نبوی کا دامن ہرگزنہ چھوڑیں اسی میں دونوں جہان کی کامیابی اور بھلائی پوشیدہ ہے۔اگر ہم نے خواہشات نفس کی پیروی کی اور جو کچھ بھی جی میں آیا،کیا،تو ہم نے سچی محبت کا اظہار نہیں کیا،سچی محبت تو تب تھی جب ہم محبوب کا پسندیدہ عمل کرتے اور اپنے اچھے کردارو عمل کے ذریعے بارگاہِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں خراج عقیدت پیش کرتے۔
نمازجو کہ اہم فریضہ ہے،اس میں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے،اگر ہم واقعی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائیں اور اور آج ہی سے عہد کر لیں کہ ہم نماز کبھی نہیں چھوڑیں گے اور جو نمازیں قضا ہو گئی ہیں ان کو بھی جلد از جلد ادا کریں گے۔نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پیر کے دن روزہ رکھا کرتے تھے،صحابہ کرام نے اس کی وجہ دریافت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی۔اس سے ہمیں روشنی ملتی ہیں کہ ہم بھی پیر کے دن روزہ رکھ کر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد منائیں۔ہر جائز و درست طریقے سے خوشیاں منا کر ہم میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم منا سکتے ہیں لیکن ان سے زیادہ بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ ہم تعلیماتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہوجائیں۔پہلے آپ کی سیرت پاک کو مکمل پڑھیں اور اس پر عمل کے لیے کمر کس لیں۔نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اخلاق و کردار سارے عالم میں سب سے بلند و بالا تھے۔آپ کے اخلاق وکردار کی بلندی کا توکلام رحمٰن شاہد ہے۔بس ہمیں ان کو پڑھنے اور ان پر صحیح طریقے سے عمل کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔یہ اخلاق و کردار ہم صرف تحریر اور تقریر تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی ذاتی گھریلو زندگی میں بھی اس کو نافذ کرنے کی کوشش کریں،یہ ہے اصل میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔ میلاد مصطفیٰ ﷺ منانا یقیناً باعث خیر وبرکت ہے۔لیکن نبی پاک کی تعلیمات کو عام کرنا اوران پرعمل کرنا اس سے زیادہ ضروری ہے۔حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لاتے ہی سجدہ ریز ہو گئے اور اور اپنی امت کو یاد کیا،اللہ کی بارگاہ میں اپنی امت کی بخشش کی دعائیں کرنے لگے،میرے ماں باپ قربان ایسے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ پیدا ہوتے ہی سجدے میں ہیں اور اپنی امت کو یاد کر رہے ہیں تو ہم پر واجب ہے کہ ہم اپنے محسن اعظم کو یاد کریں اور ان کی سیرت پر عمل کو حرز جان بنا لیں۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اعلان نبوت سے پہلے اہل عرب آپ کو ’’صادق و امین‘‘ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ انہوں نے آپ کو ہر معاملے میں ہمیشہ سچ بولنے والا،پکا ایمانداراورامانت دار پایا،اسی بنا پر آپ کے اخلاق و کردار کی گواہی’’صادق و امین‘‘کے لقب سے دی۔ اس میں تمام امت مسلمہ کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے۔یہ دو خوبیاں ایسی ہیں جن پر اچھائیوں کا دارومدار ہے۔سچائی ایسی خوبی ہے جو بندے کونیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور امانت داری کے حوالے سے حضرت انس بن مالک کی روایت ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’لا إیمانَ لمن لا أمانۃَ لہُ‘‘ (اخرجہ احمد،حدیث:۱۲۵۶۷)، وہ شخص مومن کامل نہیں جو امانت دار نہیں۔ان دونوں خوبیوں پر سرکار دوعالم ﷺنے مکمل طور پر عمل کر کے ساری دنیا کو بتا دیا کہ یہ دو خوبیاں ایسی ہیں جو انسان کو کامیاب و کامران کر سکتی ہیں۔ان دونوں خوبیوں کااگر ہم باریک بینی سے مطالعہ کریں تو زندگی میں کامیابی اور کامرانی کے بے شمار پہلو واشگاف ہوں گے۔
اعلان نبوت کے بعد بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مقدس اصحاب پر اہل مکہ نے ظلم و ستم کے ایسے پہاڑ توڑے تاریخ میں جس کی مثالیں نہیں ملتیں۔ ایسے حالات میں بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب پر توکل اور صبر سے مدد مانگی۔ دین اسلام کی تبلیغ واشاعت میں رب تعالیٰ پر کامل یقین رکھا اور اسی پر بھروسہ کیا اور رب کے ابدی پیغامات کی تبلیغ واشاعت کرتے رہے۔اس راہ میں جو مصیبتیں آئیں،ان پر صبر کے اعلیٰ نمونے پیش کیے۔پھر دنیا نے دیکھا کہ کل جو آپ کے جانی دشمن تھے وہ آج آپ پر جان جھڑک رہے ہیں۔ان کے دل کی دنیا بدل گئی ہے۔
آپ کی سیرت سے صداقت اور امانت کے ساتھ صبر اور توکل کا بڑا درس ہمیں ملتا ہے پھر جب ہجرت کرکے آپ مدینہ طیبہ تشریف لے گئے تو سب سے پہلے آپ نے مسجد تعمیر فرمائی تاکہ بندگان خدا کو رب کی بارگاہ میں جھکا دیں اور ان کو اسلامی احکام سکھائے۔ہجرت مدینہ کے بعد مہاجرین مکہ اور انصار مدینہ کے درمیان مواخات فرمائیں،ان کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں مواخات قائم فرمایا اور بتادیا کہ تمام مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں اور یہ بھی بتایا کہ مومنین آپس میں عمارت کی مثل ہیں جن میں سے ایک دوسرے کو مضبوط بناتا ہے۔نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک سیرت سے یہ چنداہم اسباق پیش کیے گیے۔ اگر ہم نے ان پرعمل کرکے ان کو اپنے سینے سے لگا لیا اور ان خوبیوں کو اپنے کردار میں بسا لیاتو ہم دونوں جہان میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔یہ اوصاف انسان کی کردار سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں،جو سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے مستفاد ہیں۔
رب کائنات سے دعا ہے کہ ہمیں ان باتوں پر خود بھی عمل کرنے کی اور گھر والوں،دوست،احباب اور رشتہ داروں کو اس پر عمل کی توفیق دے۔کیوں کہ حقیقی کامیابی انھیں اصولوں پر چل کر میسر آتی ہے۔ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ہم سیرت مصطفی ﷺ کا مطالعہ کریں اور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کے مختلف پہلوؤں کو سارے عالم میں اجاگر کریں،مولیٰ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
[email protected]