ذات پر مبنی مردم شماری

0

ذات پر مبنی سیاست ہندوستان کی وہ حقیقت ہے، جس کانہ کوئی پارٹی کھل کر اعتراف کرتی ہے اور نہ انکار،لیکن عمل سب کا نظر آتا ہے۔ خاص طور سے انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم میں ہر پارٹی لیڈروں کو کم اورذات کی آبادی کو زیادہ بنیادبناتی ہے۔سیاسی پارٹیاں یہ بات تو نہیں کہتی ہیں، لیکن مبصرین جب ٹکٹوں کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ذات پر مبنی سیاست صرف انتخابات تک محدود رہتی ہے، وزارتوں اورقلمدانوں کی تقسیم میں نظر نہیں آتی ہے۔اب بات ذات پر مبنی سیاست سے آگے نکل کر ذات پر مبنی مردم شماری اور اس کے مطابق حصہ داری کی ہورہی ہے۔بہارمیں نتیش سرکار نے ذات پر مبنی جو سروے کرایا، اس سے سبھی کے کان کھڑے ہوگئے۔اس سروے نے ملک کی سیاست کو نئی سمت دی۔کانگریس نے تو سروے رپورٹ آنے سے پہلے ہی صورت حال کو بھانپ کر یہ نعرہ دے دیاتھاکہ ’جس کی جتنی آبادی، اتنی حصہ داری‘،اب 5ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں اسے ایشو بھی بنادیا، جبکہ نتیش سرکار نے ابھی تک اس تعلق سے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے، تب یہ حال ہے، پتہ نہیں اس وقت کیاہوگا، جب سروے رپورٹ کو نافذکرکے اس کے مطابق سرکار کی پالیسیاں بنائی جائیں گی اور اسکیموں میں حصہ داری کا تعین کیا جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت سروے کرانے کا فیصلہ نتیش سرکارنے کیا تھا، بی جے پی کی ریاستی اکائی اس کی حامی تھی اور وہ سرکار میں بھی شامل تھی، لیکن اس کی مرکزی حکومت اس کی مخالف تھی اورکورٹ میں مخالفت کی۔ آج بھی بی جے پی سروے کے اعداد و شمار پر سوال اٹھاتی ہے، لیکن سروے پر نہیں۔بہرحال بہار میں ذات پر مبنی سروے رپورٹ آنے کے بعد کئی ریاستوں نے ویساقدم اٹھانے کا اعلان کیا۔ کچھ نے صرف اوبی سی آبادی کا پتہ لگانے کی بات کہی۔اس طرح کے اعلانات یا مطالبات ابھی تک این ڈی اے مخالف پارٹیوں یاریاستی حکومتوں کی طرف سے کیے گئے۔پہلی بار این ڈی اے کی حکومت والی ریاستوں اورپارٹیوں کی طرف سے اس کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، جس سے پتہ چلتاہے کہ نتیش کمار کا تیرنشانہ پر لگ گیا۔
بی جے پی کی بہاراکائی سروے کے حق میں تھی اوراب خاموش ہے، لیکن مہاراشٹر اور اترپردیش میں بی جے پی کی حلیف پارٹیوں نے ذات پر مبنی مردم شماری کی وکالت کی ہے۔ جہاں مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے اچانک یہ بیان دے کر سبھی کو حیرت زدہ کردیا کہ ریاست میں کتنے اوبی سی، ایس سی، ایس ٹی اوردیگرذاتوں کی آبادی ہے، یہ جاننا ضروری ہے تاکہ آبادی کے حساب سے انہیں فنڈدیاجاسکے۔دوسری طرف این ڈی اے کی دوسری پارٹی اپنادل جو اترپردیش میں ہے، کی لیڈر انوپریہ پٹیل کا کہناہے کہ اوبی سی کی آبای کا پتہ لگانے کیلئے ذات پر مبنی مردم شماری ضروری ہے۔ان کا تویہ بھی کہنا ہے کہ یہ بھی معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ اوبی سی کی آمدنی بڑھی ہے یا نہیں ؟اوراوبی سی کریمی لیئرکی حد 8 لاکھ سالانہ سے بڑھاکر 15لاکھ کردی جائے۔انوپریہ پٹیل کرمی برادری سے تعلق رکھتی ہیں تو اجیت پوار کی نظر مراٹھا اور او بی سی ووٹ بینک پر ہے۔ ادھربہارکے سروے سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی 17.70 فیصد ہے، لیکن اعلیٰ ذاتوں اوراوبی سی آبادی میں ان کو اس طرح تقسیم کردیاگیا کہ دونوں میں ان کاتناسب سب سے زیادہ ہے۔ ملک کی آبای میں اوبی سی کاتناسب نصف سے زیادہ ہے۔علاقائی پارٹیوں کی کوشش ہے کہ مسلم اور او بی سی ووٹ انہیں مل جائیں تو اقتدارکی کنجی ان کے پاس آجائے گی۔کہاجاتا ہے کہ مہاراشٹر میں 33فیصد مراٹھا ووٹر ہیں، جن کوکوئی بھی پارٹی نظرانداز نہیں کرسکتی۔ذات پات کی سیاست جب بھی وہاں ہوگی،مراٹھوں کی اہمیت بڑھے گی۔اترپردیش میں ذاتوں کی آبادی اور سیاست بہار سے مختلف نہیں ہے۔
این ڈی اے کی 2پارٹیوں کی طرف سے ذات پر مبنی مردم شماری کی وکالت کرنے سے بی جے پی کی پریشانی بڑھ سکتی ہے، جس نے اس پر معنی خیز خاموشی اختیارکررکھی ہے، حالانکہ ان سب سے بہت پہلے وزیراعظم نریندرمودی نے اپنے لیڈروں کو پسماندہ مسلمانوں پرتوجہ دینے کو کہا تھا۔ان سب باتوں سے لگ رہاہے کہ ایک بار پھر ملک کے حالات منڈل کی طرح ہونے والے ہیں۔ ابھی تو ابتدا ہے اور بات چلی ہے،جس طرح کے بیانات آرہے ہیں، لگ رہا ہے کہ یہ بہت دورتک جائے گی۔یہ ہر پارٹی کی مجبوری بن جائے گی۔اوبی سی کی آبادی کو کوئی بھی پارٹی نظرانداز نہیں کرسکتی۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS