گجرات فسادات 2002 کے مجرموں کو آج کے دور میں سزا مل سکتی ہے؟

0

عبدالماجد نظامی

ملک بھر میں شدید غصہ ہے کہ آخر بلقیس بانو کے ساتھ درندگی و سفاکیت کا مظاہرہ کرنے والے مجرموں کو قبل از وقت جیل سے باہر نکالنے کا فیصلہ گجرات کی سرکار نے کیسے کرلیا۔ اس معاملہ پر سماج کے ہر طبقہ کے لوگوں نے اپنے غصہ کا اظہار کیا ہے خواہ وہ عام انسان ہو یا سیاسی لیڈران۔ ہر وہ شخص جس کا ضمیر زندہ ہے اور جو قانون کی بالادستی پر مبنی سماج میں زندگی گزارنے کی اہمیت سمجھتا ہے وہ گجرات سرکار کے اس رویہ پر نہایت برہم ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا نے اس موضوع کو زیر بحث لیا اور اداریے اور مضامین لکھے گئے ہیں۔ ہمارے ملک میں نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے سابق صدر یہاں تک کہ ایک بی جے پی لیڈر تک نے اس کو ناقابل قبول عمل اور انصاف کے ساتھ مذاق قرار دیا ہے۔ جگہ بہ جگہ عوام نے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرکے اس پر اپنی عدم رضامندی درج کروائی ہے کیونکہ ہر طبقہ اس مسئلہ کی حساسیت اور مستقبل میں سماج اور نظام قانون پر پڑنے والے منفی اثرات سے واقف ہے اور ہر قیمت پر ایسے مجرموں کو دوبارہ جیل کی کال کوٹھری میں دیکھنا چاہتا ہے تاکہ معاشرہ میں انارکی و بربریت کا ماحول قائم نہ ہوجائے۔ نربھیا کیس کے بعد یہ دوسرا ایسا معاملہ ہے جس نے ملکی سطح پر ہر خطہ اور ہر طبقہ کو بے حد متاثر کیا ہے اور مضبوطی کے ساتھ بلقیس بانو کے لئے انصاف کی آواز بلند کی ہے۔ چونکہ سیاسی جماعتیں عوام کے جذبات کی نمائندہ تصور کی جاتی ہیں اور جمہوری نظام میں عوام کی مرضی کو اولیت حاصل رہتی ہے اس لئے سی پی آئی (ایم) نے اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیا اور ان کی لیڈر سبھاشنی علی نے سپریم کورٹ میں یہ پٹیشن دائر کی کہ اس مسئلہ کو زیر سماعت لایا جائے تاکہ بلقیس بانو کو انصاف مل سکے۔ ان کے علاوہ ملک کے تمام حساس مسئلوں پر پوری جرأت اور ایمان داری سے پارلیمنٹ اور اس کے باہر بھی اپنی آواز بلند کرنے والی ممبر آف پارلیمنٹ مہوا موئترا جن کا تعلق ترنمول کانگریس سے ہے انہوں نے بھی سپریم کورٹ میں بلقیس بانو معاملہ میں پٹیشن داخل کی تھی۔
اس کے علاوہ صحافی دیو تی لال اورسماجی کارکن روپ ریکھارا نی نے بھی عدالت عظمیٰ میں درخواست دے کرمکمل انصاف کی گہار لگائی ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے 25 اگست کو اس مسئلہ کو زیر سماعت لانے کا فیصلہ کیا اور اس کے بعد گجرات سرکار کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ ملک کی سب سے اونچی عدالت سپریم کورٹ سے ایک بار پھر امیدیں قائم ہیں کہ وہ دستور کی روح کو بحال کرنے اور معاشرہ میں قانون کی بالادستی اور عدل و انصاف کا ماحول قائم کرنے میں اپنا کردار بحسن و خوبی انجام دے گا۔ آج ہندوستانی عوام کے دل و دماغ میں سپریم کورٹ کے تئیں کسی قدر عدم اطمینان کی کیفیت اس لئے پیدا ہونے لگی ہے کیونکہ ملک کے دیگر اہم اداروں کی طرح اس میں بھی وہ جرأت مفقود نظر آتی ہے جو آج کے سیاسی ماحول میں اس سے مطلوب ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر انصاف کی کچھ کرنیں ملک میں روشن ہیں تو اس میں سپریم کورٹ کا رول نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کا جو قتل عام ہوا اور عصمتیں تار تار ہوئیں وہ اس ملک کی تاریخ کے ماتھے پر ہمیشہ ایک بدنما داغ بن کر رہے گا، لیکن ظلمت کے اس ماحول میں بھی اگر کچھ متاثرین کے لئے امید اور انصاف کا امکان پیدا ہوا تھا تو اس میں سپریم کورٹ نے اپنا اہم کردار نبھایا تھا۔ البتہ آج کا ہندوستان بہت بدل چکا ہے اور اسی لئے بلقیس بانو کو پھر سے انصاف مل پائے گا اس کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں۔ اس پر مزید کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا اس لئے امید کا دامن تھام کر انصاف کے لئے منتظر رہنا ہی مناسب عمل معلوم ہوتا ہے۔ جہاں تک ماضی میں گجرات قتل عام اور عصمت دری معاملہ پر مجرموں کے خلاف مقدمہ چلائے جانے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں سپریم کورٹ کے شاندار کردار کا تعلق ہے تو اس کے لئے اتنا سمجھنا کافی ہوگا کہ جب 3 مارچ 2002 کو بلقیس بانو اپنے پڑوسیوں کی درندگی کا شکار ہوئیں اور اپنے اہل خانہ میں سے پندرہ افراد بشمول اپنی تین سالہ معصوم بچی کے بہیمانہ قتل کا ہولناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تب بھی انہوں نے انصاف کی امید نہیں چھوڑی اور ملک کے قانون پر بھروسہ کرکے عصمت دری کے دوسرے دن ہی پولیس اسٹیشن میں عصمت دری اور قتل سے متعلق ایف آئی آر درج کروانے پہنچیں۔ پولیس نے صرف سات افراد کے قتل کی رپورٹ درج کی اور باقی لوگوں کے قتل کی رپورٹ یہ کہہ کر درج نہیں کی کہ ان کی لاشیں بر آمد نہیں ہوئی ہیں۔ ان کی عصمت دری کی تو رپورٹ تک درج کرنے سے پولیس نے منع کر دیا۔ صرف اتنا ہی نہیں ہوا۔ جنوری 2003 تک پولیس نے بلقیس بانو کے کیس کو بند بھی کر دیا اور دلیل یہ دی کہ اس سلسلہ میں کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوا۔ پولیس کی جانب سے اپنی دستوری ذمہ داری سے پہلو تہی کی یہ بدترین مثال کہی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد ملک کی غیر سرکاری تنظیمیں سامنے آئیں اور بلقیس بانو کا ساتھ دیا جن میں جن وکاس اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ انہی تنظیموں کی عرضی پر سپریم کورٹ نے ستمبر 2003 میں گجرات سرکار کو اس کیس کو دوبارہ کھولنے کا حکم جاری کیا۔ اس کے بعد بھی گجرات کی پولیس نے اپنی بدتمیزی جاری رکھی اور متاثرین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ دیر رات کو گجرات پولیس بلقیس بانو کو نیند سے بیدار کرتی تھی اور ریپ و قتل کی جائے واردات پر اس بہانہ سے لاتی تھی کہ معاملہ کی نوعیت سمجھنا ہے۔ ایک بار پھر سپریم کورٹ کی توجہ پولیس کی اس نازیبا اور غیر اخلاقی حرکت کی طرف مبذول کرائی گئی تو اس نے دسمبر 2003 میں سی بی آئی کو یہ کیس کھولنے کا حکم صادر کر دیا اور بالآخر ریپ اور قتل کے الزام میں بارہ مجرموں کی گرفتاری عمل میں آئی۔ 6 پولیس اہلکار بھی انصاف کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کے الزام میں گرفتار کئے گئے تھے، لیکن بلقیس بانو کا درد یہیں ختم نہیں ہوا۔ ان کو مسلسل دھمکیاں ملتی رہیں اور اسی لئے انہوں نے جولائی 2004 میں اپنے کیس کو گجرات سے منتقل کرنے کی گزارش سپریم کورٹ سے کی جس کو کورٹ نے قبول کر لیا اور مرکز کی طرف سے سرکاری وکیل یا پبلک پروسکیوٹر کا تعین اگست 2004 میں عمل میں آیا۔ یہ مقدمہ چار برسوں تک ممبئی میں چلتا رہا اور آخرکار 2008 میں 20 میں سے 13 مجرموں کو سزا ملی۔ ان تیرہ میں سے 11 مجرموں کو عمر قید کی سزا ملی تھی۔ یہ وہی گیارہ خوفناک مجرم ہیں جن کو گجرات سرکار نے قبل از وقت جیل سے رہا کر دیا ہے اور ہیرو کی طرح ان مجرموں کا استقبال کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کا قابل تعریف کردار صرف بلقیس بانو کیس تک ہی محدود نہیں رہا تھا بلکہ بیسٹ بیکری اور 2002 قتل عام سے متعلق کئی دوسرے سنگین معاملوں میں بھی اپنی دستوری ذمہ داریوں کو اچھے ڈھنگ سے اس نے نبھایا تھا۔ آج بھی یہ امید کی جارہی ہے کہ ان گیارہ مجرموں کو دوبارہ جیل بھیج کر ملک کی بلند ترین عدالت ایک بار پھر ملک کے عوام میں یہ امید پیدا کرے گی کہ قانون کی بالادستی کا ماحول بدستور قائم ہے اورنربھیا کیس کی طرح اس میں بھی مکمل انصاف قائم ہوگا۔
(مضمون نگار روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
[email protected]