بائیڈن کے اسرائیل -سعودی دورے

0

کسی طاقتور ملک کے سربراہ کی کسی ملک کے دورے کی یوں بھی اہمیت ہوتی ہے مگر سربراہ اگر امریکہ کا ہو اور وہ ایک ساتھ اسرائیل اور سعودی عرب کے دورے پر جا رہا ہو تو اس دورے کی اہمیت سمجھی جا سکتی ہے۔ اسی لیے عالمی برادری کی نگاہیں امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے اسرائیل اور سعودی عرب کے دوروں پر ہیں کہ اسرائیل میں وہ کیا بیانات دیتے ہیں، سعودی عرب میں کیا کہتے ہیں، مسئلۂ فلسطین کے بارے میں بھی کچھ کہتے ہیں یا نہیں۔ ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کے کالم نگار جمال خاشقجی کے قتل پر دنیا بھر میں ہلچل مچی تھی، ایسا لگتا تھا کہ اس کی وجہ سے ترکی-سعودی عرب اور سعودی عرب-امریکہ کے رشتے خراب ہو جائیں گے مگر ترکی کی خستہ معیشت اور لیرا کی گرتی قدروں نے ترک صدر رجب طیب اردگان کو سعودی عرب سے رشتہ بہتر بنانے پر مجبور کر دیا، وہ سعودی عرب کے دورے پر گئے اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات اس بات کا اشارہ تھی کہ ترک حکومت کو جمال خاشقجی کے قتل کے سلسلے میں سعودی ولی عہد سے زیادہ شکایتیں نہیں ہیں۔ اب بائیڈن کا سعودی دورہ بھی یہی اشارہ ہوگا کہ جمال خاشقجی کے قتل کے سلسلے میں امریکی حکومت سعودی ولی عہد کو مورد الزام نہیں مانتی، اسے ان سے اتنی زیادہ شکایتیں نہیں ہیںکہ امریکہ کے سعودی عرب سے رشتے تلخ رہیں۔ دراصل جیسے ترکی کی اقتصادی حالت نے اردگان کو سعودی عرب کا دورہ کرنے پر مجبور کر دیا اسی طرح دنیا کے حالات نے بائیڈن کو سعودی عرب کا دورہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ روس پر امریکی پابندیاں اب تک اثر نہیں دکھا سکی ہیں، امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کے روس کے تیل ایکسپورٹ کو محدود کرنے یا بالکل ہی روک دینے کی کوششوں کو روسی سربراہ ولادیمیر پوتن نے ناکام بنا دیا ہے، اسی لیے مئی 2021 میں روس کو تیل سے 15ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی تھی تو مئی 2022 میں یہ آمدنی 20ارب ڈالر تھی یعنی اس سال روس نے تیل فروخت کر کے 5 ارب ڈالر زیادہ ہی کمائے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوا، کیونکہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں نے تیل کے پروڈکشن میں اضافہ نہیں کیا، اگر وہ اضافہ کر دیتے تو تیل کی قیمت کم ہوتی، پھر امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کی روس پر پابندی کا اثر نظر آتا۔ تیل پیدا کرنے والے ملکوں پر چونکہ سعودی عرب کا ایک اثر ہے، چنانچہ اپنے دورے کے دوران بائیڈن سعودی شاہ اور ولی عہد کو اس بات کے لیے تیار کرنا چاہیں گے کہ وہ تیل کی پیداوار میں اضافہ کریں تاکہ روس پابندیوں کو محسوس کر سکے۔ سعودی عرب اگر تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور اس کے بدلے امریکہ اس کے کچھ مطالبات پورے کرنے کا علان کرتا ہے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ بائیڈن کے اسرائیل اور سعودی عرب کے دوروں کے دوران ایران کا ذکر چھڑنا بھی طے سا نظر آتا ہے، کیونکہ اب تک کی پالیسیوں سے امریکہ کے ساتھ اسرائیل اور سعودی عرب نے یہی ظاہر کیا ہے کہ ایران کے وہ خلاف ہیں۔ سعودی عرب یہ سمجھتا ہے کہ یمن کے حوثیوں کے پیچھے دراصل ایران کی ہی طاقت ہے، چنانچہ بائیڈن کے دوروں کے دوران یہ سمجھنے میں بھی آسانی ہوگی کہ آنے والے وقت میں امریکہ کی ایران پالیسی کیا ہوگی۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے 13 جولائی سے شروع ہونے والے دوروں کے پروگرام کو دیکھنے پر یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اسرائیل کی پہلے کی پالیسی پر ہی ان کی حکومت بھی چل رہی ہے۔ غالباً اسی لیے وہ پہلے سعودی عرب نہیں جائیں گے جبکہ وہ اس خطے کا بڑا ملک ہے۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن دوروں کی ابتدا اسرائیل سے کریں گے۔ وہ 13جولائی کو اسرائیل کے دورے پر جائیں گے، یہاں 14 کو بھی رہیں گے۔ اسی دوران ممکن ہے، مغربی کنارہ جاکر محمود عباس سے ملاقات کریں، مغربی کنارے جانے پر اگر وہ فلسطینیوں کے لیے کوئی رسمی بیان دے دیں تو دے دیں، ورنہ ان سے یہی توقع ہے کہ اپنے میزبان کو ناراض نہیں کریں گے۔ 15 جولائی کو بائیڈن سعودی عرب جائیں گے۔ وہاں سے 16جولائی کو وہ واپس ہوں گے۔ امریکی صدر کا جہاز اسرائیل سے سعودی عرب جائے گا تو کیا مستقبل قریب یا بعید کے اسرائیل-سعودی رشتے کا بھی اشارہ ہوگا؟ ٹرمپ کے دور صدارت میں جیسے متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے سفارتی رشتہ قائم کیا اور سعودی عرب کے اخبارات نے اس کی حمایت میں لکھا، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ ایران سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کا اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کر لینا کوئی حیرت کی بات نہ ہوگی۔ نومبر 2020 میں سعوی ولی عہد محمد بن سلمان کے اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو اور امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کی خبر آئی تھی تو سعودی عرب اور اسرائیل نے اس کی تردید کر دی تھی مگر سچ یہ بھی ہے کہ بن بات کے کوئی بات نہیں ہوتی۔ بن بات کے دورے بھی نہیں ہوتے!
[email protected]