بھارت رتن

0

پہلے 23جنوری کو سماجوادی لیڈرکرپوری ٹھاکر اوراب 3فروری کو راشٹروادی لیڈر لال کرشن اڈوانی کو ملک کے سب سے بڑے شہری ایوارڈ ’بھارت رتن ‘ دینے کا اعلان اپنے آپ میں بہت کچھ کہتاہے ۔ایک سال میں سرکار 3لوگوں کو یہ ایوارڈ دے سکتی ہے، عام طورپر جتنے لوگوں کو ایوارڈ دینے کا اعلان کیا جاتاہے تو ایک ہی بار میں کردیاجاتاہے ، لیکن اس بارلگ رہاہے کہ کافی غور وخوض اورسیاسی فائدہ ونقصان کودیکھ کر ناموں کااعلان کیا جارہاہے ، کیونکہ جلد ہی لوک سبھاانتخابات ہونے والے ہیں ۔ اڈوانی کو جس نمبر پر ایوارڈ دینے کااعلان کیاگیا ہے، وہ 50واں بھارت رتن ایوارڈ ہے۔یہ ان کو دیاجانے والا دوسرابڑا شہری اعزاز ہے۔ اس سے پہلے مودی سرکارنے ہی 2015میں انہیں دوسراسب سے بڑا شہری ایوارڈ پدم وبھوشن دیا تھا۔اس کے 9سال بعد ’بھارت رتن ‘سے نوازا جائے گا۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی نے خودہی بھارت رتن کیلئے مسٹراڈوانی کے انتخاب کی جانکاری سوشل میڈیاپر دی اورساتھ ہی اڈوانی کے ساتھ اپنی 2تصویریں شائع کرکے اپنی قربت اور خوشی کااظہار کیا ۔ادھراڈوانی نے بھی ایوارڈ کے اعلان پر کہا کہ میں یہ اعزاز انتہائی عاجزی اورانکساری کے ساتھ قبو ل کرتاہوں۔یہ نہ صرف میرے لئے بحیثیت فردایک اعزاز ہے ، بلکہ ان نظریات اوراصولوں کا بھی اعزاز ہے، جن کی میں نے زندگی بھر اپنی صلاحیتوں کے مطابق خدمت کی ۔اڈوانی بی جے پی کے تیسرے لیڈرہیں ، جویہ ایوارڈ حاصل کریں گے ۔ ان سے پہلے سابق وزیراعظم اٹل بہاری باجپئی کو 2015میں اورناناجی دیشمکھ کو 2019میں یہ ایوارڈ دیاگیا۔بی جے پی کے تینوں لیڈروں کو ایوارڈ مودی سرکارمیں ہی دیا گیا ۔یہ تینوں لیڈرجن سنگھ اوربی جے پی کے بانی ارکان میں شامل ہیں ۔مدن موہن مالویہ کو بھی بعدازمرگ 2015 میں یہ ایوارڈ دیاگیاتھا۔اڈوانی کو 96سال کی عمر میں یہ اعزاز دیاجارہاہے ، جبکہ باجپئی کو 90 سال کی عمر میں دیاگیاتھا۔
بھارت رتن ایوارڈ آرٹ، ادب، سائنس، عوامی خدمت اور کھیل سمیت مختلف شعبوں میں غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔بھارت رتن ایوارڈعموماً ہندوستان میں پیدا ہونے والے شہریوں کو دیاجاتا ہے، لیکن مدرٹریسا، عبدالغفارخان اورنیلسن منڈیلاکو بھی دیا گیا، جوہندوستان میں پیدانہیں ہوئے تھے ۔ اس کاآغاز 1954میں ہواتھااورسب سے پہلے چکرورتی راج گوپال اچاری ، سروپلی رادھاکرشنن اورچندرشیکھروینکٹ رمن کویہ ایوارڈ دیا گیا ۔ہر سال حکومت کو ایوارڈ دینے کا اختیارہے ، لیکن ہرسال نہیں دیاجاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ 74برسوں میںایوارڈ کیلئے اب تک 50ہی شخصیات کاہی انتخاب کیاگیا۔ 1954 میں لال بہادرشاستری کو تنہاایوارڈ دیاگیاتھا۔اس ایوارڈکو حاصل کرنے والوںمیں سب سے کم عمرکرکٹ کھلاڑی سچن تیندولکر ہیں ۔ ایل کے اڈوانی کی سیاسی زندگی سے ہر کوئی واقف ہے ۔ رام مندر کی تحریک میں وہ پیش پیش تھے اوررتھ یاترابھی نکالی تھی ، لیکن بیماری اورخرابی صحت کی بناپر وہ پران پرتشٹھامیں شامل نہیں ہوسکے ، البتہ پران پرتشٹھاکے کچھ ہی دنوں بعد انہیں بھارت رتن دینے کا اعلان کردیاگیا۔انہوں نے سیاسی زندگی میں کافی جدوجہد کی اورمرکزی وزیرداخلہ اوراطلاعات ونشریات سے لے کر نائب وزیراعظم تک بنے ۔اب وہ سرگرم سیاست میں نہیں ہیں اورنہ وہ الیکشن لڑتے ہیں، لیکن بی جے پی کے مارگ درشک منڈ ل میں شامل ہیں ۔ پارٹی اورملک میں ان کے حامیوں کی تعداد بہت ہے ، ایک وقت تھا ، جب ان کو صدر جمہوریہ بنانے کی مانگ کی گئی تھی ۔ملک کی کئی نسلیں ان سے جذباتی طورپر جڑی ہوئی ہیں ۔ ایسے لیڈراورکارکنان بی جے پی میں بھی موجود ہیں ۔
اس بار جن 2شخصیات کو بھارت رتن دینے کا اعلان کیا گیا ہے ،وہ دراصل رائے دہندگان کی بہت بڑی آبادی کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ اعلان سے یقیناسنگھ پریوار ، بی جے پی کے حامی اورسماجوادی نظریات کے حامل لوگ کافی خوش ہوں گے۔اترپردیش ،بہاراورگجرات کے سیاسی وانتخابی منظرنامہ پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ایک طرح سے وزیراعظم نریندرمودی نے انتخابی منظرنامہ تیار کردیاہے ۔ کرپوری ٹھاکر کے نام کے اعلان سے بہارکی سیاست میں جو تبدیلی آئی ، وہ سب نے دیکھ لیا اب اڈوانی کے نام کے اعلان سے آنے والی تبدیلی کو سبھی دیکھیں گے ۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS