بیلاروس میں امن عامہ کی خلاف ورزی پر 800 افراد کو حراست میں لے لیا گیا

0

منسک: (یو این آئی/ اسپوٹنک) بیلاروس میں آئینی ریفرنڈم کے دوران امن عامہ کی مختلف خلاف ورزیوں پر تقریباً 800 افراد کو حراست میں لیا گیا، یہ بات بیلاروس کی وزارت داخلہ نے پیر کو بتائی۔ اتوار کو ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے والوں میں سے 65.16 فیصد نے آئینی ترامیم کی حمایت کی اور 10.07 فیصد نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ وزارت نے ٹیلی گرام میں ایک تحریری بیان میں بتایاکہ “ملک میں تقریباً 800 افراد کو امن عامہ کی مختلف خلاف ورزیوں کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے اقدامات کا قانونی جائزہ اب جاری ہے۔ ان میں سے کچھ کو پہلے ہی اسی طرح کی خلاف ورزیوں پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جا چکا ہے۔” وزارت نے غیر قانونی ہارن بجانے، غیر مجاز مظاہروں اور امن عامہ کی خلاف ورزی پر اکسانے والی کارروائیوں پر فوجداری مقدمات بھی شروع کیے گئے ہیں۔
آئینی ترامیم کے مطابق ایک ہی شخص کو دو میعادوں سے زیادہ صدر منتخب کیا جا سکتا ہے۔ نئی تشکیل شدہ آل بیلاروسی قومی اسمبلی سے توقع ہے کہ وہ ملک کا اعلیٰ ترین نمائندہ ادارہ بن جائے گا، جو ملکی اور خارجہ پالیسیوں، فوجی اصولوں اور قومی سلامتی کے تصورات کی منظوری دے گی۔ اسمبلی صدر کو آئین کی منظم اور صریح خلاف ورزی، غداری یا کچھ اور سنگین جرائم پر ہٹانے کے قابل ہوگی۔ ریفرنڈم میں کیا گیا فیصلہ نتائج کی سرکاری اشاعت کے 10 دن بعد نافذ العمل ہو گا۔