ہوشیار! یہ تو ’کوڑا بم‘ ہے

0
ہوشیار! یہ تو ’کوڑا بم‘ ہے

پنکج چترویدی

20 ا پریل کو دہلی میں غازی پور کے کوڑا پہاڑ میں پھر سے آگ لگ گئی، یہ اس ماہ میں تیسری بار ہوا۔ ہر بار کی طرح آگ پر تو قابو پا لیا گیا، لیکن گھنا دم گھوٹنے ولا دھواں چوبیس گھنٹے چھایا رہا۔ جب درجۂ حرارت 42 سے پار ہو اور سانس لینے کے لیے زہریلا دھواں ہو تو جان سکتے ہیں کہ ان ہزاروں لوگوں کی زندگی کتنی دشواری میں کٹ رہی ہوگی۔ چونکہ دہلی تو راجدھانی ہے، لہٰذا اس کی چرچہ ہو جاتی ہے لیکن ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر ہی نہیں گاؤں تک میں اب کوڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ تبھی تو ابھی 23؍ اپریل 2022 کو این جی ٹی کے صدر جسٹس اے کے گوئل کی سربراہی والی بینچ نے کہا کہ دہلی سمیت دوسرے شہروں میں موجود کچرا پھینکنے کی جگہیں کسی ’ٹائم بم‘ کی طرح ہیں، کیونکہ ان مقامات پر مسلسل میتھین گیس پیدا ہوتی ہے جس سے آگ لگنے اور دھماکہ ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ جسٹس اے کے گوئل کا کہنا ہے کہ ڈمپنگ سائٹوں پر آگ لگنے کے واقعات دیگر شہروں میں بھی ہو رہے ہیں جو بے حد تشویش کی بات ہے۔
اس سے پہلے مورخہ 13 ؍اپریل 2022 کو دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وپن سانگھی اور جسٹس نوین چاؤلہ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے میونسپل کارپوریشن سے پوچھا تھا کہ آخر کیوں غازی پور کوڑے کے ڈھیر میں بار بار آگ لگتی ہے، جس سے پیدا ہونے والے زہریلے دھویں سے زبردست فضائی آلودگی ہوتی ہے۔ واضح ہو کہ اس سے قبل 18؍دسمبر 2014 کو دہلی ہائی کورٹ نے متنبہ کیا تھا کہ اگر بروقت قدم نہیں اٹھائے گئے تو دہلی جلد ہی ٹھوس کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائے گی۔ دہلی میں ابھی تک کوئی دو کروڑ میٹرک ٹن کچرا جمع ہو چکا ہے اور روزانہ 11,400 میٹرک ٹن کوڑا پیدا ہو رہا ہے جس میں سے دو ہزار ٹن پلاسٹک کا لاعلاج کچرا ہوتا ہے۔ اس کے حل کے لیے کہیں زمین بھی نہیں بچی ہے۔ موجودہ لینڈفل سائٹ ڈیڑھ سو فٹ سے اونچی ہوگئی ہے اور اس پر اب زیادہ کچرا نہیں ڈالا جاسکتا لیکن پورا سسٹم انتظار کرتا رہا کہ کوئی حادثہ ہو پھر اس جانب توجہ دی جائے۔
ہمارے ملک کے شہر ہر دن تقریباً 1,50,000 ٹن ٹھوس کچرا (ایم ایس ڈبلیو) اُگل رہے ہیں جس میں سے محض 25 فیصد کی پروسیسنگ ہوتی ہے۔ باقی بچا کچرا یا تو کھلے میں پھینک دیا جاتا ہے یا جلا دیا جاتا ہے۔ 2030 تک کچرے کی یہ مقدار 4,50,000 ٹن روزانہ ہو جائے گی۔ برسوں سے ہمارے یہاں اس کوڑے سے بجلی بنانے کی چرچہ ہو رہی ہے لیکن یہ تجربہ بری طرح ناکام رہا۔ اس طرح کا پہلا پلانٹ (ڈبلیو ٹی ای) دہلی کے تیمارپور میں 1987 میں لگا لیکن چلا نہیں۔ تب سے ملک میں 130 میگاواٹ صلاحیت کے 14 اور ڈبلیو ٹی ای پلانٹ لگائے گئے، لیکن ان میں سے آدھے بند ہوچکے ہیں۔ باقی پر ماحولیاتی ضوابط کو نظرانداز کرنے کی جانچ چل رہی ہے۔ دہلی کے اوکھلا پلانٹ پر تو 25 لاکھ کا جرمانہ بھی ہوگیا۔ ان پلانٹس کے فیل ہونے کی وجہ سے کچرے کی کوالٹی اور کمپوزیشن ہے۔ کچرے میں نمی زیادہ ہوتی ہے، اس لیے جلانے میں زیادہ توانائی لگتی ہے جبکہ بجلی کم ملتی ہے۔
راجدھانی دہلی میں کچرے کا نمٹارہ اب ہاتھ سے باہر نکلتا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اندازہ ہے، 2023 تک یہ میٹروپولیٹن سٹی 16 ہزار میٹرک ٹن کچرا پیدا کرے گی۔ فی الحال میٹروپولیٹن سٹی کا کچرا کھپانے کے تین کھتّے یا ڈمپنگ گراؤنڈس ہیں-غازی پور، اوکھلا اور بھلسوا۔ غازی پور میں کوڑا خانے کا کام جب 1984 میں شروع ہوا تھا تو اس کا رقبہ 30 ایکڑ ہوا کرتا تھا، جو آج 76 ایکڑ ہو گیا۔ اصول ہے کہ کوڑے کے ڈھیر کی اونچائی زیادہ سے زیادہ 20 میٹر ہو، لیکن غازی پور کا پہاڑ 50 میٹر سے آگے نکل گیا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کہتا ہے کہ اس مقام کے بارے میں 2006 میں ہی کہہ دیا گیا تھا کہ اب یہاں اور کوڑا نہیں کھپایا جا سکتا، اس کے باوجود یہاں آج بھی ہر دن 600 ٹرک کوڑا آتا ہے، جو تقریباً 2000 ٹن ہوتا ہے۔ اکتوبر 2019 میں یہاں کوئی 140 میٹرک ٹن کوڑے کا اندازہ تھا اور کم کرنے کا عمل شروع ہوا تھا۔ یہاں 25 ٹرمیل مشینیں لگائی گئیں جو سوا دو سال میں محض 9.6 لاکھ میٹرک ٹن کوڑاختم کرپائی ہیں اور ابھی بھی 130 لاکھ میٹرک ٹن کوڑا باقی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس رفتار سے موجودہ کوڑے کو ختم کرنے میں 13 سال لگیں گے۔ پھر ہر دن اس کھنتی میں نیا کوڑا بھی آ رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دہلی کے اپنے کوڑے کے ڈھیر کئی سال قبل پوری طرح بھر گئے ہیں اور آس پاس 100 کلومیٹر دور تک کوئی نہیں چاہتا کہ ان کے گاؤں-قصبے میں کوڑے کا انبار لگے۔ متصل ضلع غازی آباد کی میونسپل کارپوریشن بھی کوڑے کے ڈھلاؤ گھر کے مسئلے سے نبردآزما ہے۔
غازی پور میں آگ لگنے کی وجہ بھی کوڑے کا مسلسل سڑنا اور اس سے خطرناک گیسوں کا اخراج ہی بتایا گیا ہے۔ واضح ہو کہ دہلی کے کوڑے میں بڑی مقدار میں سب سے خطرناک کوڑا تو بیٹریوں، کمپیوٹروں اور موبائل کا ہے۔ اس میں پارہ، کوبالٹ اور نہ جانے کتنے قسم کے زہریلے کیمیکل ہوتے ہیں۔ ایک کمپیوٹر کا وزن تقریباً 3.15 کلوگرام ہوتا ہے۔ اس میں 1.90 کلوگرام لیڈ اور 0.693 گرام پارہ اور 0.04936 گرام آرسینک ہوتا ہے۔ باقی حصہ پلاسٹک ہوتا ہے۔ اس میں سے زیادہ تر سامان گلتا سڑتا نہیں ہے اور زمین میں جذب ہوکر مٹی کی کوالٹی کو متاثر کرنے اور زیرزمین پانی کو زہریلا بنانے کا کام کرتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح کا زہر بیٹریوں اور بیکار موبائلوں سے بھی پیدا ہو رہا ہے۔
اصل میں کچرے کو بڑھانے کا کام معاشرے نے ہی کیا ہے۔ ابھی کچھ سال پہلے تک سیاہی والا فاؤنٹین پین ہوتا تھا، اس کے بعد ایسے بال پین آئے، جن کی صرف ریفل بدلتی تھی۔ آج بازار میں ایسے پین کا بول بالا ہے جو ختم ہونے پر پھینک دیے جاتے ہیں۔ ملک کی بڑھتی شرح خواندگی کے ساتھ ایسے پین کا استعمال اور اس کا کچرا بڑھتا گیا۔ ذرا سوچیں کہ تین دہائی قبل ایک شخص پورے سال میں بمشکل ایک پین خریدتا تھا اور آج اوسطاً ہر سال ایک درجن پین کی پلاسٹک فی شخص بڑھ رہی ہے۔ اسی طرح شیونگ-کٹ میں پہلے اسٹیل یا اس سے پہلے پیتل کا ریزر ہوتا تھا، جس میں صرف بلیڈ تبدیل کیے جاتے تھے اور آج ہر ہفتے کچرا بڑھانے والے ’یوز اینڈ تھرو‘ والے ریزر ہی بازار میں ملتے ہیں۔ ابھی کچھ سال پہلے تک دودھ بھی کانچ کی بوتلوں میں آتا تھا یا پھر لوگ اپنے برتن لے کر ڈیری جاتے تھے۔ آج دودھ تو ٹھیک ہی ہے، پینے کا پانی بھی کچرا بڑھانے والی بوتلوں میں مل رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ پورے ملک میں ہر روز چار کروڑ دودھ کی تھیلیاں اور دو کروڑ پانی کی بوتلیں کوڑے میں پھینکی جاتی ہیں۔ میک اَپ کا سامان، گھر میں ہونے والی پارٹی میں ڈسپوزل برتنوں کا رواج، بازار سے سامان لاتے وقت پولیتھین کی تھیلیاں لینا، ہر چھوٹی بڑی چیز کی پیکنگ، ایسے ہی نہ جانے کتنے طریقے ہیں، جن سے ہم کوڑا-کباڑہ بڑھا رہے ہیں۔ گھروں کی صفائی اور خوشبو کے نام پر بڑھ رہے صابن اور دیگر کیمیکلس کے چلن نے بھی الگ قسم کے کچرے کو بڑھایا ہے۔ سرکاری دفاتر میں ایک ایک کاغذ کی کئی کئی کاپیاں بنانا، ایک ہی تجویز کو کئی کئی ٹیبل سے گزارنا، جیسے کئی کام ہیں جس سے کاغذ، کمپیوٹر کے پرنٹنگ کارٹیج وغیرہ کا خرچ بڑھتا ہے اور اسی سے کوڑے کو کھپانے کے سبھی منصوبے ناکام ہو رہے ہیں۔
لندن میں ہر ایک ریستوراں میں گلاس، اس کے اوپر لگے ڈھکن، بچے کھانے کو وہیں الگ الگ کیا جاتا ہے اور ہر بیکار چیز کو ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ یہ لازمی ہے کہ دہلی کے کوڑے کو ٹھکانے لگانے کے لیے نئے ٹھکانے تلاش کیے جائیں۔ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ کوڑا کم کرنے کی کامیاب کوششیں ہوں۔ اس کے لیے کیرالہ میں کنّور ضلع سے سبق لے سکتے ہیں جہاں پورے ضلع میں بال پین کے استعمال سے لوگوں نے توبہ کرلی، کیونکہ اس سے ہر دن لاکھوں ریفل کا کوڑا نکلتا تھا۔ پورے ضلع میں کوئی بھی دکاندار پالیتھین کی تھیلی یا پلاسٹک کے ڈسپوزایبل برتن نہ تو فروخت کرتا ہے اور نہ ہی استعمال کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ضرورت کوڑے کو کم کرنے کی ہونی چاہیے۔ جب کوڑا کم ہوگا تو اس کو نمٹانے میں کم وسائل اور جگہ کی ضرورت ہوگی۔
[email protected]