بارابنکی : جہیز کی خاطر جلاد سسرال والوں نے 23 سالہ نئی نویلی دلہن کو مارا پیٹا،علاج کے دوران ہوئی موت

0
image:Soolegal

بارابنکی: بارابنکی کی ایک بدقسمت لڑکی رقیه بانو کی شادی کی مہندی کا رنگ ہاتھوں سے اڑا بھی نہیں تھا کہ سسرال والوں نے اسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر طعنے دینا اوردق کرنا شروع کردیا، تیرے باپ نے شادی اچھی طرح سے نہیں کی جہیز نہیں دیا۔ جہیز کی لالچ میں جلاد بنے شوہر،سسر اور نندوں کی پٹائی سے 23 سالہ رقیہ بانو کی حالت خراب ہونے لگی۔ واقعہ کی اطلاع پر میکے والوں نے رقیہ بانو کو اسپتال میں داخل کرایا۔ مارپیٹ کی وجہ سے شدید چوٹیں آنے کے سبب ڈاکٹر بھی رقیہ بانو کی جان نہیں بچا سکے اور علاج کے دوران رقیہ بانو کی درد ناک موت ہو گی۔ اس واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے لاش کو اپنے قبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کے
لئے بھیج دیا۔ وہیں رقیہ بانو کے والد کی تحریر پر ان کے شوہر، ساسر اور نندوں کے خلاف جہیز، قتل کی دفعات
درج کئے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق صبحیا تھانے علاقہ کے نگر پنچایت سبحیا کے حسن پور وارڈ کے رہنے والے محمد عیسی
نے اپنی بیٹی رقیہ بانو کی شادی 28 اکتوبر 2019 کو جنپد ایودھیا کے میوئی تھانہ علاقہ کے تحت سیدپور گائوں کے سرتاج کے بیٹے شہاب الدین کے ساتھ کی تھی۔ مظلوم خاندان کے افراد نے بتایا کہ شادی میں اپنی حیثیت کے مطابق جہیز بھی دیا تھا۔ پھر بھی سسرال والے جہیز کو لے کر رقیہ بانو کو مارتے پیٹتے اور ذہنی طور پر پریشان کرتے تھے۔ گزشتہ 2 جنوری 2022 کو اس کے شوہر سرتاج، سسر شہاب الدین، نند صبا اور شببو نے ایک رائے ہوکر رقیہ بانو کو بہت مارا پیٹا، رقیہ بانو کی حالت کافی بگڑ گئی۔ واقعہ کی اطلاع پر رقیہ بانو کے میکے والے اس بچی کو غشی کی حالت میں شوکل بازار لئے گئے اور پرائیوٹ ڈاکٹر سے علاج کروانے کے بعد گھر لے گئے۔ رقیہ بانو کے گھر والوں نے بتایا کہ علاج کے دوران ہی 6 جنوری 2022 کو رقیہ بانو کی طبعیت پھر سے خراب ہوگئی، جس کے بعد گھروالوں نے 108 فون کرکے ایمبولینس کی مدد سے اس کو سمودایک ہلیتھ
سینٹر حیدرگڑھ میں داخل کرایا۔ جہاں رقیہ بانو کی حالت میں بہتری نہیں ہونے پر گھروالے 8 جنوری 2022 کو امیٹھی جنپد کے بی ایچ ایل واقع کے کے اسپتال لئے گئے۔ استپال میں موجود ڈاکٹروں نے مریض کی حالت کو دیکتھے ہوئے لکھنئو ٹراما سینٹر کے لئے ریفر کردیا۔ ٹراما سینٹر کے راستے میں رقیہ بانو نے دم توڑ دیا۔ واقع کی اطلاع پر پہنچی پولیس نے لاش کو قبضہ میں لے لیا اور ان کے والد کی تحریر پر شوہر، سسر، نند سمیت چار لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر کارروائی شروع کردی ہے۔

آپ کے تاثرات
+1
1
+1
2
+1
0
+1
0
+1
3
+1
2
+1
13

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here