لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی طالبان میں اختلاف کا سبب

0

کابل (ایجنسیاں) : ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندی خود داخلی طور پر اس گروپ میں تقسیم کا باعث ہے تاہم اسی معاملے سے افغانستان کے لیے غیرملکی امداد بھی نتھی ہے۔گزشتہ برس اگست میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ایک طرف اس گروہ کو سفارتی سطح پر مکمل تنہائی کا سامنا ہے تو دوسری طرف ملک میں غربت اور افلاس میں واضح اضافہ ہوا ہے جب کہ افغانستان کے لیے بیرونی امداد تعطل کا شکار ہے۔ بین الاقوامی برادری کا مطالبہ ہے کہ افغانستان کے لیے امداد کی فراہمی اسی وقت ہو گی جب طالبان اپنے ہاں انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنائیں گے اور لڑکیوں کی تعلیم کے حق کو تسلیم کریں گے۔ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے تناظر میں بین الاقوامی برداری کی شدید تنقید کے جواب میں طالبان اس پابندی کے خاتمے سے متعلق بیانات تو دیتے رہیں ہیں، تاہم یہ پابندی مکمل طور پر ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ایک سینئر طالبان رکن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا، ’لڑکیوں کی تعلیم اتنا حساس معاملہ ہے کہ اس پابندی کے خاتمے کے فیصلے پر طالبان ہی میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی تھی، جس کے بعد خود سپریم لیڈر کو مداخلت کرنا پڑی تھی۔‘خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس مدعے پر طالبان کے جتنے بھی اراکین سے گفتگو کی گئی، انہوں نے اس موضوع کی حساسیت کی وجہ سے اپنا نام مخفی رکھنے کی درخواست کی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول کھولے جانے کے فیصلے کے چند ہی گھنٹوں کے بعد دوبارہ ان کی بندش کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ یہ غیرمعمولی یوٹرن اس گروہ کی قیادت کی قندھار میں ہونے والی میٹنگ کے بعد سامنے آیا۔ یہ بات اہم ہے کہ قندھار اس عسکریت پسند گروہ کا پاور ہاؤس ہے۔
باقاعدہ طور پر طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کو کبھی جائز نہیں کہا تاہم یہ گروہ اصرار کرتا رہا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم ‘اسلامی اصولوں‘ کے تحت ہونا چاہیے۔ لیکن ایک اعلیٰ طالبان عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور دیگر طالبان رہنما اس موضوع پر ’سخت موقف‘ کے حامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس موضوع پر طالبان واضح طور پر اربن اور انتہائی قدامت پسندوں میں تقسیم ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ اس موضوع پر ہونے والی بحث میں اس بار انتہائی قدامت پسند جیت گئے۔ تاہم اے ایف پی کے مطابق طالبان کی اس اجلاس میں ’سیکولر اور جدید‘ تعلیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے اشرف غنی اور حامد کرزئی کے ادوار سے جوڑا گیا۔