ناساز جمہوریت

0

حمنہ کبیر (وارانسی)
بی بی سی کی گجرات فسادات پر مبنی ڈاکیومنٹری پر بھاجپا حکومت کی جانب سے پابندی لگا دینے کے بعد بین الاقوامی میڈیا،سیاسی شخصیات،انسانی حقوق کی تنظیموںکی طرف سے ہندوستان کی جمہوریت اور اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ ہورہے امتیازی سلوک پر پہلے سے کہیں زیادہ آوازیں اٹھائی جانے لگی ہیں۔
گزشتہ سال گجرات اسمبلی انتخابات کے بعد( جس میں بی جے پی کو جیت حاصل ہوئی تھی)انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے مسلمانوں کے خلاف ہورہے امتیازی سلوک اور پالیسیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب نئی حکومت کو چاہئے کہ جابرانہ پالیسیوں اور قوانین کو واپس لے اور زبردستی بے دخلی اور حاصل شدہ اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف کاروائی کرے۔ امریکہ کے ڈیموکریٹک کانگریسی لیڈر اینڈی لیون کا ایک بیان آیا تھا جس میں انہوں نے ہندوستان کے ہندو راشٹر بننے کا خطرہ ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ ہندوستان میں تمام لوگوں کے حقوق کے تحفظات کو یقینی بنایا جائے۔
انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے سال 2023 کی اپنی رپورٹ میں مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جانے، تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی لگائے جانے اور اقلیتوں کے خلاف ہورہے پرتشدد واقعات پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ پچھلے مہینہ کئی امریکی قانون سازوں نے وہاں کے صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا کہ وہ ہندوستان میں ہورہے انسانی حقوق کی پامالیوں پر وزیراعظم نریندر مودی سے بات کریں۔
کئی افراد پر مشتمل اس گروپ نے ہندوستان میں بڑھتی مذہبی جنونیت، اقلیتوں کے خلاف ہورہے واقعات، صحافت کی آزادی پر اپنی فکر مندی جتائی تھی۔ 22 جون کو وہائٹ ہاؤس میں ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وال اسٹریٹ جرنل کی صحافی صبرینہ صدیقی نے وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ آپ کی حکومت نے ملک کی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک رکھا ، آپ کی حکومت ہندوستان میں اظہارِ رائے کی آزادی، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظات کے لئے کیا اقدامات کررہی ہے؟ وزیراعظم نریندر مودی کے امریکی دورے کے دوران ہی وہاں کے سابق صدر براک اوباما نے ہندوستانی مسلمانوں کے تعلق سے ایک بیان دیا تھا۔ امریکی نیوز چینل سی این این کو دئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت وہ امریکہ کے صدر ہوتے تو وہ وزیراعظم نریندر مودی سے ہندوستانی مسلمانوں کے حالات پر غور کرنے کے لئے کہتے۔
ہمارے ملک کے لیڈران جب غیر ملکی دورے پر نکلتے ہیں اور ان سے جب جمہوریت پر سوال کیا جاتا ہے تو وہ بڑے بھاری بھاری ڈائلاگ بولتے ہیں۔ بڑے فخر سے جواب دیتے ہیں کہ ہندوستان دنیا کا ایک بڑا جمہوری ملک ہے۔جمہوریت ہماری رگوں میں دوڑتی ہے۔کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوتا۔ جبکہ ہندوستان کے حالات مسلسل اقلیتوں کے خلاف ہوتے جارہے ہیں۔ ادھر کچھ سال کے اندر ہی ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں جو ملک کے مسلمانوں کو ہراساں کرنے والے تھے۔ حجاب ، گوشت ، حلال پر پابندی، ماب لنچنگ، بلڈوزر کے ذریعہ مسلمانوں کا گھر مسمار کرنا ، اتراکھنڈ کے مسلمانوں کے لئے زمین تنگ کرنا جیسے کئی ایشوز محض مسلمانوں کو تنگ کرنے کے لئے ہی اٹھائے گئے تھے۔ تازہ ترین شوشہ یونیفارم سول کوڈ کا چھیڑا گیا ہے۔ مختلف طبقات کے احتجاج کے بعد یو سی سی سے قبائل اور عیسائیوں کو مستثنیٰ رکھنے پر غور کیا جانے لگا ہے۔ اب اس قانون کے سیدھے نشانہ پر مسلمان ہوں گے۔ اگرچہ اس قانون کو لانے میں ابھی جلدبازی نہیں کی جائے گی کیونکہ فی الحال ایک پارٹی کے لئے یہی ’’شوشہ‘‘ سب سے اہم ہے، لیکن گمان یہی ہوتا ہے کہ اسے 24 کے عام انتخابات تک گھسیٹا جائے گا اور جیسے جیسے انتخابات کے دن نزدیک آتے جائیں گے مسلمانوں کے علاوہ دیگر طبقوں کو اس قانون کے حوالے سے تسلی بخش جوابات دئے جائیں گے یا اقدامات کئے جائیں گے۔
بلاشبہ ہندوستان کی مقبولیت میں دنیا بھر میں اضافہ ہوا ہے۔ غیر ممالک میں سے کچھ ہندوستان کو ایک ساتھی اور کچھ حریف کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ اپنے فائدے کے لئے وہ ہمارے ملک سے تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں، لیکن کسی ملک کی ترقی اقلیتوں کو کنارے لگا کر ممکن نہیں۔ اس سے ہندوستان کی شبیہ عالمی پیمانہ پر متاثر ہورہی ہے جس کا احساس آنے والے چند برسوں میں ہوگا۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر رگھورام راجن نے خبردار کیا تھا کہ ہندوستان میں ہورہے اقلیت مخالف حملے اور فرقہ وارانہ فساد کی وجہ سے دوسرے ممالک کے ذریعہ ہندستان کو ایک ناقابل اعتماد پارٹنر کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ جس سے یہاں کی مصنوعات کی مانگ میں کمی بھی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے چین کی مثال بھی دی کہ ایغور مسلمانوں اور تبتیوں کے ساتھ غیر مناسب سلوک کی وجہ سے ہی چین کی عالمی شبیہ کو نقصان پہنچا ہے اور آئے دن چین کی مصنوعات کا بائیکاٹ ہوتا رہتا ہے۔
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ 2047 تک ہندوستان ایک ترقی پذیر ملک (developing country) سے ترقی یافتہ ملک (developed country) بن جائے گا، لیکن اس خواب کی تعبیر تبھی ممکن ہے جب سماج کے سبھی طبقوں کو بغیر امتیازی سلوک کے ساتھ لے کر چلا جائے۔ ہندوستانی میڈیا بھلے ملک میں ہورہے ناخوشگوار واقعات پر حکومت سے سوال نہ کرے لیکن وشو گرو جب وشو کے دورے پر نکلیں گے تو ان سے وشو بھر کے صحافی اس طرح کے سوالات کریں گے، چاہے انہیں تسلی بخش جواب نہ ملے۔
rvr

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS