ملک سے بغاوت کا قانون 124-A کا پس منظر،علمائے دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند

0

ایڈووکیٹ شاہد ندیم
تعزیرات ہند کی دفعہ 124-A یعنی ’’ ملک سے بغاوت اور غداری‘‘ کو ختم کرنے کے لئے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن زیر سماعت ہے جس پر عدالت
عالیہ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے ، مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنر ل آف انڈیا تشار مہتا نے سپریم کورٹ کو کہا کہ موجودہ قانون
کو ختم کرنایا اس میں ترمیم کرنا ضروری نہیں ہے لیکن عدالت کا رویہ دیکھتے ہوئے سماعت کے دوسرے دن سالیسٹر جنرل آف انڈیا نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم
ہند نریندر مودی آزادی کی 75؍ ویں سالگرہ کے موقع پر اس قانون کو ختم کرنے یا اس میںترمیم کرنے پر غور کرر ہے ہیں اور پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اس پر
بحث کرائی جاسکتی ہے۔سالیسٹر جنرل کے اس بیان پر چیف جسٹس آف انڈیا نے حکم جاری کیاکہ جب تک اس معاملے کی سماعت مکمل نہیںہوجاتی کوئی بھی نیا مقدمہ
درج نہیں ہوگا اور زیر سماعت مقدمات پر بھی از سر نو غور کیا جائے اور اس دفعہ کے تحت جو لوگ جیل میں ہیں وہ متعلقہ عدالتوں سے ضمانت حاصل کرنے کے
لئے رجوع ہوسکتے ہیں۔سپریم کورٹ کے اس عبوری اقدام سے جیل میں مقید سیکڑوں ملزمین کو راحت حاصل ہوگی۔ 124-A یعنی بغاوت قانون کیا ہے؟: ملک سے
بغاوت کی تعریف آئی پی سی کی دفعہ124 الف میں کی گئی ہے۔ اس کے مطابق، اگر کوئی شخص حکومت کے خلاف کچھ لکھتا ہے یا بولتا ہے یا اس طرح کی باتوں کی
حمایت کرتا ہے تو اسے جرمانے کے ساتھ عمر قید یا جرمانے کے ساتھ 3 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔
یہ قانون ڈیڑھ سوسال پرانا قانون ہے جس کا اطلاق سب سے پہلے انگزیز حکومت نے جنگ آزادی کے دوران مسلمانوں اور علماء دیوبند کی آوازکو دبانے کے لئے کیا
تھا ۔1860 میں انڈین پینل کوڈ جب بنا اس وقت اس میں ملک سے بغاوت کی دفعہ نہیں تھی لیکن جب علماء دیوبند کی طرف سے برٹش حکومت کے خلاف جہاد کافتوی
جاری ہوا تو اس کے بعد اس قانون کو لاگو کیا گیا ۔1857میںجنگ آزادی کے دوران دارالعلوم دیوبند نے ایک فتوی جاری کیا تھا کہ انگریز فوج میں مسلمانوں کا شامل
ہونا حرام ہے، اس فتویٰ نے پورے ملک میں جنگ آزادی کی روح پھونک دی، جگہ جگہ آزادی کے متوالوں نے آزادی کی جدوجہد شروع کردی۔چنانچہ مسلمانوں کے اس
جذبہ جہاد آزادی کو ختم کرنے لئے انگریز حکومت نے اس قانون کا سہارا لیا اور ہزاروں علماء اور مسلمانوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا گیا۔ فتوی پر اس وقت
کے 34؍ جید علمائوں کی دستخط تھی جس میں مولانا محمد قاسم نانوتی بھی شامل تھے جنہوںنے 21 مئی 1866 کو دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ڈالی۔
ہندوستان میں انیسویں بیسویں صدی کے دوران شاہ ولی اللہ دہلوی سے شروع ہوکر شاہ اسماعیل شہید، حضرت سیّد احمد شہید سے ہوتی ہوئی یہی مجاہدانہ اسپرٹ اور
یہی روش اکابرِ دیوبند کے قائد سالاروں کی جماعت مہاجر مکی حضرت حاجی امداد اللہ، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، پیرجی ضامن شہیدکے
سینوں میں پیوست ہوگئی تھی اور پھر رہبرانِ اْمت کے اِن سپہ سالاروں نے علَم جہاد کی یہ امانت اپنے علمی، روحانی اور سیاسی وارث مولانا شیخ الہندمحمودحسن کو
سونپ دی اور پھر شیخ الہند نے اس تحریک آزادی کواپنی زندگی کا حصہ بنالیا اور جس کے لئے وہ مالٹا کی جیل تک گئے۔حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی
کے تلامذہ اور منتسبین نے 1919ء میں حضرت شیخ الہند ؒکے دورِ اسارت میں جب کہ وہ مالٹا میں مقید تھے ،اس جماعت کی داغ بیل ڈالی اورمفتی اعظم مولانا محمد
کفایت اللہ دہلوی اس کے پہلے صدراورسحبان الہندمولانا احمد سعیددہلوی جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔
جمعیۃعلماء ہند کا دوسرا اجلاس1920میں اس کے فکری رہنما حضرت شیخ الہندؒکی صدارت میں دہلی میں منعقد ہوا،جس میں ترکِ موالات کا وہ اہم فیصلہ کیا گیا جس
کے مطابق انگریزوں کے دیئے ہوئے تمام سرکاری خطابات،عہدے،کونسل کی ممبری، فوجی ملازمت ترک کرنا نیز انگلستان سے تجارتی تعلقات ختم کرنا ،سرکاری تعلیم
اور عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کے بائیکاٹ اور سرکاری امداد سے پر ہیزجیسے تاریخی نوعیت کے فیصلے کئے گئے اور اس کے دوسرے سال نومبر 1921میں
ترکِ موالات کا فتویٰ دوبارہ شائع کیا گیا جس میں ولایتی کپڑوں، سرکاری نوکریوںکے بائیکاٹ کا اعلان کرکے برطانوی معاشیات پر گہری چوٹ پہنچائی گئی۔ اسی ترک
موالات کے فتوے کے نتیجہ میں حضرت شیخ الاسلا م مولاناسید حسین احمد مدنی ؒ (صدر دوم جمعیۃ علماء ہند)سمیت آٹھ لوگوںپر تعزیرات ہند کی دفعہ 124A کے تحت
ملک سے غداری اور بغاوت وہ تاریخی مقدمہ چلا جو کراچی کے مقدمہ کے نام سے مشہور ہے۔ مولانا محمد علی ، مولانا شوکت علی ، ڈاکٹر سیف الدین کچلو ، پیر غلام
مجددی سندھی، مولانا نثار احمد کانپوری اور جگت گرو شنکر اچاریہ جی ودیگر پر مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔
اس کے بعد شیخ الہند نے علم جہاد کی یہ امانت اپنے علمی، روحانی اور سیاسی وارث مولانا شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کو سونپ دی اور یہ نصیحت اور
وصیت کی کہ : ’’جب تک فتح کامل نصیب نہ ہوجائے اور ہندوستان آزاد نہ ہوجائے 1857کا علم جہاد سرنگوں نہ ہونے پائے اورجنگ آزادی پورے حوصلے،
ہوشمندی اور جاں نثاری کے ساتھ جاری رہے۔‘‘
چنانچہ مالٹا سے واپسی کے بعد حضرت شیخ الہند کے انقلابی فیصلے (عدم تشدد) کے بعد حضرت مدنیؒکا پورے ملک میں، اسی فیصلہ شدہ اسکیم کے تحت، دورہ شروع
ہوگیا، ایسے ہی ایک کانفرنس میں تقریر ہوئی ، آپ حکومت برطانیہ پر کھل کر برسے اور دشمن کو للکارا، آپ نے اعلان کیا ’’حکومت برطانیہ کی فوج میں شامل ہونا
حرام ہے‘‘ لوگوں کو سمجھایا برطانیہ کی ناپاک پالیسی ہندوستانی فوجوں سے مسلمانوں کو قتل کروانے والی ہے، ان کا گھر مال ودولت لوٹاتی ہے، ان کو بے عزت و
بے آبرو کرواتی ہے، اگر کوئی فوجی اس چیزکو حلال سمجھے گا تو وہ کافر ہوجائے گا، شرعی حیثیت سے کسی قسم کی مدد حکومت برطانیہ کی کرنا حرام ہے، ہر قسم
کا موالات اور تعاون حرام ہے، مسلمانوں پر ترکِ موالات فرض ہے۔ یہ تقریر کیا تھی حکومت کو ایک چیلنج تھا، ایک دھمکی بلکہ حکومت کے خلاف ایک دھماکہ تھا؛ چنانچہ
آپ کے نام وارنٹ جاری ہوگیا، قید ہوئے اور کراچی میں دفعہ 124Aآئی پی سی تحت مقدمہ چلا، خالق دینا ہال کراچی کی خصوصی عدالت میں سماعت ہوئی، انگریز
جج جن کی حکومت کو حضرت نے للکارا تھا، ہر قسم کی سنگین سے سنگین سزا دینے کے موڈ میں۔ پورے ہال میں کھلی بندوقیں تانے ہوئے انگریز فوجی اور سپاہی، ہر
آنکھ انتقام، غصّے اور حقارت سے سرخ اور کٹہرے میں ایک ایسا ملزم جس کی، اْن کی نگاہ میں کوئی وقعت نہ تھی، جو ان کی حکومت کے لیے سخت خطرہ تھا، ایسے
خوفناک پْرہول ماحول میں بدن ہی نہیں روح میں لرزہ طاری ہوجائے، ایک شیردہاڑ رہا تھا۔
پہلے تو مولانا نے قرآن وحدیث کی روشنی میں انگریزوں کی فوج میں ہندوستانیوں کی شرکت کو حرام قرار دیا، آزادی اور اس کے حصول کی ہر قسم کی جدوجہد کو ہر
ہندوستانی کا حق ثابت کیا، بیان تو اِسی انداز پر گھنٹوں چلتا رہا، مجمع تھا کہ خوف وحیرت میں گم سْم سوچ رہا تھا، مولانا کو پھانسی گولی سے کم سزا نہ ملے گی؛ مگر
جہاں ’’موت وحیات صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اس پر ایمان ہی نہیں یقین ہو، جہاں ظالم وجابر حاکم کے منہ پر حق بات کہنی ایک سچے مومن کا فرض
سمجھا جاتا ہو وہ ایسی سزا کو بھی کب خاطر میں لاتا، اس بیان کا آخری جملہ غور سے سننے کے اور دل پر رکھنے کے لائق ہے، جس سے آسمان ہِل گیا، زمین
لرزگئی، سننے والوں کا کلیجہ منہ کو آگیا، یہی وہ تاریخی جملہ تھاکہ جیسے ہی ایک بہادر نڈر حق گو کے ہونٹوں سے نکلا، مولانا محمد علی جوہر آگے بڑھ کر پیروں
پر گرپڑے، آپ نے بیان ختم کرتے ہوئے فرمایا:
’اگر گورنمنٹ مذہبی آزادی چھیننے پر تیار ہے تو مسلمان اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار ہوں گے اور حسین احمد پہلا شخص ہوگا جو اپنی جان قربان کردے گا۔‘‘
بہرحال مقدمے کا فیصلہ ہوا، تمام کوششوں کے باوجود بغاوت ثابت نہ ہوسکی، گویا موت آپ کو چھوکر نکل گئی،ابھی اللہ کو اپنے اس نیک بندے سے اپنی مخلوق کی اور
خدمت لینی تھی، فیصلہ دو سال قید بامشقت پر آکر ختم ہوگیا۔اسی حوالے سے 1922 میں اپنے خلاف غداری کے ایک مقدمہ کے ٹرائل کے دوران مہاتما گاندھی نے
اس قانون پر شدید تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ’’ہندوستانی تعزیرات ہند کی سیاسی دفعات میں دفعہ 124A کسی ایسے جاگیردار جیسا ہے جس کا مقصد شہریوں
کی آزادی کو دبانا ہے۔‘‘
انگریز حکومت کی طرح موجودہ حکومتوں نے بھی اس قانون کا غلط استعمال کرکے ان کے خلاف اٹھنے والی آواز کودبانے کے لئے اس کا استعمال کیا ، چاہے وہ
کانگریس حکومت ہو یا موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت، حکومت کے خلاف بولنے، احتجاج کرنے یا پھر مضامین تحریر کرنے پر اس قانون کا اطلاق کرکے لوگوں
کی آواز بند کرنیکی کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب وقت آگیا ہے اس قانون کو ختم کیا جا ئے اور اظہار رائے کی آزادی کا حقیقی حق ادا کیا
جائے۔ملک کی مختلف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے حالیہ دنوں میں ملک سے بغاوت کے قانون کے غلط اطلاق پر برہمی کا برملا اظہار کیا ہے اور اسی کو آگے
بڑھاتے ہوئے موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا نے سخت تیور دکھاتے ہو ئے حکومت ہند کو مجبور کیا ہے کہ اس پر وہ نظر ثانی کرے ورنہ عدالت اپنا فیصلہ صادر کرے
گی۔
پچھلے دس سالوں میں پورے ملک میں تقریباً 13306لوگوں پر اس قانون کا اطلاق کیا گیا اور انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید کیا گیا۔شہریت ترمیمی قانون کے
خلاف احتجاج کرنے والوں پر بھی اس قانون کا اطلاق کیا گیا ہے تاکہ حکومت کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبایا جائے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انگلینڈ میں یہ قانون قابل
ضمانت ہے اور ہندوستان میں نا قابل ضمانت یعنی کہ اگر اس قانون کے تحت مقدمہ قائم کرلیا گیا تو ملزم کو عدالت سے ضمانت لینا پڑے گی اور یہ عدالت کا اختیار ہے
کہ وہ ضمانت دے یا نہ دے ۔
مذکورہ دلائل کی روشنی میں یہ بات آشکارہ ہوجاتی ہے کہ آزادی سے پہلے یہ قانون آزادی کے متوالوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کیلئے بنایا گیا تھا اور
خاص طور پر جمعیۃ علماء ہند کے ارکان اور اس کے ذمہ داران پر اس کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور ان کو سلاخوں کے پیچھے بھیجا گیا۔پھر ملک آزاد ہوا اورآزاد
حکومت کا قیا م ہوا، لیکن آزادی کے بعد اس کو منسوخ ہوجانا چاہیے تھا لیکن یہ منسوخ نہ ہوا اور اس کا سہارا لیکر آج بھی اس کا بیجا استعمال ہورہا ہے اور حکومت پر
تنقید کرنے والوں پر اس کا بیجا استعمال کرکے ان کی آواز دبانے کی کوشش ہوتی ہے۔

(لیگل ایڈوائزر جمعیۃ علماء ہند)

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here