ہندی سے زیادہ ہے دیگر زبانوں کے بولنے والوں کی آبادی:ایم کے اسٹالن

0

چنئی، (ایجنسیاں) :تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے زبانوں سے متعلق سرکاری پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پر وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندی کو مسلط کرنے کی کوشش ناقابل عمل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ معاشرے کےلئے تقسیم کا باعث بھی ہے۔ اسٹالن نے کہا کہ یہ کوشش غیر ہندی بولنے والوں کو کئی طرح سے نقصان پہنچانے والی ہے۔ یہ نہ صرف تمل ناڈو بلکہ کسی بھی ریاست کےلئے ناقابل قبول ہو گا جو اپنی مادری زبان کا احترام کرتی ہے۔ میں اپیل کرتا ہوں کہ رپورٹ میں مجوزہ مختلف طریقوں سے ہندی کو مسلط کرنے کی کوشش کو آگے نہ بڑھایا جائے۔ اسٹالن نے کہاکہ ہندوستان کے اتحاد کے شاندارقانون کو ہمیشہ اونچا رکھیں۔ ہندی کے علاوہ دیگر زبانیں بولنے والوں کی تعداد ملک میں ہندی بولنے والوں سے زیادہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اس بات کو سراہیں گے کہ ہر زبان اپنی انفرادیت اور لسانی ثقافت کے ساتھ اپنی خاصیت رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ اسٹالن نے کہا کہ سائنسی ترقی اور تکنیکی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام زبانوں کو فروغ دیا جائے۔ تمام زبانیں بولنے والوں کو تعلیم اور روزگار کے معاملے میں یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو 8 ویں شیڈول میں تمل سمیت تمام زبانوں کو شامل کرنے کےلئے یکساںطریقہ اختیار کرنا چاہیے، دراصل حال ہی میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ٹیکنیکل اور غیر تکنیکی اعلیٰ تعلیمی اداروں جیسے کہ آئی آئی ٹی وغیرہ تک دوسری ریاستوں میں بھی ہندی زبان کو میڈیم بنایا جائے۔ادھر حکمراںڈی ایم کے یوتھ ونگ سکریٹری اور وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے بیٹے ادے ندھی اسٹالن نے کہا ہے کہ اگر تمل ناڈو میں ہندی نافذ کی گئی تو پارٹی دہلی میں بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے عوام کے جذبات کو نظر انداز کیا تو پارٹی خاموش تماشائی بن کر نہیں رہے گی۔