اسد مرزا: روس- ایران دفاعی تعلقات: امکانات اوراندیشے

0

اسد مرزا
’’نظریاتی اور بنیادی طور پر دو مخالف طاقتوں ایران اور روس کے درمیان رشتے بظاہر حیران کن لگتے ہیں، لیکن آج کے عالمی دور میں یہ حقیقت بھی سالم ہے کہ وسیع تر تزویراتی فوائد کسی بھی ملک کو اپنے نظریات کے خلاف جانے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ ‘‘
بین الاقوامی اور اندرونِ ملک سیاست اور دیگر مختلف بیرونی اور اندرونی خطرات اور وجوہات بعض اوقات مخالف قوتوں کو ساتھ چلنے پر مجبور کردیتی ہیں ۔ یہ وسیع تر مجبوریاں ممالک کو نظریاتی اختلافات اور موقف کو ترک کرنے پر بھی مجبور کرتی ہیں اور اس کی وجہ عالمی سیاست پر اثر انداز ہونے کے علاوہ جیو پولیٹیکل اور علاقائی سطح پر زیادہ سے زیادہ فوائد کے لیے متحد ہو کر کام کرنا بھی ان کی مجبوری بن جاتا ہے۔اس طرح کے منظر نامے کی تازہ ترین مثال، روس اور یوکرین کی جاری جنگ کے پس منظر میں ایران اور روس کا مل کر کام کرنا اور ابھرتے ہوئے منظر نامے سے نمٹنے کے لیے امریکہ کا محتاط ردِ عمل ، دونوں ہی غیر یقینی لگتا ہے۔ ایک جانب ایک کمیونسٹ حکومت ہے اور دوسری جانب ایک اسلامی مملکت جن کے ایک ساتھ چلنے کے بارے میں سوچنا ماضی میں ناقابل فہم تھا۔ لیکن واقعی معاشی اور سیکورٹی مجبوریوں کے طریقے عجیب ہیں۔
اطلاعات کے مطابق روس ایرانی ساختہ میزائل اور ڈرون بھاری مقدار میں خرید کر یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال کر رہا ہے۔ اس سے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ روس کا کسی اتحادی ملک سے نہیں بلکہ ایک نظریاتی مخالف سے اسلحہ خریدنے کا اصل مقصد کیا ہے اور کیوں یوکرین سے جاری جنگ کے چھ مہینے کے بعد وہ اپنے میزائلوں اور ڈرونز کا ذخیرہ استعمال کرنے سے گریز کررہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران روس کو تقریباً 1000 اضافی ہتھیار بھیجنے کے لیے تیار ہے، جس میں مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بلاسٹک میزائل اور حملہ آور ڈرون شامل ہیں، ایران سے روس کو ہتھیاروں کی آخری کھیپ میں تقریباً 450 ڈرون پہلے ہی بھیجے جاچکے ہیں۔
اس بارے میںسی این این، واشنگٹن پوسٹ، اور رائٹرس کی خبروں کے مطابق گزشتہ ماہ یعنی اکتوبر میں ایران کے پہلے نائب صدر محمد مخبر، ایرانی پاسداران انقلاب کے دو اعلیٰ عہدیداروں اور ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی ماسکو میں موجودگی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بظاہر ان کی موجودگی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان 6اکتوبر کو ایک معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت ایران روس کودفاعی ساز وسامان مہیا کرانے کے لیے راضی ہوا تھا۔
ذرائع کے مطابق، روسیوں نے فتح اور ذوالفقار زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں کا اس سودے میں مطالبہ کیا تھا۔ اس نئی پیش رفت کے جواب میں یوکرائنی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یوکرین کے پاس فی الحال ان میزائلوں کے خلاف کوئی موثر دفاعی نظام موجود نہیں ہے۔ حقیقت میں صرف اینٹی بلاسٹک میزائل (ABMs) ہی فتح اور ذوالفقار میزائلوں کو مار گرا سکتے ہیں۔ تاہم، یوکرین کے پاس کوئی موثر ABM دفاع موجود نہیں ہے اور اس نے ماضی میں امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اسے ABM فراہم کرائے اور تازہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ نے اسے Phoenix Ghost ڈرون مہیا کرانے کا وعدہ کیا ہے۔
یہاں یہ سوال آتا ہے کہ روس کی جانب سے ایران سے یہ ہتھیار خریدنے کی اصل وجہ کیا ہے۔ درحقیقت ایرانی میزائل یوکرین کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرنے کے لیے ایک کم قیمت پر مؤثر ہتھیار کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ اپنے ہدف کو مؤثر طریقے سے تباہ کر دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایران کے پاس ان دیسی ساختہ میزائلوں اور UAVs یا ڈرونز کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ فی الحال شام میں پراکسی جنگ کے علاوہ کسی بڑی جنگ میں ملوث نہیں ہے،اس وجہ سے اس کے پاس میزائلوں اور ڈرونز کا ایک بڑا ذخیرہ موجودہ ہے، جس کا عملی طور پر فائدہ روس کو مل جاتا ہے کہ اسے کم قیمت پر ایک مؤثر ہتھیار دستیاب ہورہا ہے۔مزید برآں، ایرانی میزائلوں کی خریداری سے روس اپنے زیادہ جدید اور مہلک ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں، جیسے اسکندر، کو مستقبل میں نیٹو کے ساتھ کسی ممکنہ تصادم کے لیے محفوظ بھی کرنا چاہتا ہے ۔
ایسا گمان ہوتا ہے کہ دراصل روسی جنگی منصوبے کا مقصد یوکرین کی بجلی کی پیداوار،فوج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرس اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کو زیادہ سے زیادہ حد تک نقصان پہنچانے کے لیے کم قیمت پر حاصل کیے گئے ان میزائلوں کو سردیوں کے آغاز سے پہلے استعمال کرنا ہے۔روس کا مقصد امریکہ اور ناٹو کے جاسوسی اور نگرانی کرنے والے طیاروں سے سگنل وصول کرنے والے اسٹیشنوں کو تباہ کرنا بھی ہے۔ یہ اسٹیشن ایسے راڈاروں سے لیس ہیں جو بیک وقت 600 زمینی اور آسمانی اہداف کو ٹریک کرسکتے ہیں اور اس طرح وہ روسی فوجیوں اور طیاروں کی نقل و حرکت کا مؤثر طریقے سے مشاہدہ کرتے ہیں اور انہیں یوکرائنی فوج تک پہنچاتے ہیں۔درحقیقت، روسی فضائی حملوں سے یوکرین کے بجلی پیدا کرنے کے بنیادی ڈھانچے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ یوکرین کے سرکاری تخمینے کے مطابق اب تک کے روس کے حملوں میں30 سے 40 فیصد تک بجلی پیدا کرنے اس کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔ 10 اکتوبر، 11 اکتوبر اور 31 اکتوبر کو کروز میزائلوں،خود کش ڈرونز، اور فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے بنیادی طور پر یہ نقصان تین دنوں میں روس نے یوکرین کو پہنچایا تھا۔
موجودہ صورت حال ہمیں ایک اور اہم سوال کی طرف لے جاتی ہے کہ روس کی حکمت عملی پر امریکہ، ناٹو اور دیگر مغربی ممالک کا ردعمل کیا ہونا چاہیے؟
امریکہ ایرانی بلاسٹک میزائلوں کی ترسیل کو روکنے کی کوشش کر سکتا ہے ایرانی میزائلوں کے ذخیرہ اور ترسیلی تنصیبات پر پہلے سے حملہ کر کے۔ لیکن اس سے روس -یوکرین جنگ میں امریکہ بظاہر طور پر ایک فریق بن کر سامنے آتا ہے جو کہ امریکی سیاست داں کسی بھی طرح ہونے نہیں دے سکتے۔مزید برآں، امریکہ یوکرین پر نو فلائی زون قائم کرنے کے لیے بھی کوششیں کر سکتا ہے۔لیکن اس کے لیے دوسرے علاقائی ممالک اور ناٹو ممالک کے ساتھ بات چیت لازمی ہے لیکن ساتھ ہی اسے روس- یوکرین تنازعہ میں براہ راست امریکی مداخلت کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے اور موجودہ بائیڈن انتظامیہ اتنا بڑا خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہوسکتی ہے۔
دریں اثنا، گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو 400 ملین ڈالر کی سیکیورٹی امداد کا نیا پیکج فراہم کرے گا جس میں تجدید شدہ T-72 ٹینک، Phoenix Ghost بغیر پائلٹ کے ڈرون اور بکتر بند کشتیاں شامل ہیں۔
موجودہ منظر نامے میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سانپ چھچھوندر کی صورتحال میں پھنسے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور بظاہر ایران سے روس کو میزائلوں اور ڈرونز کی سپلائی روکنے میں بھی ناکام دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ ہمیں بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں ہونے والی تبدیلیوں کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ بنیادی طور پر آپ کو معاشی فائدہ ہونا چاہیے، چاہے آپ کو اس کے لیے اپنی نظریاتی بنیادوں کو بھی مسمار کرنا پڑے۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ، ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمزدبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ رابطہ کے لیے:
www.asadmirza.in