ججوں کی خالی اسامیوں پر تقرری اوّلین ترجیح:جسٹس رمن

0

حیدرآباد، (یو این آئی) :چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) این وی رمن نے جمعہ کو کہا کہ وہ ججوں کی خالی اسامیوں کو پر کرنے اور مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کےلئے عدالتی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر زور دے رہے ہیں۔یہاں دو روزہ تلنگانہ اسٹیٹ جوڈیشل آفیسرس کانفرنس2022کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس رمن نے کہا کہ ’ہم انصاف تک پہنچ سکتے ہیں جب ہمارے پاس کافی تعداد میں عدالتیں اور بنیادی ڈھانچہ موجود ہو۔ تاکہ مدعی کو زیادہ بھٹکنا نہ پڑے‘۔سی جے آئی نے کہا کہ عدالت میں مقدمات کی زیادہ تعداد اور ججوں کی کمی کی وجہ سے کئی برسوں کے انتظار کے بعد مدعی کو انصاف ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ ججوں کی تقرری کرنی چاہیے اور میں ڈسٹرکٹ کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کہیں بھی کوئی اسامی نہیں رکھنا چاہتا۔ سی جے آئی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ملک کے مختلف حصوں اور عدالتوں میں ایک تفصیلی سروے کیا گیا، جس میں پتہ چلا کہ بنیادی ڈھانچے کی کافی کمی ہے ۔ انہوں نے اضلاع کے جوڈیشل افسران سے کہا کہ وہ فریقین کےلئے سازگار ماحول پیدا کریں اور مقدمات کا فیصلہ کرتے وقت انسانی پہلو کو مدنظر رکھیں۔
جسٹس این وی رمن نے کہاکہ ’ہمیں اقلیتوں اور سماج کے کمزور طبقات کے ساتھ ہمدردی رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ہر ایک کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے‘۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر را کا عدلیہ میں عہدوں کی منظوری اور عدلیہ کے افسران کو تمام سہولیات فراہم کرنے میں فوری ردعمل کےلئے شکریہ ادا کیا۔ اس دوران تلنگانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ستیش چندر شرما نے کہا کہ ریاست کی ضلعی عدالتوں میں 8 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں۔ ان مقدمات کی جلد سماعت کےلئے بہتر اور جدید جوڈیشل فریم ورک وقت کی اہم ضرورت ہے ۔