عدالت عظمیٰ کا مستحسن فیصلہ

0

ملک کی سب سے بڑی عدالت سے یہ توقع رہتی ہے کہ وہ کوئی فیصلہ یوں ہی نہیں سنا دے گی، کافی غور و غوض کے بعد، ہمہ جہت پہلوؤں پر غور کر کے، انصاف کے تقاضوں کا خیال کرتے ہوئے ہی سنائے گی۔ اسی لیے اس کے پاس اگر کوئی ایشو جاتا ہے تو اس پر فیصلے کا انتظار رہتا ہے۔ یہ معاملہ جب عدالت عظمیٰ کے پاس گیا تھاکہ کیا پارلیمنٹ اور اسمبلی میں تقریر یا ووٹ کے لیے ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی کو خصوصی اختیار حاصل ہے تو یہ انتظار بڑی شدت سے تھا کہ اس پر وہ کیا فیصلہ سناتی ہے ۔ آج اس کا فیصلہ آگیا۔ عدالت عظمیٰ نے 1998 کے پی وی نرسمہاراؤ سے وابستہ اس فیصلے کو خارج کر دیا جس میں ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی کو ووٹنگ کے لیے رشوت خوری کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلانے سے چھوٹ دی گئی تھی۔
نرسہما راؤ حکومت کو بچانے کے لیے رشوت لے کر ووٹ ڈالنے کے معاملے میں 1998 میں عدالت عظمیٰ کی پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی تھی۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں جے ایم ایم کے ارکان پارلیمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ان ارکان پارلیمان میں منڈل، شیبو سورین، سائمن مرانڈی اور شیلندر مہتو کا نام شامل تھا۔ عدالت عظمیٰ نے سی بی آئی کی تحقیقات کے حوالے سے یہ بات کہی تھی کہ ’جے ایم ایم کے لیڈروں نے تحریک کے خلاف ووٹ دینے کے لیے رشوت لی ہے اور ان کے ووٹ اور کچھ دیگر ارکان پارلیمان کے ووٹوں کی وجہ سے ہی راؤ حکومت بچ پائی۔‘ جسٹس ایس پی بھروچا نے اپنے فیصلے میں یہ بات کہی تھی کہ ’مبینہ رشوت لینے والوں نے جو کیا ہے، ان کے جرم کی سنگینی کے تئیں ہم پوری طرح واقف ہیں۔ اگر یہ سچ ہے، تو اس نے ان لوگوں کے اعتماد کا سودا کیا ہے جن کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔‘ مگر یہ بات بھی کہی تھی کہ ’انہوں نے پیسہ لے کر ایک حکومت کو بچایا ہے مگر اس کے باوجود وہ اس تحفظ کے حقدار ہیں جو آئین انہیں دیتا ہے۔ ہمارے غصے کی وجہ سے ہمیں آئین کی اس طرح کی محدود تشریح نہیں کرنی چاہیے جس سے پارلیمانی شراکت اور بحث کی حفاظت کی ضمانتوں پر اثر پڑے۔‘ یہی فیصلہ اب تک نظیر تھا مگر آج عدالت عظمیٰ نے اس فیصلے کے برعکس فیصلہ سنادیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی جسٹس اے ایس بوپنا، جسٹس ایم ایم سندریش، جسٹس پی ایس نرسمہا، جسٹس جے بی پاردی والا، جسٹس سنجے کمار اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر سنایا۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ ’آج کا فیصلہ سناتے ہوئے ہم نرسمہا راؤ فیصلے سے متفق نہیں ہیں اور اس فیصلے کو خارج کرتے ہیں کہ رشوت لینے کے معاملے میں ارکان پارلیمان-ارکان اسمبلی اپنے خصوصی اختیار کا دعویٰ نہیں کر سکتے ہیں۔‘ ان کے مطابق، ’کوئی تنہا رکن اسمبلی یا رکن پارلیمان اس طرح کے خصوصی اختیار کا استعمال نہیں کر سکتا۔ خصوصی اختیار پورے ایوان کو اجتماعی طور پر دیا جاتا ہے۔ نرسمہا راؤ کے معاملے میں دیا گیا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 105(2)اور194 سے متضاد ہے۔‘ اب یہی فیصلہ مانا جائے گا۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آجانے کے بعد بھی کوئی رکن پارلیمان یا رکن اسمبلی تقریر کرنے یا ووٹ کرنے کے لیے رشوت لیتا ہے تو اس کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ اب یہ بحث کا الگ موضوع ہے کہ اس فیصلے کے آنے سے پہلے اگر کسی رکن پرلیمان پر اس طرح کا الزام ہے، جیسا کہ آل انڈیا ترنمول کانگریس کی لیڈرمہوا موئترا پر درشن ہیرا نندانی کے کہنے پر پارلیمنٹ میں سوال پوچھنے کا الزام ہے، تو اس پر عدالت عظمیٰ کے پرانے فیصلے کے تحت مقدمہ چلے گا یا نئے فیصلے کے تحت؟
اس میں دو رائے نہیںکہ عدالت عظمیٰ کا یہ تاریخی فیصلہ ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اسے ’اہم فیصلہ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ ’عدالت عظمیٰ کا فیصلہ شفاف سیاست کو یقینی بنائے گا اور اس سے سسٹم میں لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔‘ دراصل تمام ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی کو یہ بات ذہن نشیں رکھنی چاہیے کہ عوام نے انہیں منتخب کیا ہے اور وہ عوام کے ہی نمائندے ہیں، اس لیے انہیں ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جو ان کی بدنامی کی وجہ بنے اور سسٹم پر سے عوام کا اعتماد کمزور ہو مگر بدقسمتی سے ایک بار منتخب ہو جانے کے بعد کئی ارکان پارلیمان یا ارکان اسمبلی یہ خیال نہیں کرتے کہ وہ عوام کو جواب دہ ہیں، انہیں ووٹ مانگنے کے لیے عوام کے پاس ہی جانا ہے۔ دراصل وہ عوام کی ترجیحات سے اچھی طرح واقف ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ قتل، عصمت دری اور رشوت خوری کے ملزم کیوں منتخب ہوجاتے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے ان ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی میں بھی احساس ذمہ داری بڑھے گا جو اس سے یا تو عاری تھے یا اسے اہم نہیں سمجھتے تھے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS