یوم جمہوریہ پر تشدد کیلئے امت شاہ ذمہ دار:کانگریس

0

نئی دہلی:کانگریس نے یوم جمہوریہ کے موقع پر قومی دارالحکومت نئی دہلی میں کسان تحریک کے دوران ہوئے تشدد کو خفیہ ایجنسی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیرداخلہ امت شاہ اس کیلئے ذمہ دار ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی کو انھیں فوراً برخاست کرنا چاہیے۔ کانگریس کے میڈیا انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ لاء اینڈ آرڈر اور خفیہ نظام کی ناکامی کیلئے شاہ ذمہ دار ہیں۔ کسان تحریک کی آڑ میں دہلی میں جو منظم تشدد اور انارکی ہوئی ہے،اس سے منسلک خفیہ اطلاع  شاہ کے پاس تھی اور اس کے باجود تشدد روکنے میں وہ ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تمام اطلاعات وزیرداخلہ کو تھیں تو وقت پر تشدد روکنے کیلئے قدم کیوں نہیں اٹھائے گئے۔ انہوں نے اسے وزیر داخلہ کی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ اس ناکامی کے مد نظر مسٹر شاہ کو ایک لمحہ بھی عہدے پر قائم رہنے کا حق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال کے اندر دہلی میں دوسری بار تشدد ہوا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسٹر شاہ اس عہدے کے لائق نہیں ہیں، لہٰذا انھیں برخاست کیا جانا چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ حکومت تشدد کرنے والوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور سوچی سمجھی سازش کے تحت دونوں کی ملی بھگت سے دہلی میں تشدد کو انجام دیا گیا ہے ۔ حکومت تحریک کار کسانوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے انھیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ حکومت فسادیوں اور غیر سماجی عناصر پر کارروائی کرنے کے بجائے کسان مورچہ کے رہنماؤں پر مقدمے درج کر رہی ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزارت داخلہ ہنگامہ اور تشدد کرنے والے تحریک کاروں کے خلاف سخت کارروائی کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
 اس نے دہلی پولیس کے ساتھ آس پاس کی ریاستوں کی پولیس سے بھی کہا ہے کہ وہ تشدد کرنے والوں سے سختی سے نمٹیں۔ دہلی پولیس نے یوم جمہوریہ کو دارالحکومت میں ہنگامہ بپا کرنے والے 100سے زیادہ تحریک کاروں کو حراست میں لے رکھا ہے ۔ اس سلسلے میں 20سے بھی زائد ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کسان رہنماؤں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کروائی جا سکتی ہے۔ پولیس نے فساد پھیلانے، پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے، سرکاری کام میں رکاوٹ پیدا کرنے اور سرکاری اثاثے کو نقصان پہنچانے سمیت مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولیس کے ایک افسر نے کہا ہے کہ یوم جمہوریہ کو دہلی کے مختلف علاقوں میں تحریک کار کسانوں کی جانب سے کیے گئے تشدد میں 86پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
 ذرائع کے مطابق فسادیوں کی شناخت کیلئے سی سی ٹی وی کیمروں کو کھنگالا جا رہا ہے ۔ اس واقعہ کی تفتیش کی ذمہ داری دہلی پولیس کی کرائم برانچ کو سونپے جانے کا امکان ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ تحریک کار کسان پولیس کے ساتھ ہوئے سمجھوتے کو نظر انداز کرکے منگل کے روز ٹریکٹر پر سوار ہو کر دارالحکومت میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے خصوصی طورپر لال قلعہ اور آئی ٹی او علاقے پر شدید ہنگامہ مچایا۔

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS