زرعی قوانین: احتجاج کی جیت یا۔۔۔

0

ایڈووکیٹ ابوبکر سباق سبحانی

ایک سال قبل مرکزی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے تین زرعی قوانین کے تعلق سے جو سیاسی و سماجی کشمکش ایک سال پہلے شروع ہوئی تھی وہ ابھی ختم نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ان تینوں زرعی قوانین کے خلاف الگ الگ جگہوں پر ہونے والے کسانوں اور مزدوروں کے احتجاج ختم ہوئے تھے کہ اچانک19؍نومبر2021کو ملک کے وزیراعظم نے گرونانک جینتی کے موقع پر پورے ملک کو چونکا دیاکیونکہ تینوں قوانین کو اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے، غوروفکر میں کوتاہی کا اقرار کرتے ہوئے، سمجھنے یا سمجھانے میں ناکامی کو قبول کرتے ہوئے عوام سے معافی مانگ کر نیز ان تینوں قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ پورے ملک کوسنایا، مرکزی حکومت اور کسان رہنماؤں کے درمیان گفت و شنید کا ایک طویل سلسلہ ناکام ہوچکا تھا، جب کہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے ان قوانین کے اطلاق پر روک لگارکھی تھی۔
زرعی قوانین کیا ہیں اور ان سے عام کسانوں کی روزمرہ کی یا معاشی زندگی پر کیا اثر پڑسکتا تھا، ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ان قوانین کا ایک سرسری جائزہ لیں۔ فارمرس پروڈیوس اینڈ کامرس(پروموشن اینڈ مینٹیننس)ایکٹ 2020(Farmers’ Produce Trade and Commerce (Promotion and Facilitation) Act, 2020)کوصدر جمہوریہ نے24ستمبر2020کو دستخط کرکے اپنی منظوری دی جس کے بعد گزٹ میں شائع ہوا۔ اس قانون کے خاص نکات میں سب سے پہلا کہ زرعی پیداوار مارکیٹ کمیٹی( Agricultural Produce Market Committee(APMC) کے باہر تجارت کے امکانات کو وسیع کرنا۔ دوسرا پہلو ایک صوبے کے اندر یا کسی دوسرے صوبے میں کسان اپنی زرعی اشیا کو فروخت کرسکے، تیسرا اہم پہلو کہ زرعی اشیا کی خرید و فروخت پر صوبائی حکومت کی طرف سے ٹیکس نہیں ہوگا۔ چوتھا اہم ایشو ہے زرعی اشیا کی خرید و فروخت کے دوران ہونے والے تنازعات کو حل کرنے کے لیے پیش کیا گیا نظام۔
دوسرا قانون فارمرس(امپاورمنٹ اینڈ پروٹیکشن) ایگریمنٹ آن پرائس ایشورینس اینڈ فارم سروسز ایکٹ-2020 (Farmers (Empowerment and Protection) Agreement on Price Assurance and Farm Services Act, 2020) کو بھی صدر جمہوریہ نے 24 ستمبر2020کو دستخط کرکے اپنی منظوری دی جس کے بعد گزٹ میں شائع ہوا۔ اس قانون کو کسانوں کو بااختیار اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا ہے، یعنی کسان کسی سے بھی معاہدہ(contract) کرکے اپنی کھیتی، پیداوار یا مچھلی و جانوروں کو پالنے و پیدا کرنے کا معاہدہ پہلے سے کرسکتا ہے اور اس عمل کے لیے وہ آزاد ہوگا اور یہ قانون اس آزادی کو تحفظ فراہم کرے گا۔ کسانوں کو بہت سے خدشات لاحق ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ خدشات کی ذمہ دار حکومت کا طریق کار یا کسانوں کو بھروسے میں نہ لینے کی غلطی بھی ہے۔ تیسرا قانون لازمی اشیا سے متعلق ترمیمات کا ہے۔ ہمارے ملک میں آزادی کے بعد پارلیمنٹ نے1955میں لازمی اشیا کا قانون Essential Commodities Act-1955پاس کیا تھا جس کے تحت لازمی اور ضروری اشیا سے متعلق ضروری و بنیادی اصول متعین کیے گئے تھے، جس کا بنیادی مقصد لازمی اشیا سے متعلق بازار کی پالیسی کو طے کرنا تھا نیز کالابازاری و جمع خوری پر پابندی نافذ کرنی تھی۔ لازمی اشیا میں خصوصاً اناج، موسمی فصلوں، پھل و سبزیوں اور تیل و تیل سے بنی اشیا و دواؤں جیسی بنیادی چیزوں کو رکھا گیا تھا جن کی ذخیرہ اندوزی ایک متعینہ مقدار تک ہی کی جاسکتی تھی، گودام صرف سرکار کے ہی ہوسکتے تھے یا سرکاری ادارے ہی سرکار کی اجازت سے گودام میں ذخیرہ اندوزی کرسکتے تھے۔
کسانوں کو ان تینوں ہی قوانین پر اعتراض تھا، جس میں سب سے اہم اعتراض یہ تھا کہ تنازعات کی صورت میں معاملہ کا تصفیہ کیسے ہوگا؟نئے قوانین کی روشنی میں اگر کسان اور تاجر کے مابین کوئی تنازع ہوتا ہے تو مقامی سطح پر ایس ڈی ایم کے ذریعے ایک مصالحتی بورڈ تشکیل دیا جائے گا، جس بورڈ میں ایس ڈی ایم یا اس کا نامزد کوئی افسر اور فریقین کے ایک ایک یا دو دو نمائندے ہوں گے۔ ایک ماہ کے اندر اگر مصالحت ہوجاتی ہے تو مصالحتی معاہدے پر دونوں کے دستخط ہوں گے اور دستخط کے بعد کسی طرح کی کوئی اپیل نہیں ہوگی۔ تاہم اگر مصالحت نہیں ہوتی ہے تو ایس ڈی ایم ایک ماہ کے اندر دونوں فریق کی سنوائی کرکے فیصلہ سنائے گا۔ اگر فریقین یا کوئی فریق ایس ڈی ایم کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہوتے ہیں تو وہ صرف ایک بار ڈی ایم کے سامنے اپیل کرسکتے ہیں جو اپیل ڈی ایم خود یا اپنے ماتحت کسی اے ڈی ایم کو سنوائی کے لیے بھیج سکتا ہے۔ موجودہ عدالتی نظام کوضلعی عدالت یا ہائی کورٹ کو سنوائی کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا تھا۔ ہمارے ملک کی عدلیہ آج بھی انتظامیہ کے مقابلے میں زیادہ آزاد اور خودمختار تصور کی جاتی ہے کیونکہ انتظامیہ براہ راست صوبائی حکومت کے ماتحت ہوتی ہے اور ڈی ایم یا ایس ڈی ایم صوبائی حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں۔
ان قوانین پر بحث کا ایک اہم موضوع یہ بھی رہا کہ زرعی پیداوار مارکیٹ کمیٹی(APMC) میں خریدوفروخت فصل کی پیداوارتیار ہونے کے بعد ہوتی ہے تاہم کسان اس قانون کے مطابق کسی اسپانسر سے فارمنگ کا معاہدہ کرکے اپنی و اسپانسر کی پسند، مواقع اور مانگ کے مطابق کوئی بھی فصل یا اناج پیدا کرسکے گا اور اس پیداواری عمل یا مراحل میں اسپانسر معاہدے میں موجود شرائط کی بنیاد پر وسائل کو فراہم کرکے کسان کی مدد کرے گا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ کاشتکاری کے معاہدے میں دو اہم جز ہوں گے، پہلا کسان اور اسپانسر کے درمیان معاہدے میں قیمتوں کا تعین صحیح طریقے سے ہو نیز پیداوار کے تمام اخراجات بیج کھاد اور ٹرانسپورٹ ودیگر سروسز کے اخراجات کا صحیح طور سے تعین کیا جائے گا، اسپانسر فصل تیار ہونے کے بعد فصل لینے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ تیسرا اور سب سے اہم پہلو کہ معاہدہ میں صاف طور پر لکھا جائے گا کہ کسان کیا فصل تیار کرے گا نیز کون کون سی ٹیکنک و سروسز کا استعمال کرے گا، اسپانسر کب کب کن چیزوں کو چیک کرے گا اور کب کب کتنے اخراجات ادا کرے گا۔ معاہدے کی میعاد یا مدت پہلے سیزن سے لے کر اگلے پانچ سال تک ہوگی، مرکزی حکومت معاہدے کا فارمیٹ یا گائڈ لائن جاری کرسکتی ہے۔ کسانوں یا زراعت کے ماہرین کو لگتا ہے کہ مرکزی حکومت کو فارمیٹ و گائیڈ لائن ضرور جاری کرنی چاہیے نیز اس کی خلاف ورزی نہ ہو یہ بھی یقینی بنایاجائے کیونکہ اسپانسر جو کہ عموماً بڑے تاجر گھرانے یا کمپنیاں ہوں گی جن کے پاس وکیلوں اور ماہرین کی ایک بڑی ٹیم ہوگی تاہم کسان ان کاغذی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا متحمل نہیں ہوگا۔
زمانہ قدیم سے یہ روایت یا نظام دیکھا گیا ہے کہ بڑے تاجر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کی غرض سے بڑے پیمانے پر متعدد اشیا کی گوداموں میں ذخیرہ اندوزی کر لیتے تھے نیز جب بازار میں کسی بھی چیز کی، خصوصاً روزمرہ کی چیزوں میں سے کسی بنیادی چیز مثلاً چاول، گیہوں، تیل، پیاز، ٹماٹر وغیرہ کو بازار میں مانگ سے کم مقدار میں سپلائی کرتے اور جب سپلائی کی کمی ہوتی ہے تو بازار میں قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، یوں بڑھے ہوئے داموں میں اشیا کو بازار میں لایا جاتا ہے جس کو ہم عام زبان میں جمع خوری یا کالابازاری کے نام سے جانتے ہیں۔
کسان مزدور احتجاجات کا ایک اہم سوال یہ بھی تھا کہ چونکہ کالا بازاری کے خلاف روک تھام اور خریداروں تک سامان بآسانی پہنچانے کے لیے نیز مارکیٹ تک سپلائی پر نظر رکھنے کے لیے حکومتیں قوانین کا سختی سے نفاذ کرتی آئی ہیں تاہم لازمی اشیا کے قانون میں ترمیم کے بعد عوام خصوصاً کسانوں میں بے چینی کا احساس بڑھا ہے، کسانوں کو خدشہ ہے کہ بڑے تاجر گھرانے ان سے کم قیمتوں پر سامان آسانی سے خرید کر ان سے سستے داموں پر خریدے گئے اناج کی ذخیرہ اندوزی کریں گے اور جب بازار کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا تو یہ تاجر بڑھی ہوئی قیمتوں پر من مانے نفع کے ساتھ اناج و دیگر لازمی اشیا کو سپلائی کرسکیں گے۔
تینوں زرعی قوانین کی واپسی کے وزیراعظم کے اعلان کے بعد جہاں پورے ملک میں ایک خوشی کی لہر ہے، وہیں ملک کے ایک بڑے طبقے کے اندر بے چینی بھی ہے کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کے سبب شہریت ترمیم قانون سی اے اے اور این آرسی کو لے کر ہونے والے احتجاجات پر نہ تو مرکزی حکومت نے ایک بار بھی ملاقات کا موقع دیا، نہ ہی سپریم کورٹ نے سنوائی کے لیے وقت نکالا اور نہ ہی شہریت قوانین کے اطلاق پر وقتی پابندی لگائی، ستم بالائے ستم شاہین باغ و دیگر احتجاجات کو صرف ختم کرانے کی ہی کوششیں ہوئیں، ملک کے وزیراعظم کو کیا شہریت قوانین کو لے کر ہونے والی بے چینی کا احساس نہیں ہوسکتا تھا؟؟
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here