عید الفطر سے قبل کابل میں دوسرابم دھماکہ

0

ٹاور تباہ ہونے سے کئی علاقوں میں بجلی منقطع،عینی شاہدین کا دعویٰ، 4ہلاک ، 3زخمی
کابل( ایجنسیاں ) : افغان دارالحکومت کابل میں ایک مسافروین میں بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔شہرمیں گزشتہ دوروز میں یہ دوسرا دھماکہ ہواہے جس سے عیدالفطر کے موقع پر سکیورٹی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
کابل کے سکیورٹی کمانڈر کے ترجمان خالد زدران نے بتایا کہ بم دھماکے میں ایک خاتون ہلاک اور3 زخمی ہو گئی ہیں۔ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ’’میں نے لوگوں کوخون آلود اور جلے ہوئے چہروں کے ساتھ منی بس سے باہر آتے دیکھا۔میں نے دیکھا کہ4 لاشیں نکالی گئیں اور مرنے والوں میں ایک عورت بھی شامل ہے‘‘۔کسی گروپ نے بھی اس دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن اس سے پہلے افغانستان میں ہونے والے زیادہ تر بم دھماکوں کی ذمے داری داعش کی افغان شاخ نے قبول کی ہے۔ایک روز قبل کابل میں ایک مسجد میں نمازجمعہ کے بعد دھماکے میں 50 سے زیادہ عبادت گزار مارے گئے تھے۔
20 سال سے زیادہ عرصے کے بعد افغانستان میں طالبان کی دوسری حکومت میں اتوار کے روزعیدالفطر منانے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس کی تیاری کے دوران میں افغانستان بھر میں امن وامان کی مخدوش صورت حال پرتشویش کا اظہار جارہا ہے۔طالبان حکام نے ہفتے کے شام شوال المکرم کا چاند نظرآنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ملک میں اتوار کو عیدالفطر منائی جائے گی۔اس کے بعد رات دیر گئے کابل کی سڑکوں پر جشن کا سماں تھا اور لوگ ہوائی فائرنگ کررہے تھے۔حکام نے عید سے قبل سیکورٹی سے متعلق لوگوں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے یقین دہانی کرانے کی کوشش کی ہے۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالنافع ٹاکور نے کہا کہ ہم عید کے موقع پرسیکورٹی کو یقینی بنائیں گے۔افغانستان کے گیارہ صوبوں میں لاکھوں افراد کوبرقی رو میں تعطل کاسامنا کرنا پڑا ہے۔دارالحکومت کابل کے مغرب میں بجلی کی ترسیل کے دو ٹاوردھماکے سے اڑا دیے گئے تھے جس سے لاکھوں افغانوں کوبلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
بجلی کی یہ بندش عیدالفطر سے صرف ایک روز قبل ہوئی ہے۔صوبہ پروان میں جمعہ کی رات دو ٹاوروں پر بم باری کی گئی جس سے دارالحکومت اور پڑوسی صوبوں کی بجلی منقطع ہوگئی۔سرکاری بجلی کمپنی ڈی اے بی ایس کے ترجمان حکمت اللہ میوندی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ بجلی کے دوٹاوروں کو بموں سے اڑایا گیا ہے۔ان کی مرمت کے لیے فرم کی پانچ ٹیمیں مامور کردی گئی ہیں۔
میوندی نے بتایا کہ دونوں ٹاوروں کے کھمبے پہاڑوں کی چوٹیوں پر نصب ہیں اور ہماری ٹیمیں انھیں ٹھیک کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ٹاورز کی مکمل بحالی میں دو ہفتے لگیں گے مگر ہفتہ کی رات تک بجلی کی جزوی بحالی کے لیے عارضی مرمت کردی جائے گی۔پولیس نے بتایا کہ دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزام میں 2 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔قریباً 50 لاکھ نفوس پرمشتمل شہرکابل میں بہت سی رہائشی عمارتوں اور کاروباری اداروں نے عید کی تقریبات سے قبل بجلی کی ترسیل یقینی بنانے کے لیے نجی جنریٹرحاصل کیے ہیں۔واضح رہے کہ افغانستان اپنے شمالی ہمسایہ ممالک ازبکستان اور تاجکستان سے درآمد کی جانے والی بجلی پرزیادہ ترانحصار کرتا ہے جس کی وجہ سے بین الممالک بجلی کی لائنیں باغی جنگجوؤں کے تخریبی حملوں کا اہم ہدف بن گئی ہیں۔افغانستان میں امریکہ کی حمایت یافتہ سابق حکومت کے ساتھ طالبان کی 20 سالہ جنگ کے دوران میں کابل میں حکام اکثر انتہاپسندوں پر ٹرانسمیشن ٹاورز کو نشانہ بنانے کے الزامات لگاتے رہتے تھے۔تاہم گزشتہ سال اگست میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان کو اب خود انتہاپسند گروہوں کے حملوں کا سامنا ہے۔
سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران میں اقلیتی شیعہ اور صوفی برادریوں پرمتعدد مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ان میں درجنوں افغان شہری ہلاک وزخمی ہوئے ہیں۔