’بویا بیج ببول کا، آم کہاں سے کھائے‘

0

صبیح احمد

فوج میں بھرتی کے لیے سرکار کے ذریعہ اعلان کردہ ’اگنی پتھ اسکیم‘ کے خلاف پورے ملک کے نوجوان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب تک اربوں کھربوں روپے کی سرکاری املاک تباہ ہو چکی ہیں۔ انڈین ریلوے خاص طور پر نشانے پر ہے۔ اب تو دیگر سرکاری املاک کو بھی ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ کئی پولیس تھانوں اور ان کی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا جا چکا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا اور ملک کا اہم ترین کمیونیکیشن نیٹ ورک ریلوے کا پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ مسافر جگہ جگہ پھنسے ہوئے ہیں۔ شمالی ہند کے ساتھ ساتھ جنوبی ہند کی ریاستوں میں بھی یہ ’اگنی‘ تیزی سے پھیلنے لگی ہے۔ ویسے تو پورا ملک اس آگ کی تپش محسوس کر رہا ہے لیکن فی الوقت بہار اس احتجاج کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آخر یہ صورتحال پیدا کیسے ہوئی؟ ملک کی توانائی اور بیش قیمتی سرمایہ نوجوان طبقہ اچانک اتنا متشدد کیوں ہوگیا؟ جس نوکری کا برسوں سے انتظار تھا، جب اس کا اعلان کیا گیا تو اس کا خیر مقدم کرنے کے بجائے نوجوان اس کے خلاف سڑکوں پر کیوں اتر آئے؟
بی جے پی کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے اقتدار میں آنے سے قبل دیگر خوش کن وعدوں کے علاوہ نوجوانوں کو ہر سال 2کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا۔ گزشتہ 8 برس تک ملک کا نوجوان طبقہ اس وعدہ کے وفا ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ خاص طور پر ملک کی خدمت کرنے کے متمنی نوجوانوں کو بڑی بے صبری سے انتظار تھا کہ پچھلے 2 برس کے دوران لاک ڈائون کے سبب تقرریوں پر عائد پابندیوں کے ختم ہونے کے بعد اب فوج میں ان کی تقرری کی راہیں ہموار ہو جائیں گی۔ اور بالآخر وہ انتظار کی گھڑیاں ختم بھی ہو ئیں لیکن طویل انتظار کے بعد فوج میں نوجوانوں کی بھرتی کے نام پر حکومت نے جس ’اگنی پتھ‘ اسکیم کا اعلان کیا، اس سے ان کی تمام امیدوں اور امنگوں پر جیسے پانی پھر گیا۔ فوج میں افسر لیول سے کم کی صرف 4 سال کی نوکری اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کی کوئی سہولت نہیں۔ اس کے بعد پوری زندگی۔ مطلب بطور ’اگنی ویر‘ سبکدوشی کے بعد مستقبل کی کوئی گارنٹی نہیں۔ دراصل اس اسکیم سے ملک کے نوجوان خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ اب مودی حکومت کی نیت اور ساکھ شک کے دائرے میں آ گئی ہے۔ نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ جن وعدوں کے دم پر مودی حکومت اقتدار میں آئی تھی، گزشتہ 8 برس میں ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا گیا۔ اب جب کہ دوسری مدت کا ر کا صرف ایک سال باقی رہ گیا ہے اور 2024 میں پھر عام انتخابات ہونے والے ہیں تو فوج میں بھرتی کے نام پر ’اگنی پتھ اسکیم‘ کی شکل میں نوکری کا جھنجھنا تھمایا جا رہا ہے۔ وہ بھی صرف 4 سال کے لیے! نوجوانوں کو اب مایوسی کے سوائے کچھ نظر نہیں آ رہا ہے۔ اور وہ کسی نہ کسی صورت میں اپنی بھڑاس نکالنے کو مجبور ہو رہے ہیں۔
نوجوانوں کے اس ردعمل اور احتجاج کو بے جا قرار دینا کسی بھی زاویہ سے صحیح نہیں لگتا، بلکہ انہیں غلط ٹھہرانا ان کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ احتجاج ان کا بنیادی حق ہے۔ اپنی بات اور ناراضگی کو سرکار تک پہنچانے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ یہ ان کی زندگی اور مستقبل کا سوال ہے۔ حکومت کو جگانے اور حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا بہتر طریقہ احتجاج ہے لیکن اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ احتجاج کا طریقہ کار کیا ہو۔ تشدد بہرحال مہذب سماج کا طریق کار کبھی نہیں ہو سکتا اور یہ کسی بھی مسئلہ کا حل بھی نہیں ہے، خاص طور پر مہاتما گاندھی کی سرزمین پر! عوامی املاک (پبلک پراپرٹی) کا نقصان بہر صورت ہمارا ہی نقصان ہے۔ یہ ہماری پراپرٹی ہے۔ اس میں ہمارے ہی ٹیکس کا پیسہ لگا ہوا ہے۔ یہ ہماری صدیوں کی کمائی ہے اور اسے ہم پل بھر میں اس طرح برباد نہیں کر سکتے۔ احتجاج کا بہترین طریقہ ہمیں کہیں اور جا کر نہیں تلاش کرنا ہوگا۔ عدم تشدد اور ’ستیہ گرہ‘ سے بہتر اور کوئی مثالی طریقہ نہیں ہو سکتا جسے ہمیں باپو نے دیا ہے اور اس طریقہ احتجاج سے دنیا کی وہ بڑی طاقتیںزیر ہوئی ہیں جن کے راج میں سورج کبھی غروب ہی نہیں ہوتا تھا۔ اقتدار پر قابض وقتی حکمرانوں کی کیا حیثیت؟ زیادہ دن نہیں گزرے ہیں۔ ہمارے ملک کے کسانوں نے ابھی کچھ دنوں قبل ہی یہ ثابت کر دیا ہے کہ مہاتما گاندھی کے فلسفہ عدم تشدد اور ’ستیہ گرہ‘ کی افادیت کبھی ختم نہیں ہونے والی ہے۔ کسانوں نے اپنے مطالبات کی حمایت میں ایک سال سے زائد عرصہ تک جد وجہد کی۔ اس دوران انہوں نے جاڑا، گرمی اور برسات تینوں موسم کی سختیاں جھیلیں۔ تمام طرح کی صعوبتوں اور حکومت کی ہر قسم کی لعن طعن کو برداشت کیا۔ یہاں تک کہ انہیں دہشت گرد اور وطن کے غدار بھی کہا گیا ۔ حد تو یہ ہے کہ کسانوں کو تشدد پر اکسانے کے لیے طرح طرح کے حربے بھی استعمال کیے گئے لیکن انہوں نے صبر و تحمل اور پرامن احتجاج کے آزمودہ طریقہ کو نہیں چھوڑا۔ بالآخر حکومت کو جھکنا پڑا اور ان کے مطالبات کو تسلیم کر کے معافی بھی مانگنی پڑی۔ آج جو جوان تشددپر اتر آئے ہیں، وہ بھی انہی کسانوں اور مزدوروں کی اولادیں ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کا خون گرم ہے اور ان کے پاس وہ تجربہ اور قوت برداشت نہیں ہے جو کسانوں کے پاس تھی لیکن نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی تحریک میں کامیابی اتنی آسانی سے نہیں ملتی، جلد بازی اور عجلت سے موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ کسی بھی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے صبر و تحمل اور پر امن طریقے سے جہد مسلسل اہم شرائط ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ملک میں کوئی تحریک اور ا حتجاجی مظاہرہ ہوا ہو۔ اس سے پہلے بھی بڑی بڑی تحریکیں ہوئی ہیں اور خصوصاً نوجوان پہلے بھی سڑکوں پر اترتے رہے ہیں لیکن آج اپنی ہی حکومت کے فیصلے کے خلاف ناراضگی ظاہر کرنے کیلئے جس طرح عوامی املاک کو گھانس پھوس کی طرح آگ کی نذر کیا جا رہا ہے، اس کی مثال شاید ہی ملے۔ اس کی نوبت کیوں آئی؟ جب آپ دھان بوئیںگے تو گیہوں کہاں سے اگے گی یا گیہوں بوئیں گے تو مکئی کیسے اگے گا۔ اگر آپ ببول کا بیج بوئیں گے تو آم کہاں سے کھائیں گے۔ یعنی کھیت میں جو بیج ڈالیں گے، فصل تو اسی کی ہی نہ کاٹیں گے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ بیج آلو کا ڈالیں اور پیداوار پیاز کی ہو؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر یہ کیسے امید کی جا سکتی ہے کہ برسوں سے نفرت کا بیج بویا جائے اور تشدد سے پاک اور محبت وامن چین کا ماحول تیار ہو۔ اقتدار کی ہوس اور فرقہ واریت کی ذہنیت نے ہمارے سیاستدانوں کو اس سطح پر لا کھڑا کیا ہے کہ انہیں اس بات کی بھی تمیز نہیں رہ گئی ہے کہ اگر آگ لگے گی تو کسی اور کا نقصان نہیں ہوگا، اپنا ہی نقصان ہوگا۔ آج جو یہ آگ لگی ہے اور اپنا وطن عزیز جس طرح جھلس رہا ہے، یہ صرف نوجوانوں کی ناراضگی کا ہی مظہر ہے یا نوخیز ذہنوں میں جو نفرت کا زہر برسوں سے بھرا جا رہا ہے، اس نے بھی اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے؟ اقتدار اور کرسی تو آتی جاتی رہتی ہے، یہ نہ تو کسی کا غلام رہی ہے اور نہ کبھی رہے گی۔ لیکن ملک میں تباہی کا جو سامان تیار کیا جا رہا ہے، اس کھیل کو بند اب کر دینے میں ہی سب کی بھلائی ہے۔ آج جو تباہی مچ رہی ہے، اس کی تلافی دہائیوں میں بھی مشکل لگ رہی ہے۔ اس سے ہر حال میں نقصان ہندوستان کا ہی ہے!
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS