عبدالسلام عاصم: انتخابی نتائج کو سیاسی نفع و نقصان تک محدود نہ رہنے دیں

0
عبدالسلام عاصم: انتخابی نتائج کو سیاسی نفع و نقصان تک محدود نہ رہنے دیں

عبدالسلام عاصم

محتاط جذباتی اور کاروباری ہر قسم کے سیاسی تجزیہ نگار گجرات اور ہماچل پردیش کے اسمبلی انتخابات کے ممکنہ نتائج کو مربوط سے مربوط تر تحریر میں سامنے لانے میں کوشاں ہیں۔ اِن میں سے کس کی چاندی ہوگی یہ تو وقت بتائے گا۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ حسبِ حکمت پیش آنے والے لوگ ممکنہ نتائج کے مرتب ہونے والے اثرات کا اندازہ لگانے میں شاذ ہی ناکام ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے مختلف اقوام کی تاریخ کے الگ الگ سیاسی ابواب کے مطالعے سے ماخوذ اِس نتیجے کو مان کر ہی چلا جائے کہ خواص کی مثبت یا منفی ذہانت کو جب عام تائید حاصل ہوجاتی ہے تو ترقی اور تنزلی دونوں کا سفر کم سے کم نصف صدی کا احاطہ کرتا ہے۔
بین مذاہب احترام کا ماحول ہر عہد میں بعض شدت پسندوں کی وجہ سے متاثر ہوا ہے جس میں ایک دوسرے کے مذہب کی تبلیغ و تشہیر کی ’’بالواسطہ ‘‘ حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ایسی کوشش جب کبھی ’’راست شکل‘‘ اختیار کرتی ہے تو محاذ آرائی تک نوبت پہنچتی ہے اور نتائج کو حق کی فتح اور باطل کی شکست کے طور پر پیش کر کے کارواں آگے بڑھا دیا جاتا ہے۔ برصغیر کو ایسے ہی دیرینہ سلسلے کے نئے ماحول کا سامنا ہے جس میں مذہبی رواداری کی سیکولر اقدار کے تحفظ میں دہائیوں کی ناکامی سے پیدا شدہ حالات میں موجودہ حکومت سب کے ساتھ بلاتفریق ملک کی اکثریت کے دین کے تقاضوں کے مطابق پیش آرہی ہے۔ ہمسایہ پاکستان روز ازل سے اس اصول پر گامزن رہا ہے۔
مہنگائی، بے روزگاری، غریبی، جہل، ادعائیت اوران سب کی آمیزش سے پیدا ہونے والے بحران کیلئے اگر حکومتیں ذمہ دار ہوتی ہیں تو اِس بحران کیلئے کل جہاں کچھ اور لوگ ذمہ دار تھے، وہیں آج وہ لوگ ذمہ دار ہیں جو بر سراقتدار ہیں۔ گویا بنیادی مسائل کے حل کے نام پر بس حکومتیں بدلی گئیں، حکمراں نہیں۔ اس حوالے سے سیاسی منظر نامے کو اخباری کینوس پر لا کر دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ موجودہ حکمراں اُنہی مسائل کو بھُنا رہے ہیں جن کیلئے خام مال کی تیاری اور فراہمی کے راست اور بالواسطہ ذمہ دار وہ لوگ تھے جن کی وجہ سے کل یہ ملک خارجی طور پر ٹوٹا تھا اور آج داخلی طور پر اس قدر منتشر ہے کہ بھارت جوڑو یاترا کو یقینی طور پر ناگزیر سمجھا جا نے لگا ہے۔ اس یاترا میں بھی وہی باتیں دہرائی جا رہی ہیں جو تقسیم ہند سے قبل بہ انداز دیگر کی جاتی تھیں اور لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی تھی کہ ہم بائی ڈیفالٹ ایک دوسرے سے مختلف ہیں، بحیثیت قوم نہیں۔ اعمال سے متصادم اِس نسخے کو نہ کارگر ہونا تھا اور نہ ہوا۔ نتیجے میں برصغیر کی نمائندگی کرنے والی قوم کا شیرازہ ایک بار نہیں 25 سال کے وقفے کے ساتھ دو مرتبہ بکھرا۔
پہلی تقسیم نے ہندوستان کو دوقومی نظریے سے نجات کے نسخے کے طور پر ’’کثرت میں وحدت‘‘ کا سیکولر مرکب تیار کرنے کی وقتی توفیق ضرور عطا کی لیکن پاکستان میں دو قومی سوچ جب مذہب کے ساتھ زبان سے بھی آلودہ ہوگئی تووہاں نجات کی کوئی سوچ سرے سے پنپ ہی نہیں پائی۔ البتہ بنگلہ دیش بن جانے کے بعد باقیماندہ مملکت برطانیہ داد نے ہندوستان کو نظر بد کا شکار بنانے کی سازش کو اپنی خارجہ پالیسی کا سرگرم حصہ بنا دیا۔ ہمارے حکمرانوں سے سیاسی غلطی یہ ہوئی کہ اُنہوں نے اِس سازش کو صرف کشمیر رُخی سرحدی شرارت پر محمول کرکے درونِ ملک اِس کے مرتب ہونے والے اثرات کا نوٹس لینا ضروری نہیں سمجھا۔ اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے اکثریت اور اقلیت کی ابتدائی زبانی گردان عملاً ووٹ بینک کی سیاست میں تبدیل ہو گئی۔ اِس میں بین فرقہ اشتراک کے کاروبار کا جو دخل تھا اُس میں محدود نفع اور نقصان کو قومی سیاست میں کب محوری حیثیت حاصل ہوگئی، اس کا اُن لوگوں کو ادراک ہی نہیں ہوسکا جنہیں اقتدار کے نشے میں جھومنے اور سیکولرازم کے نعرے لگانے سے فرصت نہیں تھی۔ زمانے کی تیز رفتاری سے ہم آہنگ دہائیوں کے سفر میں فکر و عمل کے اِس طرز کا کیا انجام ہوا، اِسے تفصیل سے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
زائد از نصف دہائیوں پر محیط یہ منظر نامہ اتنا دھُندلا بھی نہیں کہ معمولی سوجھ بوجھ والا اسے دیکھ کر خرابیوں کو سمجھ نہ پائے،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکومتی ذمہ داران اور اُن کے مشیران معمولی سمجھ بوجھ والے نہیں، خاطر خواہ طور پر سمجھدار ہوتے ہیں۔ وہ سب کچھ جانتے ہیں اور جب سب کچھ جاننے والا ہی اپنے محدود مفادات کے چکر میں غلطی کرنے لگتا ہے تو اس کے نتائج دور تک مرتب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ہندوستان کے موجودہ حکومتی ذمہ داران ملک دشمن ہرگز نہیں ہیں، لیکن اُن کی وطن دوستی کی شدت کا یہ عالم ہے کہ اُنہیں یہ سوچنے کی توفیق ہی نہیں ہو رہی ہے کہ وہ جس راستے پر سرپٹ بھاگ رہے ہیں، اُس پر اُن کا مجموعی رویہ تکثیر یت پسندی سے ہٹ کر سماجی طور پر مہلک اکثریت پسندی کی طرف مڑ گیا ہے۔
تو کیا بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ ایک بار پھر عوام کے سامنے ان کے بنیادی مسائل سامنے لا کر ملک کو اُس داخلی انتشار سے بچایا جا سکتا ہے جس کے خارجی مظاہرے نے برصغیر کے ایک قابل لحاظ حصے کو بری طرح لہو لہان کر دیا تھا۔ مہنگائی، بے روزگاری، غریبی، جہل اور ادعائیت کے بنیادی مسائل اب تو کل سے زیادہ شدید ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بین فرقہ نفرت کی سوچ نے اُن تمام مسائل کو اس قدر پس پشت ڈال دیا ہے کہ میڈیا تک کی اُس پر دو ٹوک نظر نہیں پڑ رہی ہے۔ ایسا نہیں کہ قومی اور سوشل میڈیا میں بھارت جوڑو یاترا کی خبروں کے مندرجات سامنے نہیں لائے جارہے ہیں۔ ہر ذکر موجود ہے لیکن فکر تک رسائی سے بری طرح محروم۔
حب الوطنی انسانی جذبات کا لازمی حصہ ہے لیکن اسے ماضی کی منفیات سے مستقل جوڑ کر رکھنے سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں سوریہ نمسکار کے روایتی کلچر سے یہ تحریک بھی لینی چاہیے کہ سورج روز نکلتا ہے لیکن وہ کل کے بادلوں کی شکایت میں وقت ضائع کرنے کے بجائے صرف حال میں اپنا سفر طے کرتا ہے۔ اُس حال میں! جو ہر مستقبل کی بنیاد ہے۔ اسی طرح ہمیں بھی اپنی کسی ماضی گرفتہ سوچ سے حال کو متاثر کر کے مستقبل کی بنیاد کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے۔ یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ تمام تر اندیشوں کے باوجود ہمارا ملک بدستور ایک جمہوری نظام کا حصہ ہے۔
جمہوری نظام اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود اپنے وجود کو کوئی ایسا بے نقص تحفظ فراہم نہیں کرتا کہ اس کے تقاضوں کی دھجیاں اُڑائی جاتی رہیں، پھر بھی اُسے کوئی آنچ نہ آئے۔ جمہوری نظام معاشرتی نگہداری اور توازن کے ذریعہ چلتا ہے۔ انفرادی خامیوں اور غلطیوں کو سرزنش کی دواؤں سے ایک حد تک درست تو کر دیا جاتا ہے لیکن اس نظم میں جب کسی غلط رجحان کو ادارہ جاتی منظوری ملنے لگتی ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے فتنہ انگیزی کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ قومی سلامتی کو خطرے میں دکھا کر اُس کا بھی سیاسی استحصال شروع کر دیا جاتا ہے۔
اس پس منظرمیں موجودہ منظر نامہ ہر طرف سے رد عمل کی سیاست سے عبارت ہو کر رہ گیا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرنے کے اُس نسخے پر کیسے عمل کیا جائے جس میں کہا جاتا ہے ظالم کا ہاتھ پکڑ لو اور مظلوم کے لیے ڈھال بن جاؤ۔ پہلے ظالم اور مظلوم دونوں اوریجنل ہوا کرتے تھے۔ اب نہیں رہے۔ دوم یہ کہ ایسے عناصر پہلے خال خال پائے جاتے تھے، اب سماج میں ان کی بھی خاصی بھر مار ہے۔ ہندو اپنی صدیوں پرانی تہذیب کو عدم تشدد کا علمبردار بتاتے نہیں تھکتے اور مسلمان یہ کہہ کر اپنا دامن جھاڑ لیتا ہے کہ ’’مذہبِ امن‘‘ اسلام دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔
حالات کے موجودہ موڑ تک ہمیں پہنچانے میں ایک سے زیادہ حلقوں نے علانیہ اور غیر معلنہ طور پر ہی نہیں، جانے انجانے میں بھی اشتراک عمل سے کام لیا ہے۔ ضرورت یہ نہیں سب سے اِس سچ کو منوایا جائے۔ اس سے بات اور بگڑے گی۔ البتہ خود احتسابی سے بہت حد تک نقصان کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔اس محاذ پر بہت احتیاط سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر با شعور حلقوں کو جو ہر تہذیبی حلقے میں بہ کثرت پائے جاتے ہیں، سرگرم طور پر سامنے آنا چاہیے۔ اُنہیں جذباتی تحریروں کی دھار کو انتہائی حکمت سے کند کرنا چاہیے۔ اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ردِّعمل کی سیاست کرنے والوں کے ہتھے چڑھنے والوں کی مرحلہ واراز خود اصلاح ہو گی۔ اس کوشش کا دائرہ جتنا بڑھے گا، مذاہب کے بے جا استحصال میں اُتنی ہی کمی آتی جائے گی۔ پوجا، وسرجن،محرم کے جلوسوں اور یاتراؤں کے علاوہ سڑکوں پر نماز اور پوجا پنڈال بنانے کی حوصلہ شکنی متعلقین کے اپنے اپنے خیموں سے ہی شروع ہوگی۔ لوگ دوسروں کی خوشی میں اپنا سکون اور اپنی خوشی میں دوسرے کے سکون کو یقینی بنانے کے رفتہ رفتہ از خود عادی ہوجائیں گے۔ بصورت دیگر اسمبلی انتخابات کے کسی بھی چونکانے والے نتائج بس سیاسی نفع اور نقصان تک محدود رہیں گے۔
(مضمون نگار یو این آئی اردو کے سابق ادارتی سربراہ ہیں)
[email protected]